چترال میں آگ سے جھلسنے والوں میں سے ایک اور زخمی کا انتقال

گزشتہ ہفتے گیس سلنڈر پھٹنے سے ایک ہی خاندان کےسات افراد جھلس گئے تھے جن میں سے دو بچیوں سمیت پانچ افراد کا انتقال ہوگیا تھا

رپورٹ: گل حماد فاروقی

چترال: چترال کے گاوں ایون میں گذشتہ ہفتے گیس سلنڈر کے دھماکے میں جھلسنے والے زخمیوں سے ایک اور فرد کا جمعرات کے روز انتقال ہوگیا- اس طرح مرنے والو ں کی تعداد 6 ہو گئی۔ جھلس جانے والوں میں گھر کا سربراہ شا کراللہ اور ان کے بھاوج اور منظور کی بیوی آج پشاور کے ایک ہسپتال میں وفات پا گیے ۔
جسے جمعرات کی شام پشاور سے ان کے آبائی گاوں پہنچاکر سپرد خاک کردیا گیا تھا۔
جبکہ شاکراللہ کا بیٹا ایان کو منگل کی رات دفنایاگیا تھا۔ اسی طرح گائوں کے لوگ گذشتہ ایک ہفتے سے روزانہ ایک ایک میت کو دفناتے آ رہے ہیں.
سابق ناظم فضل الرحمان نے ٹیلیفون پر بتایا کہ متاثرہ خاندان کے سات افراد کو حیات آباد میں برن اینڈ پلاسٹک سرجری ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔جن میں بدھ اور جمعرات کی رات ایک بجہ اور منظور کی بیوی بھی جان بحق ہوگئی ۔ اس طرح چار بچے ایک خاتون ایک مرد اب تک جان بحق ہوچکے ہئں ۔
زیر علاج زخمیوں میں منظور اور شاکر اللہ کی بیوی شامل ہیں ۔ تاہم خاتون کی حالت بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ مرنے والوں میں وہ بچہ شامل ہے جسے ماں کے جھلس جانے کے بعد بچے کی موت واقع ہونے پر ماں کی زندگی بچانے کیلئے اپریشن کرکے نکالا گیا تھا ۔ اسی طرح اب تک مرنے والوں میں چار بچے، منظور کی بیوی اور شاکر اللہ شامل ہیں ۔

پولیس کے مطابق، یکم ستمبر کوگیس سلنڈر پھٹنے سے آیون مولدہ میں ایک محنت کش غریب خاندان کے تمام افراد لپیٹ میں آگیئے تھے اور بری طرح جھلس کر زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں جن کی شناخت شاکر اللہ 38 سال، ان کی بیوی صفت بی بی 30 سال؛ بیٹی کہکشاں آٹھ سال؛ شاکر کے 27 سالہ بھائی منظور ان کی23 سالہ بیوی گلشن بی بی؛منظور کی 8 سالہ بیٹی تانیہ؛ اورچھ سالہ بیٹا آیان علی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں داخل کیا گیاتھا بعد میں انہیں برن اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر حیات آباد پشاور منتقل کیا گیا تھا ان میں سے کہکشان کا ہفتہ کے روز اور تانیہ کا جمعہ کی شام انتقال ہوگیا.-
دونوں بثیوں کی لاشیں آبائی گاوں پہنچا تو کہرام مچھ گیا.مقامی لوگوں نے چندہ کرکے دونوں کو دفنایا.
آیون کے سابق ناظم فضل الرحمان نے ہمارے نمایندے کو ٹیلفوں پر بتایا کہ متاثرہ خاندان نہایت غریب ہیں اور ان کے علاج معالجے کیلئے خطیر رقم درکار ہے-
رحمان کے مطابق ان کے علاج پر روزانہ دو لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے۔انہوں نے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ متاثرہ خاندان کی مال مدد کی جائے.
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں بیرونی امداد سے برن ٹراما سنٹر کی عمارت تعمیر ہوچکا ہے لیکن اس کی عمارت ابھی تک خالی پڑی ہے اور اس مقصد کیلئے اسے استعمال نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ آگ سے جھلسنے والے تشویش ناک مریضوں کو بھی عام مریضوں کے ساتھ میڈیکل وارڈ میں داخل کیا جاتا ہے۔
سابق ناظم فضل اور مولاناغلام یوسف نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ متاثرہ حاندان نہایت غریب ہے جو کرائے کے مکان میں رہتے ہیں. اور دوائی تک نہیں خرید سکتے۔
علاقے کے لوگ اپنی بساط کے مطابق ان کی مدد کرتے ہیں مگر وہ کافی نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں