افسر شاہی: نو آبادیاتی رویئے اور قوانین

۔
تحریر: ولید بابر ایڈووکیٹ

گزشتہ دنوں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ضلع باغ کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) نے سفر کے دوران اوورٹیک کرنے کے الزام میں ایک ٹیکسی ڈرائیور سے بدتمیزی کی اور مبینہ طور پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس قسم کے واقعات پاکستان اور اس کت زیر انتظام علاقوں میں آئے دن اکبارات کی زینت بنتے ہیں اور لوگ اسے بھل جاتے ہیں۔

بظاہر ایسے الزامات فوجداری قوانین کے زمرے میں نہیں آتے ، اگر آتے بھی ہوں تب بھی، ڈی سی کے پاس خود سے موقع پر ہی سزا دینے کا اختیار نہیں ہے۔ ملزمان کے جرم یا بے گناہی کا اندازہ لگانے کے مقصد کے لئے مختلف عدالتوں کی ایک درجہ بندی قائم کی گئی ہے۔

یہ واقعہ مبینہ طور پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔اگر ڈرائیور نے ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسا کیا ہو جس میں ڈرائیور پر ذیادہ سے ذیادہ جرمانہ عایئد کیا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم سترہویں صدی میں نہیں جی رہے جہاں آقا اور ان کے حاشیہ بردار انسانوں کو اپنا غلام سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے تھے، ڈپٹی کمشنر نے اپنے پیشرو قبضہ گیروں کی تربیت اور روایات کے مطابق لوگوں کو غلام سمجھنے اور ایک عام شہری کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا اور اس پر اسے کوئی شرمندگی اور پشیمانی بھی نہ ہوئی۔

اس نے خود کو یہاں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی جھوٹی انا، غیر انسانی اور عوام دشمنی کا مزید ثبوت دیتے ھوے پولیس کو ذاتی طور پر ہدایت کی کہ ملزم کو مزید تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ اس کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی درج کی جاۓ ۔پولیس نے بھی یہ جانے بغیر کہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں ڈپٹی کمشنر کے حکم کو ہی قانون سمجھتے ہوئے اسے غیر قانونی طور پر تھانے میں بند کر دیا اور ایک دن بعد پیسے لے کر اسے رہا کیا گیا۔

ایک قوم پرست تنظیم کے کارکنان نے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے اپنے شعور کے مطابق احتجاج کیا اور ڈپٹی کمشنر کے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدام کے خلاف آواز بلند کیں تو انھیں فرضی اور من گھڑت الزامات پر گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔اس طرح ضلع پونچھ کی تحصیل تھوڑاڑ سے موصول ہونے والی خبر کے مطابق ایک سیاسی کارکن کو ایس ایچ او کے خلاف احتجاج کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا جس نے اس کے بےجا اختیارات کے استعمال پر بات کرنے کی جرآت کی تھی۔

یہ بڑا المیہ ہے کہ بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین جن کا بنیادی فریضہ معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنا اور قانون کی بالا دستی قائم کرنا ہوتا ہے، خود بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماورائے قانون اقدامات میں ملوث ہوتے ہیں۔ انہیں غیر قانونی اقدام کرنے پر کسی قسم کی تادیبی کاروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اختیارات کا بے جا استعمال کر کے عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے بجاے ان پر ظلم و جبر اور خوف کی علامت بن کر راج کرتے ہیں۔ بیوروکریسی (نوکر شاہی) اور سول انتظامیہ، جو عام عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں پاتے ہیں ‘انہی سے آقا کی طرح پیش آتے ہیں۔ ان کی تربیت، معیار ، تعلیم اور حتٰی کہ قوانین ابھی تک فرسودہ اور عوام دشمن ہیں ۔بلکہ نوآبادیاتی عہد کی باقیات سے تشبیہ دی جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

مجموعی طور پر نام نہاد آزادی کے 73 سال گزرنےکے باوجود ‘یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے ان نوابادیاتی دور کے قوانین اور نوکر شاہی کے سٹرکچر اور کلچر میں کوئی خاطر خوا  تبدیلی لانے میں ناکام  رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ وردی، مونوگرام، نعرے بازی، تربیت اور تفتیش کے طریقہ کار وغیرہ تک ویسا ہی بوسیدہ ہیں’ جو برطانوی نو آبادیاتی حکمرانوں نے متعارف کرائے تھے ۔

آپ کے لئے یہ ایک حیرت زدہ کرنے والی حقیقت ہوسکتی ہے کہ پنجاب پولیس (دیگر صوبوں میں بھی) کے اعلی عہدے کی تربیت کے کورس میں ایک باب عوام کو گالیاں دینے کے متعلق موجود ہے۔ جس میں انھیں سکھایا جاتا ہے کہ عام لوگوں کو بے عزت کرنا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک برتنے کے لیے کیا کیا ہھتکنڈے استعمال کیئے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ بیوروکریسی خود کو عوام سے الگ تھلگ رکھتی ہے۔ کیوں کہ ان کی تربیت اسی طرح کی جاتی ہے تاکہ عوام پر ان کی دھونس برقرار رہ سکے ۔

جب کبھی بھی ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو ہم کچھ دن اپنے غم و غضہ کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر جیسے ہی ہمیں کوئی نیا واقعہ وقوع پزیر ہوتا ہے  تو پچھلے والا معاملہ کو کھائی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ تاریخ افسر شاہی کی بد سلوکی، بے جا طاقت کااستعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے بھری پڑی ہے۔ اس کے باوجود تاحال زمانہ قدیم کے” قوانین برائے افسر شاہی” (سول سرونٹ ایکٹ) میں نہ کوئی اصلاحات یا ترامیم کی گئی ہیں اور نہ ہی کوئی نیا مسودہ متعارف کروایا گیا ہے۔

اگرچہ میں عمومی طور میں عدالت کی جانب سے سو موٹو (از خود) نوٹس کا حامی نہیں ہوں لیکن پھر بھی، ایسے معاملات جو بنیادی حقوق کی پامالی سے متعلق ہوں، عدالیہ کی مداخلت  کا جواز بنتا ہے۔ عدالتوں کو ایسے واقعات کو بلاجواز نظر انداز نہیں کر دینا چاہئے جو تعصب، مفاد عامہ سے متصادم اور عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی  اور اپنے ائینی حدود اور اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہوں۔ درحقیقت عدالتوں کو ایسے ابہام اور قانونی نقائص کے بارے میں زیادہ دلچسپی لینی چاہئے جو استثنیٰ کے بہانے ذمہ داریوں سے  مبرا ہونے  اور سزا سے بچنے کے لئے محفوظ راستہ فراہم کرتی ہے۔

یہ ایک دوہری ذمہ داری ہے جو حکمران طبقہ اور عام عوام پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ مقننہ کا بنیادی فریضہ نئے قوانین مرتب کرنا، ایسی ترامیم جو عصر حاضر سے موافق ہوں متعارف کروانا، سابقہ قوانین جو بنیادی انصاف کے اصولوں کے منافی ہوں کا خاتمہ اور تمام نوآبادیاتی قوانین جو انسانی اقدار سے مطابقت نہ رکھتے ہوں کا خاتمہ کرنا شامل ہے۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ ایک "قومی کمیشن برائے قانونی اصلاحات” تشکیل دے تاکہ موجودہ قانونی نظام اور نوآبادیاتی قوانین میں موجود سقم اور خامیوں کا پتہ لگایا جا سکے اور ایسے تمام قوانین کو یکسر کالعدم قرار دیا جائے جو بنیادی حقوق، بین الاقوامی اصولوں، یا انسانیت سے متصادم ہوں۔ ایک ایسی عوامی پالیسی مرتب کی جائے جس کے مطابق ایسے تمام سرکاری ملازمین جو بدتمیزی، بدسلوکی، مختار کل’ اختیارات کے ناجائز استعمال یا عوام سے بد سلوکی کے مرتکب پائے جائیں انھیں فلفور ملازمت سے برخواست کر دینا چاہیے۔

عام لوگوں پر بھی لازم ہے کہ جب وہ کسی سماجی مسئلے کو اٹھائیں تو اس وقت تک کھڑے رہیں جب تک کہ کوئی بنیادی قانون سازی نہیں ہو جاتی اور حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ کے ذریعہ کسی قانون / بل کی منظوری کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ سرکاری، انتخابی، عدالتی، انتظامی اور مقامی حکام پر معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی دباؤ کو برقرار رکھیں تاکہ فوری طور پر ازالہ کرتے ہوئے نوآبادیاتی پالیسیوں کو یکسر ترک کرتے ہوئے ایک نئے منصفانہ، عادلانہ اور یکساں نظام عدل کے قیام کی طرف پیش رفت ہو جاتی۔ کیونکہ جب تک ہم چھوٹی چھوٹی فتوحات حاصل نہیں کرتے ہم بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے. سیاسی کارکنوں کو چاہئے کہ وہ عام لوگوں کو ان کے بنیادی انسانی، جمہوری اور آئینی حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔


ولید بابر ایڈووکیٹ بیریسٹر ایٹ لاء کے طالب علم ہیں اور کنیڈا میں مقیم ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں