الیکشن سے غذریوں کے توقعات

فدا علی شاہ غذری

گلگت بلتستان سیلف گورننس آرڈر کے تحت بننے والی دوسری جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کر نے کے بعد رخصت ہو گئی.اور اس کی جگہ بارہ رکنی نگران کابینہ بھی تشکیل دیا گیا ہے جس کا کام 8 اگست کو آذادانہ اور شفاف انتخابات کروانا ہے۔گزشتہ حکومت کی کارکردگی کو پرے رکھ کر اُس کو اپنی مدت پوری کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہو ئے صرف اتنا عرض کروں گا کہ حفیظ الرحمن بڑے چالاک و زیرک وزیراعلیٰ ثابت ہوئے. اور اگلے کئی دہائیوں کے لئے اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنا لیا ہے کہ گلگت بلتستان کے کسی بھی ضلع میں اپنے احباب (جو سر کاری محکموں میں کھپائے گئے ہیں) کے ذریعے اپنا کام نکلوا سکتا ہے۔

نگران وزیراعلیٰ کو مبارکباد کیساتھ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اور ان کی ٹیم آزادانہ اور شفاف الیکشن کروانے کے لئے تمام محکموں کے سربراہوں بشمول ڈی سی کو ضلعوں سے تبادلے کیروائیں گے. نیز وزراء پر اپنے اپنے حلقوں میں سیاسی سرگرمیں اور انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کریں گے.۔

یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ آنے والے الیکشن سے گلگت بلتستان کےعوام باالعموم اور غذر کے باالخصوص کیا توقعات رکھتے ہیں اور کس قسم کے نمائندے وہ منتخب کرنا چاہیں گے جو ان کے مسائل حل کر نے میں موثر کردار ادا کر یں۔

یہ بات نہایت تکلیف دہ ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کےدو ملین عوام گزشتہ بہتر سالوں سے ایک غیر یقینی، مایوسی اور احساس محرومی سے دوچار ہیں.یہاں تک کی مقامی سطح پر اپنے معاملات چلانے میں بھی کوئی خود مختاری نہیں، آذادی اظہار رائے کی صورتحال بہت مخدوش ہے. منتخب نمائندوں کی بیورو کریسی کے سامنے بے بسی اور لوگوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے لوگوں میں ذہنی کوفت اور گم وغصہ میں اضافہ ہوتا جا رہا یے۔

اگر صورتحال کو اسی طرح جاری رکھا گیا اور لوگوں کے احساسات اور محرومیوں کا ازالہ نہیں کیا گیا تو اس کے خوفناک نتائج نکل سکتے ہیں. دراصل گلگت بلتستان کے ساتھ مسلسل زیادتی ریاست پاکستان کے ساتھ اصل غدداری ہو گی. لہذاضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں اقوام متحدہ کے قراردادوں کی روشنہ میں لوکل اتھارٹی یا سیلف رول کو ممکن بنائا جائے، اور حق حکمرانی لوگوں کو دیا جائے اورایک آذاد اور بااختیار حکومت کا قیامعمل میں لایا جائے تاکہ وہ خطے کے بنیادی و آئینی مسائل پرکُھل کر رائے کا اظہار اور متوازن حل دے سکے . تاکہ لوگوں کے مشکلات اور احساس محرومی میں کمی آجائے.۔ حکومت کے سربراہ یعنی وزیراعلیٰ کو صرف یہ آزادی نہ ہو کہ وہ اپنے بندے تھوک کے حساب سے سر کاری ملازمتوں میں کھپا سکے اور ٹھیکوں کی بندر بانٹ اور کمیشن کے ذریعے خوب مال کما سکے۔ س قسم کی پالیسی کی وجہ سے خطے میں معاشی و سماجی بحران کو مزید بڑھاوا دے سکتی ہے لیکن لوگوں کی محرومی اور قومی سوال کا جواب نہیں بن سکتی۔

آخر میں ضلع غذر کے عوام کے مشکلات اور الیکشن سے تواقعات پر مختصراً روشنی ڈالتے ہوئےعرض ہے کہ یہاں کے باسیوں کی قربانیوں کے صلے میں یہاں ایک ایسی ٍفضاء قائم کی جارہی ہے جو مستقبل میں مزید بحرانوں اور مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ یہاں پر غیر ذمہ دار سرکاری کارندے جان بجھ کر عوام اور انتظامیہ کے درمیان بدگمانیاں اور تناو ما ماحول پیدا کیا جا رہا ہے سیاستدانوں کو کھل کر گالیاں دی جارہی ہیں، کسی بھی جائز مطالبے کو غلط رنگ دیا جاتا ہے، ہر تحریر اور تقریر کو خاص زاویئے سے دیکھااور پر کھا جارہا ہے، مسلکی ہم آہنگی اور امن جو کہ غذریوں اور غذر کی جان ہوا کرتی تھی وہ کم ہوتی جارہی ہے اور یہاں بھی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگی ہیں جو فی الحال کہیں اور سے لا کر پھینکی جارہی ہیں، منشیات کا کاروبار عروج پر ہے مقامی طورپرتیار ہو نےوالی شراب، افیوں، چرس کا کاروبار عام ہے،. نوجوان لڑکیوں اور شادی شدہ عورتوں کا اغوا کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر قانون کے رکھوالے بے بس نظر آتے ہیں.
زمینوں پر قبضہ عام ہے تو سود کا کاروبار بھی عروج پر ہے، یہاں کے نوجوانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور آزادی اظہار رائے اور بنیادی حقوق کی آواز یا اداروں پر تنقید برائے اصلاح شجر ممنوعہ بنا دیا گیا ہے؛ سرکاری عہدوں پربراجماں لوگ خود کو قانون، آئین اور ریاست سے مبرا سمجھتے ہیں اور عوامی شکا یات کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہوتا.

درجہ بالا تمام مسائل سے اس وقت غذر کا ہر شہری بلاامتیاز دوچار ہے۔ ان تمام تر مسائل کا حل صرف اور صرف اُس وقت ممکن ہے جب سب مل کر ایک مزاحمتی تحریک کو پیدا کریں اور مخلص اور نڈر قیادت کو اغے لائیں. جو ریاستی ذمہ داروں کو اُن کے فرائض منصبی پر عمل کر نے کے لئے دباؤ ڈال سکے۔ مزاحمت سےمراد کسی غیر قانونی، غیر آئینی اور ریاست پاکستان کے مفادات کے خلاف عمل کی طرف اشارہ ہر گز نہیں بلکہ لوگوں کے حقوق کے لئے اُصولوں کی بنیاد پر پرامن جدہوجہد، جمہوری انداز میں اختلاف رائے کا احترام بر قرار رکھ سکے، سماج میں گوناگونی کو کمزوری کی بجائے طاقت بنا سکے اور ذاتی، خاندانی، مسلکی، برادری اور تمام تر عصبیتوں سے پاک ہو ورنہ غذر کے مسائل جوں کے توں ہونگے اور یہ سر زمین ظلمت کدوں میں بدل دی جائیگی جہاں ہرشخص مصلحتوں اور خوف کے سائے میں سسک سسک کر دفن ہو جائیگا۔

ساغر صدیقی کے مَخاطب شاید ہم ہی تھے؛

بھنور آنے کو ہے اےاہل کشتی ناخدا چُن لیں
طوفانوں سے جو ٹکرائے وہ ساحل آشنا چُن لیں
زمانہ کہہ رہا ہے میں نئی کروٹ بدلتاہوں
آنوکھی منزلیں ہیں کچھ نرالے رہنما چُن لیں
یار زندہ صحبت باقی

اپنا تبصرہ بھیجیں