اللہ کی زمین پر اللہ کے بندوں کا مساوی حق غیر اسلامی کیسے؟

تحریر: عنایت بیگ

عنائیت بیگ

اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و نظر کا انقلاب
بادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں ! !

(علامہ محمد اقبال از ارمغان حجاز )

پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی زمینوں کی تقسیم, نجی زمین رکھنے کا حق اور شرح ایک اہم سیاسی معمہ رہا ہے. اس ضمن میں شروع کے سالوں میں کئی ایک قانونی و اصلاحاتی کوششیں بھی کی گئیں جو کہ ناکام ہوئیں. سرحد کے دوسری طرف ہندوستان نے 1948ء سے ہی جاگیردارانہ نطام کا خاتمہ شروع کیا تھا.

ایوب خان نے 50ء کی دہائی کے اواخر میں پہلی مرتبہ باقاعدہ زرعی اصلاحات کا قانوں نافذ کیا اور زمین رکھنے کی زیادہ سے زیادہ شرح 500 ایکڑ سیراب شدہ اور 1،000 ایکڑ غیر سیراب شدہ زمینیںمقرر کیا گیا. تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے بڑے زمینداروں اور جاگیرداروں نے اس قانون سے بچنے کے لئے اپنے قبضے کی زمینوں کو اپنے اولاد کے نام پر 500 اور 1،000 ایکڑ کی شرح سے تقسیم کیا, بعض موقعوں پر ایسی اولاد کے نام بھی زمینیں الاٹ کی گئیں, جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں.

ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے لینڈ ریفارمز کا نیا قانوں نافذ کیا گیا. بھٹو نے 1972ء میں سیراب شدہ زمین رکھنے کی زیادہ سے زیادہ شرح 150 ایکڑ اور غیر سیراب شدہ زمین رکھنے کی شرح کو 300 ایکڑ تک محدود کیا. بھٹو کے اس عمل سے چھوٹے کسان کو ضرور فائدہ پہنچا مگر بیوروکریسی کے زمینوں کے ریکارڈز میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کرتے ہوئے بڑی حد تک اپنے آپکو ان اصلاحات سے بھی بچانے میں کامیابی حاصل کی.

بھٹو کا خیال تھا کہ لینڈ ریفارمز انہیں اور ان کی پارٹی کو اس ملک کی واحد سیاسی حقیقت کے طور پر زندہ رکھے گی, لہذا 1977ء میں دوسری مرتبہ لینڈ ریفارمز کی گئیں جس میں سیراب شدہ زمین رکھنے کی زیادہ سے زیادہ شرح کو 150 سے کم کر کے 100 ایکڑ تک محدود کیا گیا. 77ء کی مڈ ٹرم الیکشنز میں بھٹو کو یقین تھا کہ وہ غریبوں اور محنت کشوں کے عظیم رہنما بن چکے ہیں مگر وہ نہ صرف اتنخابات سے گئے بلکہ اپنی زندگی سے بھی محروم کر دئیے گئے.

پھر ضیا الحق کا دور آیا… آتے ساتھ ہی انہوں نے ایک نیا اور عدلیہ کے متوازی ادارہ کھڑا کر دیا, جس کا نام شریعت کورٹ رکھا گیا. شریعت کورٹ کا بنیادی کام عدلیہ کو دینی معاملات میں رائے مشورہ دینا رکھا گیا تھا, مگر ضیائی دور میں تعمیر کردہ یہ ادارہ مشورہ بازی تک کیسے محدود رہتا, اس کا اثر رسوخ عدلیہ کو بری طرح متاثر کرتا رہا. شریعت کورٹ کے اپنے وجود کے بعد فوری طور پر لینڈ ریفارمز کے قانون کے خلاف کاروائیاں شروع کیں. بالآخر 89ء میں مفتی تقی عثمانی اور پیر کرم شاہ کی قیادت میں فیڈرل شریعت کورٹ نے زمینوں کی منصفانہ تقسیم و اصلاحات (لینڈ ریفارمز) کو "غیر اسلامی” قرار دیا. ایوب و بھٹو کہ اصلاحات ہوا ہوگئیں, سول و ملٹری بیوروکریسی, سیاستدان, جج, مُلا زمینوں پر بے اختیار قبضے کے حقدار ہوگئے اور آج سارا پاکستان مٹھی بھر اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہے.
عوامی ورکرز پارٹی کے بانی صدر جناب ّبد حسن منٹو نے سات سال قبل سپر یم کورٹ آف پاکستان میں انتخابی آصلاحات اور زرعی اصلاحات کے کے لیے اور متوازی شریعت اپیلٹ کورٹ کے ٍفیصلے کو چیلنج کیاتھا. سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات پر فیصلہ سنایا اور حکم دیا تھا کہ عام لوگوں کے بنیادی ینسانی حق اور جمہوری عمل میں شرکت کو یقینی بنانے کے لئے اصلاھات پر عملدرآمد کروایا جئے اور انتخابی اخراجات کو قبل ذکر حد تک کم کیا جا سکے. مگر آج تک نادیدہ قوتوں کے دباءو کے نتیجے میں نہ تو انتخابی اصلاحات کے قانون پر عملدرامد ہوا اور نہ ہی زرعی اصلاحات کے پیٹیشن کی کوئی سماعت ہوئی ہے.
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے آج سے چار سال قبل منٹو صاحب کو دعوت دیا تھا کہ وہ اس اہم مسئلے پر ان کی رہنمائی کریں اور وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں سے ایک مہنے کے اندر جواب طلب کیا تھا. مگر اج تک اس پر کویئ پیشرفت نہیں ہو سکا.

بنیادی نکتہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کی زمین پر چند طاقتور لوگون کی اجارہ داری کو شریعت کورٹ نے جائز قرار دیا اور زمین کی منصفانہ تقسیم کو غیر اسلامی گردانا….. مگر آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں شریعت کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں, ماسوائے ایک غیر معروف بائیں بازو کی جماعت (عوامی ورکرز پارٹی) کے. عوامی ورکرز پارٹی سوشلسٹ نظریات کی حامل جماعت ہے جو اللہ کی زمین پر اللہ کے لوگوں کے مساوی حق کی لڑائی لڑ رہی ہے, مگر سوشلسٹوں کو کافر, ملحد, لادین اور اسلام دشمن ماننے والی سوچ کا نمائندہ ادارہ (شریعت کورٹ) اللہ کی زمین پر اللہ کے بندوں کے مساوی حق کو غیر اسلامی قرار دے چکا ہے.

آج یہ سوال سبھی کے لئے اہم ہو گیا ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے لوگوں کے مساوی حق کا مطالبہ غیر اسلامی کیسے ہو سکتا ہے؟

عنایت بیگ بام دنیاء اور ہائی ایشیاء ہرالڈ کے سندھ بیورو چیف ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں