انسانی صحت سے متعلق نیا ٕ طرزعمل اور فکر


تحریر۔ اسرارالدین اسرار


کورونا کی وبا ٕ نے عالمی سطح پر تمام شعبہ ہاۓ زیست میں سوچنے کے ذاویئے بدل دیۓ ہیں۔ اس وبا ٕ کے پھیلاٶ کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں انداز فکر میں جو نمایاں اور انقلابی تبدیلیاں آٸی ہیں وہ حیران کن ہیں۔ خاص طور سے انسانی صحت سے متعلق روایتی طرز فکر یکسر تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ ہمارے جیسے معاشروں کی مثال لیجیے جہاں غریب اور مزدور تو وساٸل کی کمی کے باعث حفظان صحت کے اصولوں پر عملدرآمد سے قاصر تھا ہی مگر متوسط اور صاحب استطاعت لوگ بھی حفظان صحت کے اصولوں کو درخور اعتنا ٕ نہیں سمجھتے تھے۔ اب ہر فرد اپنی اور اہل و عیال کی صحت سے متعلق متفکر ہے اور صحت کے بنیادی اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تگ و دو کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کورونا کے پھیلاٶ کے بعد ہماری زندگیوں میں صحت سے متعلق رونما ہونے والی کچھ زبردست تبدیلیاں مندرجہ ذیل ہیں۔

١۔ ماسک ہماری زندگیوں میں نیا ٕ اضافہ ہے جس کی اہمیت پہلے کھبی اتنی مسلمہ نہیں تھی۔
٢۔ کسی بیماری سے متعلق ڈاکٹروں اور ماہرین کی راۓ کو اہمیت نہ دینے والے لوگ اب بڑے انہماک سے ان کو سنتے اور عمل بھی کرتے ہیں۔
٣۔ وباٶں اور بیماریوں سے متعلق وہمی اور غیر عقلی سوچ کی جگہ ساٸنسی انداز فکر پروان چڑھنے لگی ہے ۔
٤۔ لوگوں سے ہاتھ ملانے اور مختلف چیزوں کو چھونے کے بعد صابن سے ہاتھ دھونا بھی ایک نیا ٕ اضافہ ہے۔
٥۔ ہجوم کی جگہوں اور اسپتالوں میں جاتے وقت اپنی صحت سے متعلق فکر مند رہنا بھی پہلی دفعہ دیکھا گیا ہے۔
٦۔ ” احتیاط علاج سے بہتر ہے“ کا عملی مظاہرہ بھی کورونا کے پھیلاٶ کے نتیجہ میں ہوا ہے۔
٧۔ عام لوگوں کی سنیٹاٸزر نامی شے سے دوستی یا واقفیت بھی کورونا کی مرہون منت ہے۔
٩۔ سبزی فروشوں، بیکریوں، دوا خانوں ، دکانوں اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے لوگوں کو دستانے پہننے پر مجبور بھی موجودہ وبا ٕ نے کیا ہے۔
١٠۔ باہر سے گھر لاٸی جانے والی ہر چیز کو حفظان صحت کی نظر سے دیکھنے کا رواج بھی نیا ٕ ہے۔
١١۔ کسی بیماری کی علامات ظاہر ہوتے ہی فکر مند ہونے اور معالج سے رجوع کرنے کی روایت بھی پہلے کھبی نہیں تھی۔
١٢۔ بلاوجہ اور بلاضرورت لوگوں سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے کی پرانی روایت بھی کورونا کی وجہ سے دم توڑتی جا رہی ہے۔
١٣۔ مہلک وبا ٕ سے بچاٶ کے لۓسماجی فاصلہ رکھنےکی مجبوری کا سامنا بھی پہلی دفعہ ہورہا ہے۔

صرف جس چیز کی کمی ابھی بھی محسوس کی جارہی ہے وہ یہ کہ روزمرہ کی خوراک کو صحت افزا ٕ اور متوازن رکھنے سے متعلق عام لوگوں کو تاحال مکمل آگاہی نہیں ہے۔ امید ہے لوگ مذکورہ تبدیلیوں کو آٸیندہ اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے علاوہ خوارک سے متعلق بھی حفظان صحت کے اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھیں گے نیز حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ آٸندہ صحت کے شعبے اور مارکیٹ میں معیاری اشیا ٕ خوردو نوش کی دستیابی پر عملی کام کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں