باباجان کا بھی دَم گھٹتا ہے!

تحریر: شیرزمان


’میرا دَم گھٹ رہا ہے!‘

امریکی شہر منیاپولس کی ایک گلی سے اُبھرنے والی اِلتجا اب نعرہ بن چکی ہے۔

25مئی 2020کو سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ نے منیاپولس کے ایک اسٹور سے سگریٹ خریدے ۔ دکان دار نے جعلی کرنسی کے شبہے میں پولیس طلب کرلی۔ جارج نے گرفتاری دے دی مگر پولیس اہلکار ڈیرک شوان اوندھے منہ زمین پر پڑے جارج کی گردن پر قریباً نو منٹ تک گھٹنا رکھے بیٹھا رہا۔ اس دوران جارج مسلسل اپنی زندگی کی بھیک مانگتا رہا۔

’’ میرا دَم گھٹ رہا ہے! ‘
’ میں سانس نہیں لے سکتا‘
’ تم مجھے قتل کررہے ہو‘

نسلی منافرت نے شاید قاتل سے رحم کی آخری رمق بھی چھین لی تھی۔جارج کی التجائیں اکارت چلی گئیں۔ اس نے بے بسی کے عالم میں وہیں دم توڑ دیا۔
یہ جان گسل لمحات کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرکے دنیا کے سامنے رکھ دیے ۔اس انسانیت سوز منظر نے دنیا کوہلا کر رکھ دیا۔ مختلف امریکی ریاستوں میں پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے ۔کئی ہفتوں بعد بھی احتجاج اور ہنگاموں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ مظاہرے بیس امریکی ریاستوں کے علاوہ برطانیہ اور دیگر ممالک تک پھیل چکے ہیں، جن میں لاکھوں لوگ بلاامتیاز رنگ و نسل حصہ لے رہے ہیں ۔ یہ لوگ حکومت سے ایک نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ کررہے ہیں ، جس کی بنیاد انصاف اور برابری پر رکھی جائے۔
منیاپولس سے ہزاروں میل دور ہنزہ کے علی آباد قصبے نے بھی ایسا ہی غمناک منظر دیکھا تھا، مگر یہاں سے اٹھنے والی آہیں کوئی طوفان برپا نہ کرسکیں ، بلکہ خاموشی سے یہیں کے فلک بوس پہاڑوں میں دفن ہو گئیں۔

جنوری 2010میں ہنزہ کے چھوٹے سے گاؤں عطا آباد میں ایک پہاڑی تودہ دریائے ہنزہ میں آگرا ۔ پانی کا بہاؤ رُکا تو عطا آباد جھیل وجود میں آئی، جس سے تین دیہات زیرآب آگئے۔ سینکڑوں خاندان بے گھر و بے آسرا ہوگئے۔

حکومت نے امداد کا اعلان کیا مگر وعدہ وفا نہ ہوا ۔ ڈیڑھ سال گزرا تو مجبوراً احتجاج شروع کردیا گیا۔ سال ۲۰۱۱ اور اگست کی گیارہ تاریخ تھی۔ گلگت بلتستان کے اس وقت کے وزیراعلیٰ علاقے کے دورے پر تشریف لارہے تھے۔مظاہرین مرکزی قصبے علی آباد میں جمع تھے۔پولیس کو حکم تھا کہ وی آئی پی قافلے کے لیے شاہراہ خالی کرائی جائے جبکہ مظاہرین بھی اپنی بپتا سنانے کو بے تاب تھے۔ جب بات چیت اور دھونس دھمکی سے بات نہ بنی تو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ لاٹھی چارج، آنسو گیس کے بعد گولیا ں چلائیں گئیں۔ ایک شخص شیر اللہ بیگ زخمی ہوکر گرپڑا۔ اس کا جواں سال بیٹا افضل والد کو سہارہ دینے کے لیے لپکا تو اس پر بھی گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ دونوں باپ بیٹے نے وہیں جان دے دی ۔

پولیس کی بربریت سے مقامی لوگ کا مشتعل ہونا فطری رد عمل تھا۔ انھوں نے دو تھانوں سمیت دیگر سرکاری عمارات و املاک کو نذر آتش کردیا۔ ہنزہ کے طول و عرض میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ حکومت نے انصاف کا وعدہ کیا اور واقعے کی چھان بین کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ۔ پاکستان میں کون سا کمیشن ہے جس کی تحقیق سے کبھی کچھ برآمد ہوا۔ ا س کمیشن کی رپورٹ بھی آج تک منظر عام پر نہیں آئی اور نہ ہی قاتل پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی ہو ئ. بلکہ بعد میں انہیں ترقی دی گئی اور وہ ملازمت سے ریٹائر بھی ہو گئے.

البتہ پولیس نے علاقے کے نوجوانوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت پرچے درج کرکے گرفتاریاں شروع کردیں۔ ان میں معروف سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن باباجان بھی شامل تھے۔ حلالنکہ جس دن سانحہ ہوا اس وقت وہ موقع پر موجود ہی نہیں تھے. بلکہ نگر میں کسی تنازعہ کو حل کرنے گئے ہوئے تھے.

بابا جان گلگت بلتستا ن کے حقوق کے لیے اُٹھنے والی توانا ترین آوازوں میں سے ایک تھے۔ ایک متنازعہ خطے میں مزاحمتی سیاست کے نقیب ، بابا جان ، مقتدر حلقوں کی آنکھوں میں کھٹکتے تھے۔ علی آباد واقعے کی آڑ میں انھیں 14 دیگر نوجوانوں سمیت بدترین تشدد کے بعد پابند سلاسل کردیا گیا۔ دنیا جانتی ہے کہ بابا جان سیاسی قیدی ہیں۔ ان کی رہائی کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کوششیں ہوئیں. حالانکہ نوم چومسکی، طارق علی و دیگر نامور دانشوروں اور یورپی پارلیمنٹ کی تقریبآ 400 شخصیات نے ایک پیٹیشن کے ذریعے ان کی رہائی کی اپیل کیں. مگر بے نتیجہ رہیں۔ شاید انھیں باقیوں کے لیے مثال بنایا جانا مقصود ہے۔

شیر اللہ بیگ اور ان کے جواں سال بیٹے افضل بیگ کی موت کسی انقلاب کا پیش خیمہ نہ بن سکی۔ اِسے المیہ کہیے یا ستم ظریفی کہ آج بھی خوش باش سیاح عطا آباد جھیل کے کنارے اترتے ہیں تو انھیں صرف نیلگوں پانی نظر آتا ہے۔ جبکہ ان پانیوں میں اُن باپ بیٹے کا بے گناہ لہو بھی تیرتا ہے۔ ہنزہ کی ظاہری خوبصورتی کے پرت چاک کرکے دیکھیں تو ان کے نیچے محرومیوں کے زخم اور نیل چھپے ہوئے ہیں۔ یہ درد البتہ صرف بابا جان محسوس کرتے ہیں۔ گاہکوچ جیل میں برسوں سے قید بابا جان کوئی حرف شکایت ہونٹوں پر نہیں لاتے مگر آہنی سلاخوں سے جھانکتے اُن کے بظاہر پرسکون چہرے پر یہی تحریر رقم ہے، ’ میرا دم گھٹتا ہے۔‘


شیر زمان کا تعلق گلگت بلتستا ن سے ہے ۔ انھوں نے ابلاغ عامہ کی تعلیم حاصل کررکھی ہے اور متعدد سرکاری ، نیم سرکاری و نجی اداروں کو کمیونی کیشن ، پبلک ریلیشنز اور مارکیٹنگ کے شعبے میں معاونت فراہم کرچکے ہیں۔ ان سے sherzamankhanfc@gmail.com  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں