افتخارحسین طویل ترین سزا کاٹنے والا بہادرسیاسی کارکن

تحریر: احسان علی ایڈووکیٹ

Ehsan Ali Advocate

افتخار ایک خاموش اور گمنام قسم کا سیاسی کارکن رہا ھے جو ہنزہ میں عوام کی طرف سے ھونے والی کم و بیش ہر سیاسی اجتماع اور مظاہرے میں بھرپور شرکت کرتا رہا ھے 11 اگست 2011 کے علی آباد میں عطاآباد متاثرین کے خلاف ریاستی کریک ڈاون اور دو متاثرین باپ بیٹے کے قتل اور متعدد افراد کو زخمی کرنے کے خلاف ہنزہ کے عوام کی شدید ردعمل اورعوامی طاقت کے ذریعے پولیس انتظامیہ کو ہنزہ سے بھاگنے پہ مجبور کرنے والی ہزاروں لوگوں کی جدوجہد میں وہ پیس پیش رہا اس عوامی مزاحمت کو کچلنے کیلئے کالونیل انتظامیہ اور ریاستی اداروں نے بعد ازاں اپنی رٹ بحال کرنے کے بعد کل 15 FIRs مقامی لوگوں کے خلاف درج کئے جو کہ ایف آئی ار نمبر 18 سے ایف ائی آر نمبر 32 تک شامل ہیں. ان میں سے ایف آئی ار نمبر 18 سے لیکر 24 تک پہ مقدمات چلا کر ان میں مختلف لوگوں کو سزائیں دی گئیں جبکہ باقی ایف ائی آر انتظامیہ نے ابھی تک سیل کیا ھوا ھے ان میں سے ایف آئی ار نمبر 19 ، 20 اور 21 کے تین مقدمات میں افتخار حسین کو بھی ملوث کیا گیا ھے ایف آئی آر 19 علی آباد بازار میں بنک کے سامنے پولیس کا نہتے متاثرین پہ لاٹھی چارج اور فائرئنگ کرکے باپ بیٹے کو قتل کرنے والے واقعے ھے. مگر پولیس نے سارا الزام مظاہرین پہ لگا کر پرچہ درج کیا اس مین افتخار اور دوسرے دو اور متاثرین جو باپ بیٹے کے پولیس ڈی ایس پی اور اسکے گن مین کے ہاتھوں قتل کے چشم دید گواہ تھے انہین گواہی سے روکنے کیلئے کیس میں ملوث کرکے گرفتار کیا ایس ایف آئی آر میں افتخار کو انسداد دھشت گردی کورٹ نے19 سال کی سزا دی ھے جس کے خلاف اپیل چیف کورٹ میں زیر سماعت ھے ۔ایف آئی آر نمبر 20 تھانہ علی اباد پہ حملے کے الزام پہ مبنی ھے جس میں افتخار اور بابا جان سمیت دیگر سزا یافتہ افراد شامل ہیں جس میں عمر قید اور دیگر مختلف مدت کی سزائیں دی گئیں ہین جس کے خلاف نظر ثانی سپریم اپیلٹ کورٹ میں زیر سماعت ھے۔۔جبکہ ایف آئی ار 21 جو ایس ایچ او ہاوس پہ حملے کا کیس ھے جس میں بھی افتخار اور بابا جان سمیت متعدد افراد کو عمر قید اور دیگر سزائیں دی گئی ہیں جس کے خلاف اپیل چیف کورت میں زیر سماعت ھے
جبکہ ایف آئی ار 21 جو ایس ایچ او ہاوس پہ حملے کا کیس ھے جس میں بھی افتخار اور بابا جان سمیت متعدد افراد کو عمر قید اور دیگر سزائیں دی گئی ہیں جس کے خلاف اپیل چیف کورت میں زیر سماعت ھے۔

ان تینوں مقدمات میں سے کسی ایک کیس میں بھی کوئی ایک چشم دید گواہ بھی افتخار کے خلاف پولیس پیش کرنے میں ناکام ھوئی ھے محض پولیس تشدد کے ذریعے انوسٹیگیشن کے دوران تیار کی گئی نام نہاد اقبالی بیانات جو کہ اعلی عدالتوں نے بار بار ایسی اقبالی بیانات کو ناقابل اعتبار قرار دیکر مسترد کیا ھے مگر افتخار اور دیگر قیدیوں کو سزائیں دی گئیں.
افتخار حسین واحد سیاسی قیدی ہے جو گزستہ آٹھ سالوں سے ناکردہ گناہ کی سزا کاٹ رہا ہے اور آج تک ضمانت بھی کسی عدالت نے نہین دی اس طرح وہ 20 اگست 2011 کو گرفتاری سے لیکر ابھی تک مسلسل 8 سالوں سے جیل میں ھے۔
افتخار کی سب سے بری خوبی یہ ھے کہ وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارتا وہ ڈٹا ھوا ھے اور دوسرے قیدیوں کو بھی حوصلہ دیتا ریتا ھے ۔
جہاں تک عدالتی فیصلوں کا تعلق ھے گلگت بلتستان کی عدالتوں مختلف افراد کے مابین مقدمات ھوں تو کوئی خاص مسلئہ پیدا نہیں ھوتا جیسے تیسے فیصلے ھو جاتے ہیں کیونکہ اس قسم کے مقدمات میں کالونیل انتظامیہ مداخلت نہیں کرتی مگر جب ایک ایکزیکٹیو آرڈر کے تحت قائم عدالتوں میں جہاں ججوں کی تقرری ایک انتہائی غیر شفاف طریقے سے صرف بڑے سرکارسے وفاداری کی بنیاد پہ کی جاتی ھوں اور ان ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع بھی سرکار کی مرضی پہ ھو تو ایسے عدالتی نظام میں سیاسی مقدمات کے فیصلے میرٹ اور قانون کے مطابق ھونا کسی طرح ممکن نہیں ھے اور گلگت بلتستان میں ایک انتہائی مضحکہ خیز قسم کا ایک ریموٹ کنٹرول عدالتی نظام ا س لئے قائم کیا گیا ھے تاکہ اپنے مطلب کے مقدمات میں اپنی مطلب کے فیصلے حاصل کئے جا سکے جو کہ جی بی میں اس کی واضع مثال 11 اگست 2011 کی ہنزہ میں کالونیل بیوروکریسی کے خلاف شاندارعوامی مزاحمت کو کچلنے کیلئے انتقامی بنیاد پہ بنائے گئے جھوٹے مقدمات میں حاصل کئے گئے متنازعہ فیصلے ہیں-
ان مقدمات میں ریاست اپنی پوری مشینری اور وسائل کے استعمال اور پولیس گواہوں پہ زبردست دبائو کے باوجود اپنی مطلب کی جھوٹی گواہی ریکارڈ نہ کراسکے-
اسی وجہ سے چیف کورٹ کے بنچ نےانسداد دھشت گردی کورٹ کے فیصلوں کو غلط قراردیکر تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دیا تھا مگر کنٹریکٹ پرمقررکردہ ایک انتہائی متنازعہ جج جس کو قبل ازیں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے نااہلی اور کرپشن کی بنیاد پہ نکال دیا تھا، کو اسلام آباد سرکار نے گلگت بلتستان کی سب سے بڑی عدالت کاچیف جج مقرر کیا تاکہ اس نااہل اورکرپٹ جج سے اپنی مرضی کے فیصلے کرائے جاسکیں.
واضع رہے کہ اس جج کے خلاف آجکل مقامی وکلاء کی درخواست پہ سپریم اپیلٹ کورٹ میں ملازمتوں اورتعمیراتی کاموں میں کرپشن کی تحقیقات کر رہی ھے.
اب اسلام آباد سرکار نے سابقہ نااہل جج کی جگہ ایک اور جج کا تقرر کیا ھے جس کی تقرری کو گلگت بلتستان کے وکلاء کے منتخب اداروں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا ھوا ھے مگر بار بار موقع دینے کے باوجود وفاقی حکومت اپنی جواب عدالت میں پیش نہیں کر رہی بلکہ اٹارنی جنرل مختلف بہانوں سے تاریخیں لے رہا ھے-
صاف ظاہر ہے کہ کالونیز کے اندر عدالتیں انصاف دینے کیلئے نہیں بلکہ کالونیل نظام کی سہولت کار کے طور پہ کام کرتی ہیں۔

احسان علی غلگت بلتستان کے سینئر وکیل اورگلگت بلتستانسپریم اپیلٹ کورٹ با کے سابق صدراور بار کونسل کے سابق چیئرمیںن رہے ہیں. وہ سیاسی کارکنوں کے مقمات لڑتے ہیں.

افتخارحسین طویل ترین سزا کاٹنے والا بہادرسیاسی کارکن” ایک تبصرہ

  1. اگر اپنی ماں اور سوتیلی ماں میں فرق نہ ہوتا تو یہ دنیا ایک بڑی ہی خوبصورت جگہوں میں سے ایک جگہ ہوتی۔ اگر آزاد اور مقبوضہ علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ ایک جیسا ہی سلوک کیا جاتا تو پھر حاکم اور محکوم قوموں میں جھگڑے کی کبھی ہی نہ آتی۔ حقائق کو سامنے رکھ کر اور سچ جان کر اس مطلبی اور خود غرض دنیا میں جینا سیکھو ورنہ بہتر سال مزید انہیں بھول بھلیوں میں گزر جائیں گے۔ جو حکمران اپنے ملک کے عوام کو دھوکے پہ دھوکے دیتے ہیں اور بار بار دے چکے ہیں وہ یا ان کے کاسہ لیس گلگت بلتستان کے لوگوں کو کیا انصاف دیئں دے گے؟۔

اپنا تبصرہ بھیجیں