‘استور کے عوام کو ان کے ملکتی زمینوں سے محروم کرنے کی سازش ہو رہی ہے’

پورے گلگت-بلتستان کو نیشنل پارک میں تبدیل کیا جارہا ہے؛ انسانوں کو جنگلی حیات کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، ننگا پربت اور ہمالیہ پارکوں کے نوٹیفیکشن کو واپس لیا جائے، استور کے عمائدین کا مطالبہ

بام جہان رپورٹ

گلگت:حکومت ننگا پربت اور ہمالیہ نیشنل پارکس دنیا کا واحد پارک ہے جس میں انسانوں کو جنگلی حیات کے طور پر نیشنل پارک کا حصہ بنایا گیا ہے اور عوام کی ملکیتی اراضی اور جنگلات کو نیشنل پارک کا حصہ بنایا گیا ۔ جس کا شدید ردعمل سامنے آئیگا۔

ان خیالات کا اظہار استور کی عمائدین کے ایک وفد نے جمعرات کے روز یہاں گلگت پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

عمائدین میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں مولانا عبدالسمیع، عباس موسوی، مظفر ریلے، عبدالرحمن ثاقب، قاسم شہزاد، کاشف بونجوی و دیگر شامل تھے۔

استور کے عمائدین جمعرات کے روز گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

خیال رہے وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ مہنے گلگت بلتستان کی نو منتخب اسمبلی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دو مزید پارکوں کا اعلان کیا تھا. جس کی باقاعدہ نوٹیفکشن حال ہی میں جاری کیا گیا ہے۔ اس پر گلگت-بلتستان کے لوگوں بالخصوص استور کے عوام میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عوام سے مشورہ کئے بغیر ان پارکوں کا اعلان کیا گیا ہے جو بنیادی انسانی حقوق اور مقامی قوانین کی صریحا خلاف ورزی ہے۔

استور کے عمائدین کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے ناسمجھی میں نیشنل پارک کےقیام کا نوٹفکیشن جاری کیا ہےجس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی مشترکہ ملکیتی زمین، جنگل اور آبادی کو ننگاہ پربت نیشنل پارک اور ہمالیہ نیشنل پارک میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ نیشنل پارکس لاکھوں ایکڑ عوامی ملکیتی زمینوں پر کس قانون کے تحت بنائے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئنی و قانونی طور پر دیکھا جائے تو نیشنل پارک کے قوانین عوامی ملکیتی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہیں۔

استور کے عوام کا مطالبہ ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کمیونٹی کنزرویشن ایریا کا ماڈل اپنایا جا ئےتاکہ عوامی ملکیتی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور ماہر قانون عباس موسوی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پہلے جو تین نیشنل پارکس بنائے گئے ہیں وہ مکمل بنجر اراضی ہے ان میں نہ آبادی ہے اور نہ جنگل موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارک کا اعلان کرنے سے پہلے ضلع استور کے عوام کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

استور میں پہلے سے کنزرویشن کمیٹیاں موجود ہیں. نوٹیفیکشن جس کنزرویشن کمیٹی کا دستخط دیکھایا جا رہا وہ بھی جعلی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قمری اور منی مرگ کے سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں نے اس نوٹیفیکیشن کو مکمل مسترد کردیا ہے۔

عباس موسوی نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر رائج پانچ قسم کے کنزرویشن پالیسیاں موجود ہیں۔ ان پالیسوں کے تحت کسی بھی علاقے میں جہاں پر عوامی ملکیتی زمین ہو، اس پر نیشنل پارک نہیں بنایا جاسکتا۔ پاکستان میں جتنے بھی نیشنل پارک بنائےگئے ہیں وہ ریاست کی زمین پر بنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ اور بیوروکریسی نیشنل پارک کا ماڈل گلگت بلتستان میں نافذ کر کے یہاں کی ملکیتی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے دعوای کیا کہ گلگت بلتستان کے خلاف بہت بڑی سازش ہورہا ہے۔ پورے گلگت بلتستان کو نیشنل پارک بنانے کیلئے یہ پہلا قدم ہے۔

ان عمائدین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کیلئے چوکس رہیں ۔ اور آپس میں اتحاد پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نہ تو اس نام نہاد کٹھ پتلی حکومت اور اس کے وزراء کو علاقے کی تاریخ اور متنازعہ حیثیت کے بارے میں ادراک ہے نہ گلگت بلتستان کےعوامی مسائل سے کوئی سرو کارہے۔ بیوروکریسی نے بند کمرے میں بیٹھ کر نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اور عوام کو ملازمتوں اور خوشحالی کےسبز باغ دیکھا رہے ہیں۔

ضلع استور میں ایک انچ زمین بھی خالصہ سرکار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حقوق کو کسی بھی صورت سلب ہونے نہیں دینگے۔

ہم اپنے آباو اجداد کی ملکیتی زمینوں کو کسی صورت کوڑی کے داموں فروخت کرنے نہیں دینگے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت جلد استور گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور قوی حقوق کے لیے جدوجہد کی جا ئےگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ کسی صورت خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے عوام کے ساتھ سڑکوں پر آیئنگے۔

پیپلز پارٹی گلگت- بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے بھی پچھلے دنوں اس مسئلے پر ایک احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ادارے گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور جنگلی حیات کے تحفظ کے نام پر عوامی ملکیتی زمینوں، چراگاہوں، آبی و معدنی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں. ان کو ہم خبر دار کرنا چاہتے ہیں کی وہ اس منصوبہ سے بعض آجائیں ورنہ عوام اٹھ کحرے ہونگے اور اس کے خلاف ایک بھر پور تحریک چلائیں گے.

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیج پہ لکھا ہے کہ ایک سرکاری ریکارڈ کے مطابق حکومت نے گلگت-بلتستان کی کل رقبہ (72،496 مربع کلومیٹر) میں سے 33،000 مربع کلو میٹر کو محفوظ ( protected areas) علاقہ قرار دیا جوٹوٹل رقبے کا 47 فیصد بنتا ہے جو کہ موجود نئے پارکس کے نوٹیفکیشن سے قبل کے اعداد و شمار ہے. اب دو نئے پارکس کو ملا کے کل پروٹیکٹیڈ ایریا 52 فی صد بنتا ہے.

انہوں نے لکھا ہے کہ گلگت بلتستان کا 24 فیصد رقبہ گلیشیر سے ڈھکا ہوا ہے 9.4 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں؛ صرف 2 فیصد رقبہ زیر کاشت ہے.
گلگت بلتستان کی 20 لاکھ آبادی کے لیے صرف 2 فیصدرقبہ مختص ہے. بقیہ 2 فیصد رقبے کو زیر کاشت لانے کے لیے حکومت انٹرنیشنل فنڈ برائے زرعی ترقی (IFAD) کی Economic Transformation Initiative (ETI) کے نام پر دو ارب روپے کی بیرونی امداد کے ذریعے گلگت بلتستان میں موجود غربت کے خاتمے کے لیے عرصہ دراز سے کوشاں ھے۔

انہوں نے سوال کیا کہ جس خطے کا 52 فی صد رقبہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مختص ہو، 24 فیصد رقبہ گلیشیر سے ڈھکا ھو
9 فیصد رقبے پر جنگلات ہوں، صرف 2 فیصد رقبہ 20 لاکھ عوام کے لئے مختص ہو اور بقیہ رقبہ کو خالصہ سرکار قرار دیکر عوام کو ان کے ذریعئہ معاش سے محروم کیا جائے تو اس پر احتجاج نہ کریں تو اور کیا کریں؟

اس کے برعکس حکومتی وزراء بیوروکریسی کے غلط اقدامات کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں. اگر وہ بغیر کسی تحقیق کے اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کی بجائے گالیوں اور دھمکیوں کا سہارا لیں تو ان حالات میں گلگت بلتستان عوام کے پاس کٹ پتلی حکمران کے سامنے سینہ سپر ھونے کے علاؤہ کوئی اور راستہ نہیں۔

امجد ایڈووکیٹ نے لکھا ہے کہ "عوامی طاقت کے سامنے کٹ پتلی راج کی کوئی حیثیت نہیں آپ کو نیشنل پارک کا جعلی نوٹیفکیشن واپس لینا ہوگا”

اپنا تبصرہ بھیجیں