’انڈین ہو یا پاکستانی حکومت ہمیں خوابوں میں ملنے سے تو نہیں روک سکتی‘

جنگ تو چند ہی دنوں میں ختم ہو گئی، لیکن اس نے غلام قادر جیسے بہت سے لوگوں کے لیے جو زخم چھوڑے وہ کبھی بھر نہیں سک

1971 کی جنگ کے تقسیم شدہ بلتی خاندان کی کہانی

فرحت جاوید اور عامر پیرزاده

‘میں اور میری اہلیہ 13 برس تک انتظار کرتے رہے کہ ہم ایک بار پھر مل پائیں گے، اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا جب یہ دریا میری بیوی کی لاش میرے ملک لے آیا۔’

پاکستانی فوج سے ریٹائر ہونے والے غلام قادر اب 80 کے پیٹے میں ہیں اور ان کی اہلیہ کو دفن ہوئے بھی اب کئی دہائیاں گزر چکی ہیں مگر انھیں یہ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے۔

50 سال قبل، یعنی 1970 کی دہائی میں ان کی زندگی سادہ سی تھی۔ وہ اپنے خاندان کے واحد کفیل، ماں کے چہیتے اور اپنی نئی شادی شدہ بیوی کا پیار تھے مگر یہ سب کچھ ایک ہی رات میں ختم ہو گیا، جب 1971 میں پاکستان اور انڈیا کی جنگ نے ان سے وہ سب کچھ لے لیا جس سے انھیں محبت تھی۔

شیوک اویغور زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب موت کی ندی ہے

جب دسمبر1971 میں انڈیا اور پاکستان اپنی تیسری جنگ لڑ رہے تھے تو انڈیا نے بلتستان میں واقع چلونکھا، تیاکشی، تھانگ اور ترتوک نامی چار پاکستانی دیہات پر قبضہ کر لیا اور یوں ایک نئی سرحد وجود میں آ گئی۔ خاندانوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کرتی ایک نئی لکیر!

اس جنگ کے تقریباً 50 برس بعد بھی اس کے گھاؤ بھرے نہیں ہیں۔ 13 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کے نتیجے میں بہت سے لوگ عمر بھر کے لیے جدا ہوئے۔

چلونکھا واحد گاؤں تھا جسے جنگ کےدوران اس کے باشندوں نے چھوڑ دیا تھا۔ لیکن ایک دوسرے سے جڑے باقی دیہات میں بسنے والوں کو اتنی مہلت بھی نہ مل سکی کہ وہ سرحدی علاقوں سے باہر نکل سکیں۔

غلام قادر کی اہلیہ کی لاش دریا میں بہہ کر پاکستانی علاقے میں پہنچی جہاں غلام قادر ان کے منتظر تھے

ان تینوں دیہات میں 250 سے زیادہ خاندان آباد تھے اور ان میں سے بہت سے گھرانوں کے کفیل مرد ضلع سکردو اور پاکستان کے دیگر حصوں میں ملازمت کر رہے تھے جبکہ بچے عام طور پر پنجاب کے سکولوں اور دینی مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

جب تک ان افراد کو احساس ہوا کہ ان کے اہلخانہ اب انڈیا کا حصہ بن چکے ہیں اور وہ یہ نئی لکیر کبھی عبور نہیں کرسکتے تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

سکردو میں موجود، اہنے اہلخانہ سے جدا ہونے والے کئی افراد، جو اب 70 اور 80 برس کے ہیں، اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سینکڑوں افراد پاکستان میں پھنسے ہوئے تھے۔ بچے والدین سے، بہن بھائی ایک دوسرے سے اور بیویاں شوہروں سے الگ الگ تھیں اور ان کی وطن واپسی ناممکن تھی۔

وہ جو اس وقت جوان تھے، اب عمر رسیدہ ہیں، اکثریت کے والدین اب اس دنیا میں نہیں رہے، جو کچھ کم عمر تھے، انھیں ویزوں کے حصول کی دوڑدھوپ اور پریشانی نے وقت سے پہلے ہی بوڑھا کر دیا ہے۔

غلام قادر کے پاس اپنی والدہ کی یادیں ان تصویروں کی شکل میں محفوظ ہیں جو انھوں نے سرحد پار سے بھیجی تھیں ’سرحد تو بند تھی دریا میری بیوی کو لے آیا‘
جب جنگ شروع ہوئی اس وقت اپنے گاؤں تیاکشی کے متعدد مردوں کی طرح غلام قادر بھی سکردو میں ڈیوٹی پر تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’میں اس وقت فرنٹ لائن پر لڑنے والی پاک فوج کا حصہ تھا۔ ایک کامریڈ نے مجھے بتایا کہ ہندوستان نے میرے علاقے کے تین چار دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس طرح میں نے اس گاؤں میں اپنی ماں، بیوی، بھائی، بہن، دادا اور دوسرے رشتہ دار کھوئے۔ یہاں صرف میں اکیلا ہی رہ گیا تھا۔‘ حبیبہ بیگم اپنے بھائی سے ملاقات کی امید پر زندہ ہیں ابتدا میں غلام قادر کا خیال تھا کہ جنگ جلد ہی ختم ہو جائے گی اور حکومتوں کے مابین کسی معاہدے کے بعد یا تو سارا گاؤں واپس پاکستان کو مل جائے گا یا کم سے کم اس کے کنبے کو چند کلومیٹر سفر کرنے اور پاکستان میں رہائش پذیر ہونے کی اجازت مل جائے گی۔

جنگ تو چند ہی دنوں میں ختم ہو گئی ، لیکن اس نے غلام قادر جیسے بہت سے لوگوں کے لیے جو زخم چھوڑے وہ کبھی بھر نہیں سکے۔

انڈیا سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائے شیوک کے کنارے بیٹھتے ہی غلام قادر نے بلتی زبان کی ایک اداس دُھن گنگنانے لگے۔ ان کی آنکھیں نم اور ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ تھی۔ اچانک انہوں نے اتنی بلند آواز میں سرگوشی کی کہ پاس بیٹھا ہر شخص سن سکتا تھا۔

’میں اپنی بیوی کے لیے شاعری کرتا تھا، ملن کے گیت گاتا تھا، ریڈیو پر فون کر کے گیت سناتا تھا، یہاں نئی سرحد پر دریا کے کنارے اور اپنے گاؤں کی جانب اونچی آواز میں گیت گاتا کہ کیا خبر وہ میری آواز ہی سُن لے، مجھے لگتا ہے کہ جب میری آواز اس تک پہنچی تو اُس نے دریا میں کُود کر مجھ تک پہنچنے کی کوشش کی تھی۔‘

12 برس تک قادر اور ان کی اہلیہ ملنے کے لیے کوشاں رہے لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ غلام قادر کی اہلیہ کی لاش اسی دریا میں بہہ کر پاکستانی علاقے میں پہنچی جہاں غلام قادر ان کے منتظر تھے۔


وہ ہمیں اس وادی میں لے کر گئے جہاں ان کی اہلیہ دفن ہیں۔ وہ سارا راستہ مسلسل بولتے رہے مگر دریائے شیوک کے دو کناروں کو آپس میں جوڑتے، ہوا میں لہراتے پُلوں میں سے ایک پر پہنچتے ہی وہ ایسے خاموش ہوئے جیسے کبھی بولے ہی نہ ہوں۔

ہ ہمیں اس مقام پر لے گئے جہاں برسوں پہلے ان کی اہلیہ کی پانی میں تیرتی لاش ملی تھی۔ غلام قادر نے کہا کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کو زیورات اور سکارف سے شناخت کیا جو انہوں نے اپنے بیوی کو تحفے میں دیے تھے۔

شمشیر علی کو اپنے بھائی کے زندہ ہونے کی خبر پاکستانی ریڈیو کے ایک پروگرام کے تحت ملی

’میری بیوی نے پاکستان آنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہیں آ سکیں۔ آخرکار وہ دریائے شیوک میں کود پڑیں یا شاید دریا ہی اسے یہاں لے آیا اور اس کی لاش مجھ تک پہنچی۔ میں نے انھیں یہیں پاکستان میں دفن کیا۔‘

آج بھی وہ اس دریا میں دُور سے نظر آتی انڈیا کے زیر انتظام وادی کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے اپنی نئی نویلی دلہن کو ڈوبتے دیکھ رہے ہوں۔ ان کے چہرے کی جھریاں ایسے شخص کی داستان سناتی ہیں جس کی زندگی میں سب کچھ کھو دینے کے بعد اب امید کا سِرا بھی چھوٹنے کو ہے۔

حافظ بلال کو اپنے ہی خاندان سے ملے چار دہائیوں سے زیادہ مدت بیت گئی ہے

وہ کہتے ہیں۔ ’دریائے شیوک کا بہتا ہوا پانی مجھے اپنے پیاروں کی یاد دلاتا ہے، جو بہت پہلے کھو گئے تھے۔ 50 سال تک اپنے خاندان سے الگ رہنا کوئی معمولی بات نہیں۔ جو اس تکلیف سے گزرتے ہیں وہی اس درد کو جانتے ہیں۔‘

’ہم دونوں روتے رہے اور پھر کال منقطع ہو گئی‘
برسوں تک غلام قادر کی ان کے اہلخانہ سے رابطہ صرف خطوط کے ذریعے ہی ہوتی تھی۔ انھوں نے پھر کبھی اپنی ماں کو نہیں دیکھا۔

دو دہائی قبل اپنی والدہ سے پہلی ٹیلیفون کال کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’میں ماں کی آواز سننے کے لیے کافی وقت سے کوشش کر رہا تھا۔ یہ ممکن نہ تھا کیونکہ پاکستان سے انڈیا فون کال کرنے پر پابندی عائد تھی۔ پھر ایک دن مجھے فون آیا۔ فون پہ دوسری طرف میری والدہ تھیں۔ یہ واحد وقت تھا جب میں نے ان کی آواز سنی۔ ہم دونوں روتے رہے اور پھر کال منقطع ہو گئی۔‘

غلام قادر نے ہمیں اپنی والدہ کی وہ تصاویر دکھائیں جو انھوں نے 1990 میں اپنے خطوط کے ساتھ بھیجی تھیں۔

یہ تصاویر ان کے پاس اپنی والدہ کی واحد نشانی ہیں۔ غلام قادر نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ایک تصویر اٹھائی ، جیب سے رومال نکالا اور دھول صاف کی۔ پھر بند آنکھوں اور گالوں پہ بہتے ہوئے آنسوﺅں کے ساتھ اپنی والدہ کی تصویر کو بوسہ دیتے ہوئے بولے ’جب وہ زندہ تھیں تو میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکا۔ میں ان کی تصویر کو اپنے نماز کے مقام کے ساتھ ہی رکھتا ہوں۔ جب بھی میں نماز کے لیے جاتا ہوں تو دن میں پانچ بار ان کی تصویر کی طرف دیکھتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی ان تصاویر کو دیکھنے میں صرف کر دی ہے۔ یہ تکلیف دہ ہے۔‘

چاہے وہ غلام قادر ہوں یا حافظ بلال، محمد چو ہوں یا نذیر، یہ لوگ ٹیکنالوجی سے نابلد ہیں

اہلیہ کے انتقال کے بعد غلام قادر نے سکردو میں شادی کر لی اور اب یہاں وہ اپنے نئے کنبے کے ساتھ رہتے ہیں، جو پاکستان کے ساتھ ان کا واحد تعلق ہے۔ وہ روزانہ باغیچے میں بیٹھ کر اپنے بچوں کو اپنی کہانی سناتے ہیں۔

بظاہر ان کا بیٹا، ان کی زندگی میں راحت کا واحد ذریعہ ہے لیکن وہ بھی ان کے ان آنسوؤں کو روکنے میں، جنھوں نے ان کے والد کو طویل عرصے سے تکلیف میں مبتلا رکھا ہے، ان کی مدد نہیں کر سکتا۔

اس کا کہنا تھا ’کاش میں ان کے لیے کچھ کرسکتا۔‘ ان کے بیٹے نے ایک سال پہلے ایک واٹس ایپ گروپ کا پتہ لگایا اور سرحد پار اپنے کزنز سے رابطہ کیا۔ اس رابطے کے نتیجے میں غلام قادر اب اس مکان، جہاں غلام قادر اپنے آبائی مکان کی ویڈیوز اور اپنے خاندان کے لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

’ہم خوابوں میں ملتے ہیں‘
جنگ کے خاتمے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ، جناب ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے غلام قادر بولے ’بھٹو نے مجھے بتایا کہ قبضہ شدہ دیہات کو واپس لینے کے لیے پاکستان کو یا تو جنگ لڑنی ہوگی یا بہت طویل مذاکرات کرنا ہوں گے۔ اس نے کچھ نہیں کیا۔ میں حکومتوں کو فون کرتے اور ان کو خطوط لکھتے لکھتے تھک چکا ہوں۔‘

فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد غلام قادر نے اپنے خاندان والوں سے ملاقات کے لیے انڈیا کا ویزا حاصل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن انھیں انکار کر دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ سرحد پار ان کے خاندان والوں کو پاکستان نے بھی ویزا نہیں دیا۔

وہ کہتے ہیں ’ہم خوابوں میں ملتے ہیں۔ میں انھیں اپنے خوابوں میں دیکھتا ہوں۔ نہ ہی انڈین اور نہ ہی پاکستان کی حکومت مجھے ان کے خواب دیکھنے سے روک سکتی ہے۔ کیا وہ روک سکتے ہیں؟‘

’بھائی سے ملاقات کی امید پر زندہ ہوں‘
60 برس سے زیادہ عمر کی حبیبہ بیگم غلام قادر کی چھوٹی بہن ہیں۔ وہ تیاکشی میں ہی رہتی ہیں جو اب انڈیا کا حصہ ہے۔ وہ 1971 کے بعد سے اپنے بھائی سے نہیں مل پائی ہیں لیکن انھوں نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ 48 برس سے میں اپنے بھائی سے نہیں ملی۔ میری ماں اس کا انتظار کرتے کرتے مر گئی مگر میں اپنے بھائی سے ملاقات کی امید پر زندہ ہوں میں اس سے ملے بغیر مرنا نہیں چاہتی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس جدائی کی وجہ سے میری ہمت ٹوٹ گئی ہے لیکن ملاقات کی ہماری امید کبھی نہیں ٹوٹے گی۔‘

اپنے گاؤں پر انڈین فوج کے قبضے کے بارے میں بات کرتے ہوئے حبیبہ نے بتایا ’جس رات انڈین فوج نے ہمارے گاؤں پر قبضہ کیا ہم بہت ڈرے ہوئے تھے۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا کریں گے۔ ہم کئی دنوں تک اپنے گھروں سے باہر بھی نہیں نکلے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گاؤں پر انڈین قبضے کے باوجود انھیں امید تھی کہ ان کا بھائی ایک دن واپس آئے گا لیکن ’پانچ دہائیاں گزر گئی ہیں میری آنکھیں اس کی راہ تک رہی ہیں۔‘

غلام قادر کی اہلیہ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک دن غلام قادر سفید پرچم لے کر سرحد پر آیا تھا اور وہاں وہ اہنی بیوی بانو سے ملا تھا اور اس سے اصرار کیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ پاکستان چلے لیکن بانو نے منع کر دیا تھا۔ ’وہ خوفزدہ تھی کہ اگر چلی گئی تو انڈین فوج اس کے خاندان کو تنگ کرے گی۔‘
سکردو ریڈیو کے ایک گانے سے امید بندھی‘
شمشیر علی غلام قادر کے بھائی ہیں۔ اپنے گاؤں پر انڈین فوج کے قبضے برسوں بعد بھی وہ اپنے بھائی کی خیریت کے بارے میں لاعلم تھے اور پھر ایک پاکستانی ریڈیو سٹیشن کی وجہ سے انھیں امید ملی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’پاکستانی ریڈیو سٹیشن پر ایک گانا بجا۔ اس پیغام کے ساتھ کہ یہ تیاکشی گاؤں کے غلام قادر کی طرف سے ہے۔ ہم ریڈیو کی آواز بڑھانے کے لیے بھاگے اور پھر ہم سب رونے لگے۔ یوں ہمیں ریڈیو سکردو کی مدد سے علم ہوا کہ ہمارا بھائی زندہ ہے۔‘

شمشیر علی نے بھی غلام قادر کی اہلیہ کو ان سے ملوانے کی کوشش کی تھی۔ ان کے مطابق وہ بانو کو اپنے ساتھ سرینگر اور پھر دلی لے گئے تھے، ان کا پاسپورٹ بنوایا لیکن انھیں بھی پاکستان کا ویزا نہیں مل سکا تھا۔’

شمشیر اپنی بھابھی کی ہلاکت اور ان کی لاش کے پاکستانی علاقے میں پہنچنے کا واقعہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’بانو 24 اگست 1983 کو دریا عبور کرتے ہوئے پانی میں بہہ گئی تھی۔ ہم کئی دن اس کی لاش تلاش کرتے رہے مگر ناکام رہے۔ پھر ہم نے فوجی چوکی کی مدد سے پاکستان میں قادر کو پیغام بھیجا اور دس دن بعد تین ستمبر 1983 کو غلام قادر نے اپنی اہلیہ کی لاش دریا سے نکالی۔‘

شمشیر کا کہنا ہے کہ’کیا بدقسمتی ہے کہ وہ میاں بیوی زندگی میں مل نہ سکے اور جب ملے تو بانو کے جسم میں جان باقی نہیں تھی۔‘

بانو کی ہلاکت کے بعد شمشیر نے خود بھی اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے پاکستان جانے کی کوشش کی لیکن انھیں ویزا نہیں مل سکا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا اور پاکستان دونوں ظالم ہیں۔ انھوں نے کشمیر اور پنجاب میں راستہ کھولا ہے لیکن ہم رشتہ داروں کو آر پار آنے جانے کے لیے اجازت نہیں دی۔‘

تاہم 18 برس بعد ان بھائیوں نے ملاقات کا ایک طریقہ نکال ہی لیا۔
شمشیر نے بی بی سی کو بتایا ’ مجھے بھائی کا خط ملا کہ وہ حج کے لیے جا رہا ہے۔ میرے لیے مشکل وقت تھا میں نے دوستوں رشتہ داروں سے ادھار لیا اور حج کے لیے رقم جمع کروائی اور یوں میں اپنے بھائی سے مکہ میں ملا۔

’والدہ کی آخری جھلک کئی دہائیوں کی دُوری بھی دھندلا نہ سکی‘
شمشیر علی اور غلام قادر کی ملاقات تو ہو گئی لیکن تیاکشی سے ہی تعلق رکھنے والے حافظ بلال کو بھی 48 سال پہلے کا وہ دن آج بھی ایسے یاد ہے جیسے کل ہی کی بات ہو۔ وہ اس دن آخری بار اپنی والدہ سے ملے تھے۔

ان کی یاد میں ان کی والدہ کی آخری جھلک ہے جسے کئی دہائیوں کی دُوری بھی دھندلا نہیں سکی ہے۔ تب ماں اور بیٹا دونوں ہی لاعلم تھے کہ اب آخری سانس تک وہ کبھی نہیں مل پائیں گے۔

‘ان کی نظریں مجھ پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ میرا دل چاہا میں واپس امی کی پاس بھاگ جاؤں، میں رو رہا تھا اور امی بھی’۔

یہ 1970 کی گرمیاں تھیں جب بلال اپنے گاؤں تیاکشی سے پنجاب کے شہر فیصل آباد آ رہے تھے۔ ان کی عمر اس وقت صرف سات سال تھی۔ وہ اپنی ماں، بہن بھائیوں اور دوستوں سے دُور نہیں جانا چاہتے تھے۔ وہ دوست جن کے ساتھ وہ اس چھوٹے سے گاؤں کی گلیوں میں بھاگتے دوڑتے یا ندی سے مچھلیاں پکڑتے تھے یا دور بنے ایک میدان میں بڑی عمر کے لڑکوں کو پولو کھیلتے دیکھتے تھے۔

تاہم ان کی والدہ نے ایک دن پہلے انھیں کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ بلال مدرسے میں پڑھیں۔ ‘امی کہتی تھیں کہ تم قرآن کی تعلیم سیکھو، اور ایک اچھے مسلمان بنو گے’۔
لال کہتے ہیں کہ انھیں فیصل آباد میں واقع مدرسے تک پہنچنے میں ایک ہفتے کا سفر کرنا پڑا تھا اور یہاں پہنچتے ہی وہ 1971 کی چھٹیوں کا انتظار کرنے لگے جب وہ واپس اپنے گاؤں جا سکیں گے۔ ان کے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ اب ملاپ کے اس لمحے کا انتظار ان کا مقدر بن چکا ہے۔

ایک سال میں ہی مدرسے میں حافظ بلال عربی زبان کا قاعدہ اور نماز کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔ ایک دن ان کے والد انھیں لینے مدرسے پہنچ گئے۔ بلال کو اس وقت سیاست یا جنگوں کا تو علم نہیں تھا مگر آج ان کے ذہن میں شہر پر تیزی سے اڑتے جنگی جہازوں کی شبییہ اور گھن گرج محفوظ ہے۔

اس سال کچھ تو مختلف تھا۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ جاری تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے والد نے انھیں بتایا کہ ’والدہ میرے لیے بہت پریشان ہیں اور انہیں لگتا تھا کہ پنجاب میں بہت بمباری ہو گی۔‘

چند دن بعد وہ سکردو پہنچے تو ان کے گاؤں میں نئی سرحد بن چکی تھی اور نئی سرحد کا مطلب تھا نئی تقسیم!

’ہم چند دن بعد سکردو پہنچے تو معلوم ہوا کہ اب میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر کھڑی اپنی ماں سے کبھی نہیں مل سکوں گا، اس خیالی لکیر نے تو میری دنیا ہی بدل دی۔‘

اب بلال اپنے والد کے ہمرہ سکردو میں رہائش پذیر ہوئے اور ان کے دیگر بہن بھائی اپنی ماں کے ساتھ تیاکشی میں۔ 48 برس بیت گئے، ان میں سے کوئی فرد بھی دوبارہ نہیں مل سکا۔

’کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم دنیا کے بدقسمت ترین لوگ ہیں۔ چند کلومیٹر کی یہ سڑک، ایک پل نہیں کھل سکتا کہ ہم اپنے اہلخانہ سے مل سکیں۔ ہم میں سے آدھے تو پہلے ہی مر گئے ہیں جو اپنی تمام عمر انتظار میں بیٹھے رہے، دعا مانگتے رہے کہ دونوں ملک ویزا کے حصول میں ہی نرمی کردیں، یہ دونوں طرف کی حکومتیں ہمارا کچھ تو خیال کر لیں، مگر کوئے ہماری مدد کو نہیں آیا۔‘

پاکستان اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے درمیان چلنے والی بس سروس کا ذکر کرتے ہوئے حافظ بلال کہتے ہیں کہ ’یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہماری ایک نسل ملنے کی آس لیے پہلے ہی مر چکی ہے۔ ہم تو صرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جو سہولت بس سروس کی شکل میں باقی کشمیر کو دی گئی ہے وہی ہمیں بھی دیں۔

’مجھے اپنے ہی خاندان سے ملے چار دہائیوں سے زیادہ مدت بیت گئی ہے۔ محض ایک پل جتنا ہی تو فاصلہ ہے۔ مگر اب مجھے لگتا ہے کہ مرنے کے بعد ہی ان سب سے مل سکوں گا۔‘
’مجھے پتھر تک یاد آتے ہیں‘

چلونکھا 1971 کی جنگ کے دوران انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر آخری گاؤں تھا۔ غلام قادر اور حافظ بلال کے برعکس محمد چو اور ان کے گاؤں والے خوش قسمت تھے کہ جنگ شروع ہونے پر انھوں نے اپنے اس گاؤں کو خالی کر دیا تھا۔

محمد چو تب ایک نوجوان تھے، وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے ان کے گاؤں میں اعلان کروایا کہ گاؤں خالی کیا جائے اور خواتین، بچوں اور بزرگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا جائے۔

’ہم تین دن تک اپنے گھروں میں رہے۔ پھر ہمیں نشانہ بنانے کے لیے انڈین فورسز نے گولہ باری شروع کر دی۔ ہم ترتوک، کے لیے روانہ ہوئے جو کہ چھ میل دور تھا۔ سردیوں کا موسم تھا اور مسلسل بارش ہو رہی تھی۔ ہم کئی دنوں تک چلتے رہے ، جب بارش ہو تی، ہم بڑی چٹانوں کے نیچے پناہ لے لیتے۔ یوں ہم نے مزید تین گاؔؤں پیچھے چھوڑ دیئے اور فارانو گاؤں میں بسیرا کیا۔

محمد چو کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہ تھی جہاں انہیں بتایا گیا کہ وہ اب واپس نہیں جا سکتے کیونکہ اب سرحد بدل گئی ہے۔ فارانو اب پاکستان کی جانب آخری سرحدی گاؤں ہے جو مکمل فوجی علاقہ ہے۔ میڈیا کو اس علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

چو اور ان کے ساتھی سات سال تک یہاں خیموں میں رہے۔ انھوں نے نئی سرحد کے کھلنے اور اپنی زمین اور مویشیوں اور گھروں کو واپسی کی اجازت ملنے کا انتظار کیا۔

سات برس بعد انھوں نے چھوٹی چھوٹی دیواروں اور مٹی کی چھتوں والے کچھ مکانات تعمیر کرنا شروع کیے۔ اس چھوٹی کالونی کو بنانے کے لیے انھوں نے پانچ ماہ تک مشقت کی۔

وہ ہمیں ان مکانوں کے بیچ تنگ گلیوں میں لے گئے۔ ’شروع میں ہم اپنی پریشانیوں اور بدقسمتی پر آنسو بہاتے تھے۔ ہر شخص پریشان تھا کہ یہاں کیسے زندہ رہنا ہے۔ ہمارے پاس ٹھہرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، دن میں جما دینے والی سردی تھی۔ کھانا تھا نہ ہی سایہ میسر تھا۔ پھر ہم میں سے آدھے لوگ (شہر کی طرف) کام کی تلاش میں نکلے اور باقیوں نے ان مکانات کی تعمیر شروع کر دی۔‘

پنی پرسکون زندگی یاد کرتے ہوئے محمد چو کی آنکھوں میں آنے والی چمک اس وقت ماند پڑ جاتی ہے جب ان کے پیچھے نچلی چھتوں والے پتھروں کے مکانات ان پر گزری تکلیفوں کی یاد دلاتے ہیں۔ آنسو پونچھتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ان کی زندگی راتوں رات بدل گئی۔ ’ہم آج تک رو رہے ہیں اورہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم بےبس ہیں! نہ یہ آسمان اپنا ہے اور نہ ہی یہ زمین ہماری ہے، جو ہمارے پاس تھا وہ اب سرحد کے دوسری طرف ہے۔‘

’میرے گاؤں کا پانی تک بیماری دور کرنے دوا کی طرح تھا۔ میرے والد کے پاس چار گھوڑے تھے جن کے ساتھ ہم پولو کھیلتے تھے۔ ہمارے پاس پیسہ، مویشی اور فصلیں تھیں لیکن آج ہمارے پاس مرغی تک نہیں ہے”۔

مزید کچھ سال وہاں رہنے کے بعد، انھوں نے تسلیم کر لیا کہ سرحد کبھی نہیں کھولی جا سکتی۔َ وہ شہر اور دیگر بستیوں میں جانے لگے مگر 48 برس گزرنے کے بعد بھی وہ پاکستانی حکومتوں سے ناخوش ہیں جنھوں نے بقول ان کے کبھی ان کی دیکھ بھال نہیں کی۔

70 سالہ محمد نذیر مقامی مہاجرین کی تحریک ‘آل مہاجرین کارگل لداخ 1971′ کے نائب صدر ہیں جو جنگ کے دوران نقل مکانی کرنے والے یا انڈیا کے کنٹرول میں آنے والے دیہاتوں کے خاندانوں سے علیحدہ ہونے والے لوگوں کے لیے مہم چلاتی ہے اور انھیں معاوضے کی ادائیگی کے لیے حکومت کو تحریری طور پر مطلع کرتی رہتی ہے۔

نذیر کا کہنا ہے کہ ’ہمیں سکردو میں زمین کا ایک ٹکڑا دیا گیا تھا لیکن یہ متنازع زمین ہے لہٰذا ہم اس کے مالک نہیں ہو سکتے۔

’ہمیں افسوس ہے کہ ہم کئی دہائیوں سے مطالبات کرتے رہے ہیں لیکن دونوں ممالک کی حکومتوں نے ہمیشہ ہمارے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ہم مستقبل کے بارے میں بھی زیادہ پر امید نہیں ہیں۔
ہم کب ملیں گے؟
گلگت بلتستان کے ضلع سکردو کے 38 سالہ رہائشی موسی چلونکھا کے والدین اس گروپ میں شامل تھے جنھوں نے 1971 دسمبر چلونکھا سے فارانو کی جانب ہجرت کی۔

جب سنہ 2009 میں موسی نے سوشل میڈیا پر اپنا اکاؤنٹ بنایا تو انھوں نے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے انڈیا میں اپنے رشتے داروں کو تلاش کرنا شروع کیا جس میں انھیں کامیابی ملی اور یہ کامیابی ہی سبب بنی اس جذبے کی، جس کی وجہ سے موسیٰ نے اپنی کوششوں میں اضافہ کیا کہ وہ بس کسی طرح سے اپنے رشتے داروں کو فیس بک پر ڈھونڈتے رہیں اور رابطہ قائم کرتے رہیں۔

فیس بک پر آنے کے پانچ برس بعد، 2014 میں موسی نے واٹس ایپ پر ایک گروپ بنایا جس میں انھوں نے سرحد کے دونوں جانب اپنے رشتے داروں اور چند دیگر احباب کو اس گروپ میں شامل کیا۔

اس گروپ کا نام انھوں نے’ہم کب ملیں گے’ رکھا۔

موسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گروپ کا آغاز کرنے کے بعد ان سے لوگوں نے رابطہ کیا اور اپنے کھو جانے والے رشتے داروں اور گھر والوں کے نام اور پتے دیے اور ان معلومات کو وہ گروپ میں انڈیا میں رہائش پذیر لوگوں کو دیتے جو انڈیا کی حدود میں واقع تین گاؤں میں ان افراد کی تلاش شروع کرتے۔

‘چند روز قبل مجھے ایک ایسے خاندان کا پتا چلا جو 1971 میں بچھڑ جانے کے بعد سے آج تک ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں تھے۔ جب میں نے ان کے فون نمبر لیے اور رابطہ کرایا، تو ان کے احساسات اور جو خوشی تھی، وہ دیدنی تھی۔ میں خدا کا شکر ادا کرتے ہوں کہ انھوں نے مجھے موقع دیا دو بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملانے کا۔’

چولنکھا گاؤں میں موسی کو ایک ہیرو سمھجا جاتا ہے، خاص طور پر گاؤں کے بڑوں میں تو وہ بہت مقبول ہیں۔ وہ اپنی اپنی ویڈیوز اور تصاویر بنا کر موسی کو دیتے ہیں کہ وہ اسے واٹس ایپ گروپ میں ڈالیں۔
چاہے وہ غلام قادر ہوں یا حافظ بلال، محمد چو ہوں یا نذیر، یہ لوگ ٹیکنالوجی سے نابلد ہیں اور انھیں اندازہ نہیں تھا کہ مواصلات کے ان ذرائع کی مدد سے وہ اپنے چاہنے والوں سے رابطہ کیسے کریں لیکن موسیٰ کی مدد سے اب وہ اپنے بچھڑے ہوئے خاندان سے رابطہ کر پائے ہیں۔

پانچ اگست 2019 کے بعد کیا بدلا؟
پانچ اگست 2019 کو جب انڈیا کی حکومت نے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کیا تو یہ چاروں دیہات نو تشکیل شدہ یونین علاقے لداخ کا حصہ بن گئے جو اب خطے میں واحد بودھ اکثریتی خطہ ہے۔

انڈین حکومت کے اس اقدام کے بعد سے ان دیہات کے باسیوں کی اپنے خاندانوں والوں سے جڑنے کی امیدیں مزید موہوم ہو گئی ہیں۔

تیاکشی سے تعلق رکھنے والے غلام حسین 1997 سے لداخ کے بلتیوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں علیحدگی کا دکھ جانتا ہوں۔ میرے اپنے رشتہ دار سرحد پار ہیں اور اس فیصلے سے قبل کشمیر کے رہنما ہمیشہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان راستے کھولنے کی باتیں کرتے تھے مگر اب میں ایسا ممکن ہوتا نہیں دیکھ رہا۔‘

ان کا کہنا ہے ’ہم انڈیا اور پاکستان کی سیاست کے درمیان پس رہے ہیں۔ جب بھی حالات میں بہتری کی امید ہوتی ہے اچانک کچھ ہو جاتا ہے اور اپنے پیاروں سے ملاپ کی ہماری امید ختم ہو جاتی ہے۔‘

بشکریہ: بی بی سی اردو. یہ کہانی بی بی سی کی سیریز کراسنگ ڈیوائڈز کا حصہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں