ایک کہانی دو واقعات

عنائت ابدالی

یہ 11 اگست 2011ء کی بات ہے ہنزہ کے مرکزی ٹاون علی آباد میں متاثرین عطا آباد جھیل اپنی زمینوں اور درختوں کے نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر پر احتجاج کر رہے تھے اور شاہراہ ریشم پر دھرنا دئے تھے. وہ اپنی آواز اس وقت کے وزیر اعلیٰ مہدی شاہ تک پہنچانا چاہتے تھے۔
پولیس کے اہلکار ان کو وزیر اعلیٰ سے ملا نے کی بجائے منتشر کرنے اور راستہ صاف کرنے کاحکم دیتے ہیں۔
مظاہرین کو راستے سے ہٹاتے ہوئے پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ ہوتا ہے ڈی ایس پی کے حکم پہ پولیس فائر کرکے باپ بیٹے کو قتل کر دیتے ہیں۔

اس کے فطری رد عمل کے طور پر لوگ مشتعل ہوتے ہیں اور تھانہ سمیت سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں. نتیجتا مظاہرین کے خلاف27 سے زیادہ ایف-آئی- آر درج کیے جاتے ہیں۔

اگلے دن نوجوان سیاسی رہنما باباجان سمیت 400 نوجوانوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات بنائیں جاتے ہیں. ان میں سے زیادہ تر سے رقم اینٹنے کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے اور بابا جان سمیت 14 نوجوانوں کو ہفتوں تک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایک متنازعہ کورٹ کے ذریعے سزا سنائی جاتی ہے. یہ نوجوان آج تک جیلوں میں ناکردہ گناہوں کا کفارہ ادا کر رہے ہیں۔

نو سال بعد 22 نومبر کو 2020 کو گلگت میں ایک واقعہ ہوا. یہاں نہ کسی نے معاوضے کے لیئے دھرنا دیا ہوا تھا اور نہ ہی باپ بیٹے قتل ہوئے تھے بلکہ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی گلگت حلقہ دو کے کارکن مظاہرے کر رہے تھے۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس میں تصادم ہوا۔ اطلاعات ہیں کہ مظاہرین نے سرکاری گاڑیوں سمیت ایک سرکاری دفتر کو بھی نذر آتش کر دئیے ہیں۔

ان دونوں واقعات کا موازنہ ممکن نہیں ہے. کیا باپ بیٹے کے قتل اور الیکشن کے نتائج کے واقعے کو ایک کرکے دیکھا جاسکتا ہے؟؟
کیا باپ بیٹے کے قتل کے خلاف احتجاج کرنے پر انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمات بنانے والے الیکشن دھاندلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرکے سرکاری گاڑیوں اور سرکاری دفتر کو جلانے والوں پہ انسداد دہشت گردی کے دفعات کے تحت مقدمات کی سفارش کرینگے؟؟

ہنزہ میں باپ بیٹے کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی نے نوجوان سیاسی رہنما کامریڈ باباجان اور دیگر درجنوں نوجوانوں پہ مقدمات بنائے، جن میں زیادہ تر انسداد دہشت گردی کے دفعات شامل تھے.

دوسری جانب اس وقت گلگت-بلتستان میں کیا نگران حکومت بھی پیپلز پارٹی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مظاہرین پہ انسداد دہشت گردی کے مقدمات قائم کرے گی؟؟ کیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مقدمات بنانے کےلئے دباؤ ڈالے گی؟ کیا بیوروکریسی جس روئیے سے ہنزہ کے نوجوانوں کے ساتھ سلوک کی وہی گلگت حلقہ دو کے نوجوانوں کے ساتھ بھی کرینگے؟؟

میں ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے ہنزہ کے نوجوانوں پہ ان مقدمات کی مذمت کرتا ہوں. ماضی میں میں نےاپنے حصے کی مزاحمت بھی کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس واقعے پہ بھی سیاسی کارکنوں پہ مقدمات بنانے کی بجائےحلقہ دو گلگت میں الیکشن کے شفاف نتائج اور فریقین میں جو معاہدے ہوئے ہیں ان پہ عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

پی پی پی کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور دیگر فریقین کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ حلقہ دو کے پوسٹل بیلٹ پیپرز کی فرانزک رپورٹ آنے تک کسی بھی فریق کے جیت یا ہار کے نوٹیفکیشن جاری نہیں کرینگے مگر چیف الیکشن کمشنر نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے فتح اللّٰہ کو کامیاب قرار دیا ہے جس پہ پی پی پی کے کارکنان احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔
تادم تحریر مظاہرے جاری ہیں پی پی پی نے حالات کی خرابی کا ذمہ دار وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حلقہ دو کے ووٹرز کو مطمئین کیے بغیر گلگت میں امن قائم کرنے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت کےامن کو تباہ کرنے کے بجائے غیر متنازع طور پر پوسٹل بیلٹ پیپرز کی فرانزک رپورٹ آنے گلگت حلقہ دو کے نتائج واپس لیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں