اُمہ کے نئے ٹھیکیدار کا چناو

تحریر: شہزاد منوا

مسلمان حکمرانوں کی نوآبادیاتی اور سامراجی قوتوں کی کاسہ لیسی اور ٹھیکیداری پر کام کوئی نئی چیز نہیں ہے. اس کی موجودہ ٹھیکیداری سعودی عرب کے سپرد ہے. لیکن بدلتے بین الاقوامی منظرنامے میں موجودہ ٹھیکیدار کی افادیت ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جس کے سبب نئے ٹھیکدار کےچناؤ کا عمل زور و شور سے جاری ہے. بلکہ اس کا انتخاب ہو بھی چکاہے اور اس کا سہرا ترکی کے سر پر رکھا جارہا ہے۔
موجودہ ٹھیکیدار میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل سے نمٹنے کے لئے درکار صلاحیتوں کی کمی محسوس کی جارہی ہے. جس کےسبب یہ ضرورت پیش آرہی ہے جیسا کہ
عالمی منظر نامے پر کمزور ہوتی ہوئی ساکھ
مسلم دنیا پر کمزور ہوتا اثر
سفارتی معاملات میں جدت کی کمی
مغربی دنیا میں کمزور ہوتا بیانیہ
دنیا کی بڑی طاقتوں اور مسلم دنیا کو ساتھ چلانا
یہاں اس سے مراد تھوڑی بہت روشن خیالی اور قدامت پسندی کا امتزاج ہے۔

پاکستان کے اشرافیہ طبقہ شروع دن سے اس ٹھیکیداری نظام کا صرف مہرہ رہاہے۔
80ء کی دہائی میں افغان جہاد کے نام پر نرسریاں بنائی گئیں اور نسیم حجازی کے قلمی کرداروں کو زہن سازی کے ذریعے حقیقت کا روپ دھارنے کی کوشش کی گئی, لیکن موجودہ صورتحال میں یہ کردار اتنے کارآمد نہیں۔۔۔۔۔ سو اس کے لیے الگ الگ کرداروں کی ضرورت پیش کی جارہی ہے جن میں مصنوعی روشن خیالی اور ساتھ جہادی سوچ بھی پروان چڑھ سکے۔ جس کا ایک کھیپ ارتغرل کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

ارتغرل ایک ایسا ڈرامہ ہے جو جزبہِ جہاد, اسلامی ملوکیت اور تاریخ پر مبنی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ "لوسٹ اسلامک ہسٹری” جو کہ ایک یکطرفہ تاریخی حوالہ جات ہیں جس میں تین سلطنتوں اموی, عباسی اور عثمانیہ کا ذکر ہے اور اس میں شیعہ تاریخ کا ذکر اس طرح سے ہے کہ ان کو صلیبی اور منگول کی صف میں رکھنے کی کوشش کی گئ ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی تبدیلی سرکار کے چند وزراء کی جانب سے ترکی میں بنے اس ڈرامے کو دیکھنےاور اس کی مدد سے عوام کو اسلامی اسلاف اور تاریخ کے نام پر ایک مخصوص بیانیہ کا پر چار کیا جارہا ہے اور سرکاری ٹی وی چینل پر بھی اس کی بھرپور تشہیر کی جارہی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کیوں اکیسویں صدی میں اس قسم کے فرسودہ اور انتہائی تعصب پر مبنی ڈرامہ کی تشہیر کی ضرورت پڑرہی ہے, مجھے کسی کے ڈرامہ دیکھنے پر کوئی اعتراض نہیں مجھے مسئلہ اس کی بنیاد پر بناۓ جانے والے مخصوص بیانیئے سے ہے۔

کیا ہمیں کسی اور مہم جوئی کیلیے تیار کیا جا رہا ہے؟ جب دنیا بلیک ہول کو دریافت کر رہی ہے ہم ماضی کے دقیانوسی خیالی بصے کہانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جب پوری دنیا بشمول ترکی علم اور تحقیق پر کام کررہی ہے, ہم کیوں ٹھیکیدار کے لئے بنا اجرت یا بہت کم اجرت پر کام کیلۓ تیار ہیں؟ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں