انسداد دھشت گردی ایکٹ کے خاتمے اور خودمختار آئینی عدالتی نظام کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

احسان علی ایڈووکیٹ

Ehsan Ali Advocate

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے سال 2002ء میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) غیرآئینی و غیرقانونی طریقے سے گلگت بلتستان میں نافذ کیا. اس وقت سے اب تک اس وحشی قانون کے تحت گلگت بلتستان میں ہزاروں بے گناہ افراد، جن میں زیادہ تر سیاسی کارکن ہیں، کو محض شک کی بنیاد پر پکڑ کر ان پہ بہمانہ انداز میں تشدد کیا گیا. مگربعد میں وہ بےگناہ ثابت ھوگئے جبکہ ہزاروں افراد پہ اسی کالے قانون کے شیڈول 4 کے تحت مقدمات دائر کئے گئے. مگر 99 فیصد افراد عدالتوں سے باعزت بری ہو گئے.
سال 2009 میں نام نہاد سیلف گورنینس آرڈر کے نفاذ کے بعد سینکڑوں سیاسی و مذہبی جماعتوں، طلباء و نوجوان تنظیموں کے کارکنوں، سماجی و انسانی حقوق اور سوشل میڈیا کے کارکنوں، اور نوجوان وکلاء کو آن کے بنیادی حق یعنی اظہار رائے اور سیاسی سرگرمیوں سے روکنے کیلئے ان کے نام ATA کے شیڈول 4 میں رکھا جا رہا ھے. اس طرح شروع دن سے اس وحشی قانون کے تحت گلگت بلتستان میں سیاسی حقوق کے لیے آٹھنے والے آوازوں کو دبانے کے لئے ایک آلے کے طور پہ استعمال کیا جا رہاھے.
جیسا کہ ہنزہ میں متاثرین عطاء آباد کے حق میں اور پولیس کی وحشیانہ کاروایی کے نتیجے میں باپ بیٹے کے قتل کے خلاف احتجاج کرنے،گلگت اور سکردو میں زمینوں پہ جبراٰ قبضوں کے خلاف احتجاج کرنے پہ اور غذر میں معدنیات کے حقوق مانگنے پہ اور دیامر میں متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کے احتجاج پہ اسی دھشت گردی ایکٹ کے تحت جھوٹے مقدمات دائر کئے گئے.
اس کی تازہ ترین مثال سکردو میں خواتین کی طرف سے پانی کی قلت کے خلاف پرامن احتجاج کا ساتھ دینے پہ تین وکلاء کے خلاف ATA کے تحت مقدمہ درج کیا گیا.
اس طرح اس وحشی قانون کو یہاں کے عوام کی آواز کو دبانے کیلئے مسلسل استعمال کیا جا رہا ھے اسلئے گلگت بلتستان کے سیاسی و مذہبی کارکنوں، نوجوانوں اور وکلاء کو اس عوام دشمن کالے قانون کے خاتمے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ھے.


گلگت بلتستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم اپیلٹ کورٹ میں حسب سابق بڑے سرکار کے اشارے پہ فیصلے کرنے کیلئے تیار کسی کمزور چیف جج کی تقرری آخری مراحل میں ھے. دنیا بھر میں گلگت بلتستان واحد خطہ ہے جہاں کی سپریم کورٹ ٹھیکے پہ کام کرتی ھے. سال 2006ء میں اپنے قیام سے اب تک اس اعلٰی ترین عدالت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے. یہ عدالت اب تک انصاف کے نام پہ انصاف کا کھلے عام خون کرتی رہی ہے. اب ایک بار پھر تبدیلی کی سرکار بھی پچھلے حکومتوں کی طرح اس انصاف دشمن عدالتی نظام کو برقرار رکھتے ھوئے اپنے من پسند ججوں کو مقرر کرنے پہ بضد نظر آتی ھے.
پاکستان کی سپریم کورٹ کی ایک لارجر بنچ کی طرف سے گلگت بلتستان کے آئینی مسئلے پہ 17 جنوری 2019 کے فیصلے کے بعد پاکستان سے کنٹریکٹ پہ من پسند ججوں کو مسلط کرنے کا کوئی معمولی جواز بھی باقی نہیں رہا ھے. اسلام آباد سے براہ راست مسلط کردہ گورنینس آرڈرز مکمل ناکام ھو چکے ہیں. اس لئے اب ریاست پاکستان کے پاس UNCIP کی 13 اگست 1948ء کی قرارداد کے تحت گلگت بلتستان کے تمام انتظامی، معاشی، سیاسی اور عدالتی اختیارات اسلام آباد سے اٹھا کر گلگت بلتستان میں ایک آئین ساز اسمبلی کے ذریعے ایک مکمل بااختیار آئینی حکومت کو منتقل کرنا ناگزیر ہو چکا ھے.
اسلئے وکلاء تنظیموں کو اپنی آزاد عدلیہ کی جدوجہد کو ایک آئین ساز اسمبلی کے قیام کے مطالبے کے ساتھ جوڑ کر اور جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر چلانے کی ضرورت ھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں