اسیران ہنزہ جمعہ تک رہا ہوں گے: امجد حسین ایڈووکیٹ

علی آباد میں عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماء بابا جان اور دیگر اسیران کی رہائی کے لئے دھرنا دوسرے روز بھی جاری، احتجاج کی گونج پورے گلگت-بلتستان میں سنائی دینے لگی

بام جہان رپورٹ


/> پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین علی آباد میں اسیران کی رہائی کے لئے احتجاجی دھرنا کے شرکاء سے خطاب کر رہے ہیں [/caption]

ہنزہ: عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی رہنماء بابا جان، علیم، افتخار کربلائی اور ان کے دیگر ساتھی اگلے تین دنوں میں رہا ہوں گے اور اپنے خاندان والوں سے ملیں گے.
اس بات کا انکشاف پیپلز پارٹی گلگت-بلتستان کے صدر اور اسیران کے وکیل امجد حیسن ایڈووکیٹ نے منگل کے روز علی آباد میں جاری دھرنا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
امجد ایڈووکیٹ نے کہا کہ "ہمیں بتایا گیا ہے کہ اسیران میں سے چند نوجوان اگلے تین دنوں میں رہا ہوں گے اور باقی کی جلد رہائی کے لئے بھی کوششیں کریں گے”.
انہوں نے بھی اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ بابا جان سمیت دیگر نوجوان بے گناہ ہیں اور ان کے ساتھ بدترین ناانصافی ہوئی ہے.
انہوں نے کہا کہ اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنا کوئی جرم نہیں.

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تمام اسیران رہا نہیں ہوئے تو وہ خود گھڑی باغ میں دھرنا دیں گے.
انہوں نے عالمی شہرت یافتہ انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کی گلگت-بلتستان کے محکوم عوام اور بالخصوص بابا جان اور اسیروں کی رہائی کے لئے ان کی خدمات کا بھی ذکر کیا.
یوں کی رہائی کے لئے اٹھنے والی آواز کی گونج اب پورے گلگت-بلتستان میں سنائی دینے لگی۔

منگل کے روز علی آباد میں دھرنا کے شرکاء کی بڑی تعداد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے پر عزم نظر آئے ،اور گلگت-بلتستان کے کئی سرکردہ سیاسی رہنماء اسیروں کے ساتھ یکجہتی کے لئے آئے- ان رہنماوں میں گلگت -بلتستان ایکشن کمیٹی کے رہنماء سلطان ریئس، جاوید حسین، عرفان حیدر جون، اور تحریک انصاف کے امیدوار میر نواز میر شامل تھے۔

دھرنا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان رہنماؤں نے یقین دہانی کیا کہ وہ اسیران کی رہائی کے لئے بھر پور کوشیش کریں گے۔

اسکردو میں ترقی پسند وطن دوست تنظیموں اور گلگت-بلتستان بچاؤ تحریک کے زیر اہتمام ایک جلوس یادگار چوک سے حسینی چوک تک نکالا گیا۔ جلوس کے شرکاء کی قیادت گلگت-بلتستان بچاؤ تحریک کے کنوینر شبیر مایار، پیپلز پارٹی کے سرگرم رہنماء اور روندو کے حلقے سے گلگت-بلتستان اسمبلی کے امیدوار نجف علی، آصف ناجی اور دیگر رہنماء کر رہے تھے.
انہوں نے بابا جان اور افتخار کے بینرز اور پلے کارڈز آٹھائے ہوئے تھے جن پر اسیروں کی رہائی، ان پر قائم جھوٹے مقدمات کا خاتمہ اور گلگت-بلتستان سے انسداد دہشت گردی کے کالے قانون کو واپس لینے کے مطالبات شامل تھے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ 11 اگست کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر لایا جائے، قیدیوں کو رہا کیا جائے اور ان پولیس افسر ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے مبینہ طور پر باپ بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

ہنزہ-نگر بار ایسو سی ایشن کی ہڑتال

درین اثنا ہنزہ نگر بار ایسو سی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ بدھ کے روز اسیران کی رہائی کے لئے ہڑتال کریں گے اور تمام عدالتی کاروایئوں کا بائیکاٹ کریں گے.
ایک نوٹس کے ذریعے ہنزہ نگر بار اسو سی ایشن کے صدر غلام حسین ایڈووکیٹ نے بار کے تمام وکلاء اراکین کو مطلع کیا ہے کہ علی آباد میں جاری اسیران کے اہل خانہ اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی دھرنا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ایک دن ہڑتال کریں گے اور ہنزہ نگر کے تمام عدالتی کاروایئوں کا بائیکاٹ کریں گےاور دھرنا مین شریک ہوں گے.

بابا جان اور اس کے ساتھیوں کا معاملہ 25 ستمبر سے ایک بار پھر میڈیا اور سوشل میڈیا پر نمایاں ہوا جب ان کی پارٹی نے ان کوسزا سنانے کی برسی کے موقع پر سوشل میڈیا پر مہم چلائی اور بابا جان اور اسیروں کو رہا کرو کا پوسٹ ٹویٹر پر ٹرنڈنگ کیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں