آٹھ لوگوں کی دولت آدھی دنیا کے برابر

دائیں سے بائیں وارن بفٹ، بل گیٹس اور جیف بیزوس (اے ایف پی)

عالمی خیراتی ادارے آکسفیم نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے صرف آٹھ میگا امیر لوگوں کے پاس دنیا کی نصف آبادی جتنی دولت ہے۔

یا کے صرف آٹھ میگا امیر لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے جتنی بقیہ نصف دنیا کی آبادی کے پاس۔

یہ حیرت انگیز انکشاف عالمی خیراتی ادارے آکسفیم کی رواں ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

’99 فیصد لوگوں کے لیے معیشت‘ نامی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی انسانی معیشت کی بنیاد رکھی جائے جو صرف چند لوگوں کی بجائے ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہو۔‘

ان آٹھ لوگوں میں چھ امریکی ہیں اور یہ سب کے سب مرد ہیں۔ ان کے نام اور دولت کا تـخمینہ کچھ یوں ہے:

جیف بیزوس: 110 ارب ڈالر

بل گیٹس: 106 ارب ڈالر

برنارڈ آرنالٹ: 106 ارب ڈالر

وارن بفٹ: 84 ارب ڈالر

مارک زکربرگ: 70 ارب ڈالر

امانسیو اورٹیگا: 70 ارب ڈالر

لیری ایلیسن: 67 ارب ڈالر

کارلوس سلم ہیلو: 62 ارب ڈالر

ان آٹھ لوگوں کے نام تو بڑی آسانی سے گوگل کر کے تلاش کیے جا سکتے ہیں، لیکن اس وقت دنیا میں موجود ان تین ارب 87 کروڑ 34 لاکھ لوگوں کے نام کسی فہرست میں موجود نہیں ہیں جن کی مجموعی دولت ان آٹھ سے کم ہے۔ البتہ اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی اکثریت افریقہ اور ایشیا میں بستی ہے اور ان کا بہت بڑا حصہ عورتوں پر مبنی ہے۔

دولت کی غیر مساوی تقسیم سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اس بارے میں آکسفیم نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے اس سے ہمارے معاشرے کا بنیادی ڈھانچے کو زمیں بوس ہونے کا خطرہ ہے۔ اس نے برطانیہ میں بریگزٹ اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کو عدم مساوات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے اس کے باعث نسل پرستی اور مرکزی دھارے کی سیاست سے بیزاری جیسے رجحانات پیدا ہو رہے ہیں۔

سابق امریکی صدر براک اوباما نے اقوامِ متحدہ میں بطور صدر آخری تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ دنیا کبھی بھی مستحکم نہیں رہ سکتی جہاں ایک فیصد لوگ بقیہ 99 فیصد کے برابر دولت کے مالک ہوں۔‘

دنیا میں ہمیشہ سے دولت مند اور غریب موجود تھے اور ازل سے غریب زیادہ اور امیر کم رہے ہیں۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ غریبوں کی شرح بڑھتی چلی جا رہی ہے اور امیرو ں کی دولت کی شرح اسی تناسب سے بڑھ رہی ہے۔ اور ورلڈ بینک کے مطابق اس عدم مساوات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اسی طرح آئی ایم ایف نے بھی خبردار کیا ہے کہ دولت کی عدم مساوات ترقی اور معیشت کی نشو و نما پر برا اثر ڈالتی ہے۔

بشکریہ: انڈپنڈینٹ اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں