اوکاڑہ فارمز فوج کی ملیکت نہیں، لیکن لیز فوج کے پاس ہے: فوجی ترجمان

نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کی جانب سے اوکاڑہ ملٹری فارمز کےحوالے سے ہونے والی سماعت میں کوئی نتیجہ کن فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے مزارعین کو کہا گیا ہے کہ دس دن بعد اپنا جواب این سی ایچ آر میں جمع کروائیں۔

یاد رہے کہ یہ فیصلہ ان کو پاکستان کی فوج کو بٹائی دینے کے حوالے سے لینا تھا جس پر این سی ایچ آر میں موجود مزارعین نے انکار کر دیا۔

پاکستان کی فوج کے نمائندے نے سماعت کے دوران بتایا کہ اوکاڑہ ملٹری فارمز ان کی ملکیت نہیں ہے لیکن کسانوں کو بٹائی فوج کو ہی دینی ہوگی۔

اس پر مزارعین کی طرف سے ملٹری فارمز کی ملکیت اور اس کے نتیجے میں ’مزراعین پر ہونے والے مظالم‘ یاد کروائے گئے۔
جمعرات کے روز ہونے والی سماعت میں پاکستان فوج، پنجاب حکومت، انجمنِ مزارعینِ پنجاب کے اوکاڑہ، خانیوال اور پاکپتن سے نمائندے موجود تھے۔

فوج کے ترجمان کی جانب سے زمین کی ملکیت کے کاغذات سامنے رکھے گئے جو اب مزارعین کے وکلا کے حوالے کر دیئے گئے ہیں جو ان کا جائزہ لے کر اپنا قانونی موقف کمیشن کے سامنے رکھیں گے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے مزارعین کے وکیل ایڈووکیٹ نثار شاہ نے کہا کہ ’پچھلی میٹنگ میں طے ہوا تھا کہ بٹائی آرمی کو نہیں دیں گے۔ لیکن اگر ان کی طرف سے دی گئی دستاویزات سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ زمین پر کنٹرول ہونے کی وجہ سے بٹائی فوج کو ہی دینی ہے تو پھر ایسا کرنا ہوگا۔ لیکن پہلے ہم اس بارے میں وقت لگا کر کاغذات دیکھیں گے۔‘
مزارعین کی ترجمانی سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے کی اور این سی ایچ آر کو اُن کی ہی رپورٹ میں موجود تجاویز کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ زمین پنجاب حکومت کی ہونے کے باوجود بٹائی فوج کو دی جائے؟

’1913 سے 1933 کے دوران ملٹری فارمز کی لیز ختم ہوگئی اور اس کے بعد 1933 سے 1947 تک یہ لیز نئے سرے سے فوج کی طرف سے نہیں لی گئی۔ مزارعین کی بٹائی معاف کرنے اور جیل میں بند لوگوں کی رہائی کی باتیں دور سے دیکھنے میں بہت اچھی لگ رہی ہیں لیکن اس سے کسانوں کو بانٹنے کی کوشش نہ کی جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اب تک بٹائی کے بارے میں کسانوں سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

پنجاب حکومت کی طرف سے موجود ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ سردار ریاض نے کہا ہے کہ فوج اوکاڑہ فارمز کی زمین لیز پر پنجاب حکومت سے لے چکی ہے، لہذا بٹائی فوج کو دینی ہوگی۔

اوکاڑہ ملٹری فارمز کے کمانڈنٹ بریگیڈیئر رانا فہیم نے بتایا کہ اب تک پاکستان کی فوج نے حکومتِ پنجاب کو 79 لاکھ آبیانے کے طور پر دیے ہیں۔

اور یہ کہ فوج نے یہ زمین پنجاب حکومت سے لیز پر لی ہوئی ہے۔ آبیانہ اس رقم کو کہتے ہیں جو ریوینیو کے طور پر حکومت کو دی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ 1999 سے پہلے اور بعد میں فوج آبیانہ دیتی رہی ہے۔ ’2017 اور 2018 میں انجمنِ مزارعینِ پنجاب کے نمائندوں نے خود فوج کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس میں وہ بٹائی دینے پر راضی ہوئے تھے لیکن اب انکار کررہے ہیں۔19 سال سے جب بٹائی نہیں دی ہے تو اب ان کو عادت ہوگئی ہے۔‘

بریگیڈیئر رانا فہیم نے کہا کہ پاکستان کی فوج کو کئی بار ملٹری فارمز پر اب تک ہونے والی تیسری میٹنگ میں اپنا بیانیہ بتانا پڑ رہا ہے جو کہ ’مستقل ایک ہی ہے کہ ان کو ملٹری فارمز کی ملکیت نہیں چاہیے بلکہ زمین کا کنٹرول فوج کے پاس ہونے کی وجہ سے بٹائی چاہئیے۔‘

اس پر مزارعین کی طرف سے موجود خواتین ٹیریسا نسرین اور سرتاج بی بی نے این سی ایچ آر کے چیئرمین کو بتایا کہ ’مزارعین کے ساتھ معاہدہ اور دستخط عورتوں اور بچوں کو زد و کوب کرکے اور لڑکیوں کی طلاقیں کرواکے لیے گیے تھے۔‘

ٹیریسا نسرین نے بتایا کہ اب بھی ان کے ’گاؤں میں بڑے بوڑھے نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ کہیں گرفتار نہ کرلیے جائیں۔‘

این سی ایچ آر کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) علی نواز چوہان نے آخر میں مزارعین کو اپنا جواب دینے کے لیے دس دن کا وقت دیا۔

’ہم اپنی پچھلی کہی گئی باتوں سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔ہم بلکہ چاہ رہے ہیں کہ ایک نیا معاہدہ کریں جس کی بنیاد پر پہلے ہونے والے سارے معاہدے کی کوئی قانونی ساکھ نہیں رہے گی۔‘
اوکاڑہ ملٹری فارمز 18000 ایکڑ کی زمین ہے جس میں سے 5000 ایکڑ فوج کے ہاتھ میں ہے جبکہ 13000 ایکڑ مزارعین کے پاس ہے۔

ان زمینوں پر زیادہ تر گندم، مکئی اور چاولوں کی کاشت ہوتی ہے۔ فوج کا پہلے مؤقف تھا کہ ریوینیو اتھارٹی کے مطابق زمین ان کی ہے جو برٹش راج کے بعد ان کے حصے میں آئی تھی اس لیے کسانوں کو اگائی ہوئی فصل کا کچھ حصہ بٹائی کے طور پر ان کو دینا ہوگا۔

دوسری جانب اوکاڑہ فارمز پر کاشت کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین ان کے آباؤ اجداد کی ہے۔ برٹش راج کے بعد زمینیں فوج کو چلی گئیں جس کے نتیجے میں کسان فوج کو کئی سالوں تک ان زمینوں پر اگنے والی کاشت کا حصہ دیتے رہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کسانوں سے کہا گیا کہ یہ زمینیں ٹھیکے پر لے لیں۔ مزارعین نے اس پر اعتراض کیا کیونکہ ان کو لگا کہ ٹھیکہ بھی بڑھا دیا جائے گا اور ایک وقت پر ٹھیکہ کینسل کرکے ان سے ان کی زمینیں خالی کروا لی جائے گی۔

سال 2000 میں انجمنِ مزارعینِ پنجاب نے مالکی یا موت کا نعرہ یہ کہہ کر بلند کیا کہ ان زمینوں پر مزارعین کا حقِ وراثت ہے اور پاکستان میں ٹھیکے پر کام کرنے والوں یا رہنے والوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

اس کے بعد سے آج تک ہونے والی جھڑپوں میں مزارعین کے مطابق ان کے 13 افراد ہلاک کر دیے گئے ہیں جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کا کہنا ہے کہ مزارعین کی زیادہ تر قیادت قید میں ہے۔

اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ سنہ 2014 میں پیش آیا تھا جب پاکستانی فوج ٹینکوں سمیت اوکاڑہ ملٹری فارمز میں داخل ہوئی اور طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں چک 15 کے نور محمد کمبوہ مارے گئے اور کئی گرفتاریاں کی گئیں۔

بشکریہ بی بی سی

اپنا تبصرہ بھیجیں