اسکردو میں گلگت بلتستان کی آئینی حقوق، اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے احتجاج

نمائندہ خصوصی

گلگت بلتستان بچاؤ تحریک کے زیر اہتمام یادگار چوک سکردو پر گلگت بلتستان کے آئینی حقوق، سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور قدیمی تجارتی راستوں کی بحالی کیلئے احتجاجی مظاہرہ ہوا ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ گلگت بلتستان کو تنازعہ کشمیر کے تناظر میں خودمختار ی دینےکے علاوہ حکومت پاکستان کے پاس صوبائی حیثیت دینے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ۔

مظاہرے سے گلگت بلتستان یوتھ الائینس کے چئیرمین شیخ حسن جوہری ، شبیر مایار،کنوینئر گلگت بلتستان بچاو تحریک، محمد حسین عابدی، رہنماء بلتستان یوتھ فرنٹ، محمدعلی دلشاد ترجمان عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان، آخوند غلام محمد چیئرمین مزدور یونین بلتستان، رازق علوی رہنماء بالاورستان نیشنل فرنٹ، کامریڈ توصیف صدر بلتستان اسٹوڈینٹس فیڈریشن پنجاب ڈویژن نے خطاب کیا۔

ان رہنماوں کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان آرٹیکل 257 میں تبدیلی کے ذریعے صوبائی سیٹ اپ کا خواب دیکھ رہا ہے ۔ جبکہ گلگت بلتستان کے عوام پچھلے بہتر سالوں سے اپنے آئینی حقوق کیلئے دربدر ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے باسیوں کی احساس محرومی واستحصال کی سب سے بڑی وجہ یہاں کے قدرتی وسائل اور زمینوں پر بیرونی دراندازی اور قبضہ ہے۔

ان رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ گلگت بلتستان مقدمہ کشمیر کا ایک اہم فریق اور حصہ ہے اسلئے اس خطے کے عوام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا.

انہوں نے کہا کہ 20 اپریل 1927ء کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست کشمیر 84471 مربع میل کی خودمختاری کو بیرونی دراندازی اور مداخلت سے محفوظ رکھنے کیلئے اسٹیٹ سبجیکٹ رول لاگو کیا تھاجسے اقوام متحدہ نے اپنے مختلف قراردادوں میں کشمیر کی خودمختار حیثیت کے ساتھ برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا جا چکا ہے۔

اس کے باوجود ایک طرف پاکستان کا عدلیہ سمیت پارلیمان اور اسٹبلشمنٹ گلگت بلتستان کو متنازعہ کشمیر کا حصہ گردانتے ہیں تو دوسری جانب خود مختار حیثیت اور اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی خالاف ورزی کرتے ہوئے یہاں کے قدرتی وسائل کا بندر بانٹ کررہے ہیں ۔

ان رہنماؤں کا ماننا ہے کہ نام نہاد عبوری صوبائی حیثیت کے اعلان سے خطے میں استحصالی نظام مزید مضبوط ہونگے، عوام مزید احساس محرومی کے شکار ہونگے البتہ ریاست پاکستان کیلئے یہاں کے قدرتی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع میسر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا تنازعہ کینسر کے موزی مرض کی طرح ہے جسے جتنا چھیڑے اتنا ہی مزید پیچیدگی بڑتی جائے گی۔ پاکستان اس مرض کی باربار ناتجربہ کار معالجوں کے ذریعے جراحت کر کے مشکلات میں اضافہ کرنے کے بجائے بین الاقوامی اداوں نے اس رستے ہوئے زخم کی جراحت کے لئے جو ہدایات دی ہیں ان پر عمل درآمد کریں، جس سے ملک کی بنیادیں مضبوط ومستحکم ہوں گی۔

مقررین نے مزید کہا کہ کتنی عجیب بات ہے آئین پاکستان کے دائرے میں عوامی ورکرز پارٹی اور پی ٹی ایم کے کارکنوں پر گذشتہ نومبر کو مظاہرے کرنے کی پاداش میں اے ٹی اے اور غداری کے مقدمات درج ہوئے جسے اسلام اباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک ہفتے کے اندر بنوک قلم رد کرتے ہوئے مظاہرین کو باعزت بری کرنے کا حکم دیا تھا اور متعلقہ مجسٹریٹ کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ” آپ کس طرح پر امن مظاہرہ کرنے پر انسداد دہشت گردی کے دفعات لگا سکتے ہیں۔ کیا ریست اتنی کمزور ہے کہ ایک مظاہرے سے خطرے میں پڑ جائیگی”۔

جبکہ سانحہ عطاء آباد کے متاثرین کے حق میں احتجاج کرنے والے بابا جان اور افتخار کربلائی اور دیگر 9 سیاسی کارکنوں کو انہی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے 70 سال قید کی سزا سناتے ہیں ۔

ان رہنماؤں نے کہا کہ سرزمین بے آئین کے باسیوں کے ساتھ یہ سراسر امتیازی سلوک ہے ۔

ان رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف تمام جھوٹے مقدمات اور ان کی سزائیں ختم کی جائے۔

ان رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ خطے کی اقتصادی حالت کو سنوارنے کیلئے قدیمی تجارتی راستوں کی بحالی ناگزیر ہے ۔ آخر میں چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج اختتام پذیر ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں