بابا جان سے جیل میں ملاقات پر پابندی، صحت کے بارے میں خاندان کے افراد کی تشویش


اسیر رہنماء کے بہن کی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے نام کھلا خط؛ تازہ ترین پابندیوں اور جیل حکام کے نامناسب روئے کی نوٹس لینے کی اپیل-

بام جہان رپورٹ

گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی دماس جیل میں عمر قید کی سزا بھگتنے والے عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماء بابا جان کے رشہ داروں نے جیل حکام کی طرف ان پر نئی پابندیوں کے خلاف شکایت کی ہے-اس اقدام پر بابا جان کے ساتھیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے اور اس کو تنقیدکا نشانہ بنایا ہے۔

اس سلسلے میں جب حکومتی موقوف جاننے کے لئے رابطہ کیا گیا تو گلگت بلتستان کی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے ہائی ایشیاء ہیرالڈ کو بتایا کہ کھلا خط سے متعلق خبر سوشل میڈیا کے ذریعہ وزیراعلیٰ کے علم میں آئی ہے لیکن انہیں ابھی تک بابا جان کی طرف سے ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا ہےا۔

تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ "بابا جان کو جیل کی تمام سہولیات مہیا کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔”

بابا جان کی صحت کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ ہم اس کا جائزہ لیں گے اور ڈاکٹر کو ہدایت کریں گے کہ وہ دوبارہ جیل جاکر ان کا معائینہ کریں۔

فراق نے یقین دلایا کہ بابا جان کی صحت کے مطابق مخصوص کھانا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

بابا جان کی بہن شگوفتہ خانم نے کھلا خط میں گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حفیظ الرحمن سے اپیل کی ہے کہ وہ جیل حکام کے "نامناسب” سلوک کا نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا کہ "مجھے بلا جواز جیل میں اپنے بھائی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے-”

انہوں نے تازہ ترین فیصلہ کے متعلق تفصیلات بتاتے ہوے کہا کہ ہفتہ کے روز (14 مارچ) وہ اپنے بھائی سے ملنے کے لئے سات گھنٹہ طویل سفر کرکے ہنزہ سے دماس جیل پہنچا۔ تاہم انہیں ملاقات کی اجازت نہیں گئی۔

"مجھے بتایا گیا کہ قیدیوں کو کورونا وائرس سے بچانے کے لئے ملاقاتیوں سے ملنےکی اجازت نہیں جا رہی ہے۔”

حکومت کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے قیدیوں سے دو ہفتوں کے لئے ملاقات کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت جیل حکام سے پوچھ گچھ کرےگی کہ بابا جان کو رشتہ داروں سے کن وجوہات کی بنا پر ملنے نہیں دیاجا رہا ہے۔

لیکن شگفتہ خانم نے اس کو بلا جواز قرار دیا کیونکہ ان کے مطابق قیدیوں اور ملاقاتیوں کو حسب معمول جیل سے باہر اور اندر آنے جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیل میں ملاقاتیوں کی اسکریننگ کرنے اور انہیں قیدیوں کے ساتھ رابطے میں آنے سے روکنے کے لئے کوئی طریقہ کار ابھی تک وضع نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جیل کے قوانین اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہےاور ان کے بھائی کو مناسب کھانا مہیا نہیں کیا جارہا ہے۔ انہیں سوکھی روٹی اور پانی پر زندہ رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

"انھوں نے کہا کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں کے زریعے ان کے بھائی کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر اذیت دینے اور ان کی ہمت کو توڑنے کی کوشیش کی جارہی ہے۔ان کی صحت 2018 سے گرتی جا رہی ہے۔لیکن انہیں مناسب علاج اور تشخیص کے لئے سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی دوسرے شہر منتقل کیا جا رہا ہے-

"پاکستان بھر میں انسانی حقوق اور سیاسی کارکنوں اور بابا جان کے رشتہ داروں کی پر زور احتجاج کے باوجود بابا جان کو اسلام آباد یا کسی دوسرے شہر میں مناسب طبی معائنے کے لئے منتقل کرنے کے لئےجی بی کے حکام اور حکومت تیار نہیں ہے”۔

یہ بھی پڑھیں: بابا جان کون ہے https://www.youtube.com/watch؟v=iCCk2sxkTDY

انہوں نے وزیر اعلی سے اپیل کی ہے کہ وہ جیل حکام کو ہدایت کریں کہ وہ بابا جان کو عالمی اور ملکی قوانین کے مطابق بنیادی سہولتوں بشمول ملاقاتوں، پرہزی خوراک کی فراہمی اور صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنائے اور انہیں نفسیاتی اور جسمانی اذیتیں دینا بند کریں۔

محترمہ شگفتہ نے وزیراعلیٰ سے یہ بھی اپیل کیں کہ بابا جان کے ساتھ غیر انسانی اور غیر قانونی سلوک کے لئے جیل حکام سے باز پرس کریں۔

دریں اثنا بابا جان کی پارٹی رہنماؤں، اختر حسین ایڈووکیٹ، عنائیت ابدالی، اختر امین ، اکرام جمال ، واجد ، عنائیت بیگ ، اخوند بائی، ظہور الہی، شیر افضل اور آصف سخی نے ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے – انھوں نے جیل حکام کی اسیر رہنماء کے اہل خانہ کےساتھ غیر انسانی سلوک اور ملاقات کی اجازت نہ دینے پر بھی تنقید کیا۔

انہوں نے کہا کہ بابا جان کو یورک ایسڈ اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے جیل کے اندر مخصوص کھانا پکانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے جیل حکام اور صوبائی حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اسیر رہنماء کے ساتھ کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔

انہوں نے بابا جان اور دیگر 14 افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا جو نو سالوں عمر قید کی سزا بھگت رہے ہں-

انہیں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے سنہ 2011 میں علی آباد ہنزہ کے سانحہ کے بعد احتجاج کرنے عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بعد میں گلگت بلتستان کے سپریم اپیلٹ کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔سزا پر نظرثانی کے لئے ان کی اپیل اس وقت سپریم اپیلٹ کورٹ میں سماعت کے لئے گزشتہ تین سالوں سےزیر التوا ہے۔

بابا جان کو دو ہفتہ قبل پیرول پر ایک دن کے لئے اپنےتایا اور تائی کی وفات پر خاندان کے افراد سے ملنے اور تعزیت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔لیکن اس کے بعد ان سے نئے سرے سے پوچھ گچھ شروع کیا گیا ہے اور جیل میں تازہ سبزی اور پھل وغیرہ کی فراہمی بند کر دی گئی ہے.-

اپنا تبصرہ بھیجیں