بابا جان کا نظریہ اورجدید نوآبادیاتی سامراجی بیانیہ

تحریر: کامران کریم

سانحہّ علی آباد ہنزہ کو 8 سال سے زیادہ ہونے کوہے نہ توپولیس کی گولیوں کا نشانہ بننے والے باپ بیٹے کو انصاف ملا اور نہ ہی مظلوموں اور سانحّہ عطاآباد کے متاثرین کے حق میں آواز بلند کرنے کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور ریاستی جبر کا نشانہ بننے والے سیاسی قیدیوں کوانصاف ملا- بابا جان اور دیگرنوجوانوں کو انسداد دہشت گردی کے کالے قانون کے تحت سزا دی گیّی- اے ٹی اے دہشت گردوی کو روکنے کےلیے بنایا گیا تھا. بابا جان اور ان کے12 ساتھی نہ تو قتل یا دہشت گردی جیسے سنگین جرایّم میں ملوث رہے ہیں اور نہ ہی کسی تخریبی کارواییّ میں.ان کو جھوٹے الزامات کی بنیاد پر سزا دی گیّی.
گلگت بلتستان بلخصوص ہنزہ میں سیاسی کارکنوں کے خلاف خوف حراس اور جبر کا ماحول پیدا کی گییّ ہے. ان کی وجوہات پر غور کرنے سے اندازہ ہوگا کہ یہ صرف پچھلے چند دہائیوں کی نہیں بلکہ ایک صدی سے زیادہ نوآبادیاتی تسلط اور ریشہ دوانیوں کی تاریخ میں پنہاں ہے-جس کو سمجھے بغیر حقایق کی تہہ تک پہنچنا ممکن نہں.
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں ہرانسان دوست، روشن خیال اور انقلابی شخص کوجدوجہد سے روکنے اور لوگوں کے ذہنوں کو مفلوج کرنے کے لیّے حکمراں طبقے نے ہمیشہ اوچھے ہتکنڈے، سازش اور حربے استعمال کے ہیں- گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے ذہنوں کومفلوج اور کمزور کرنے کا عمل بھی اسی کا تسلسل ہے جو پاکستان کے حکمراں طبقے اورمقتدرقوتیں گزشتہ سات دہایوں سے استعمال کر رہے ہٰیں- اس میں مقامی لوگوں کو شعوری طورپریرغمال بنانا، مذہہی، لسانی اورعلاقایی خطوط پر تقسیم کرنا اوراپنے حقوق کے لیے جدوجہد سےروکنا مقصود ہے- اس منصوبے کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے اوراق کو پلٹنا پڑے گا.
یہ منصوبہ برطانوی نوآبادیاتی دورمیں تیارہوا اور ہمارےمستقبل کے بارے میں فیصلہ کیا گیا تھا .جس کے اثرات ابھی واضح ہورہے ہیں-جدید نو آبادیاتی نظام کے آلیہ کاروں نے مقامی آقاوں کے ذریعے اداروں کی تشکیل کیں اور طاقت کے حصول کو ممکن بنایا اورمقامی پاورڈائنامکس کوسمجھتے ہوئے ان اداروں کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں، وسایل، اور داخلی امور پراپنا تسلط قایم کیےتاکہ اپنا اجارہ قائم کرسکیں-انھوں نے اپنی راہ میں رکاوٹ بننے والے پڑھے لکھے نوجواںوں کو نوکریوں اورعہدوں کی ترغیب دیں. سماجی وسیاسی شعوررکھنے والے نوجوانوں اور دانشوروں کودھونس دھمکی کے ذریعے خاموش کروایا اور کسی بھی قسم کی مزاحمتی تحریک کودبانے کے لئے ہر قسم کے حربے استعمال کئے، ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا اور ان پر تخریب کاری، ملک دشمنی جیسے بے بنیاد الزامات لگایے گیے-
گلگت بلتستان چونکہ اپنی جغرافیای اہمیت کی وجہ سے بھی نوآبادیاتی پیراڈائم کا خاص حصہ رہا ہے، جس میں ایشیائی، آفریقی وکیریبین ممالک شامل تھے- ایک اندازے کے مطابق 1937 تک پچتھر فیصد دنیا پر برطانوی و فرا نسیسی نوآبادیاتی قوتوں کا اجارہ قائم ہوا- نوآبادیاتی تسلط کا سب سے بڑا ہتیار زبان تھا- انگریزوں نے اپنے مصنفین کے ذریعے مقامی زبانوں اور ادب کو سمجھتے ہوئے ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا- اور میکاولی کے نظریہ تعلیم کو متعارف کروایا- اس نظریہ کے کئی پہلو تھے جس میں مقامی تہذیبوں، دانش، ثقافت اور وسایل پرمکمل اجارہ قایم کرنا تھا- اس میں مقامی زبانوں اور روایات کی تضحیک اورنفی کرنا اور حکومتی اداروں میں صرف انگریزی زبان کو رایج کرکے لوگوں کو ذہنی غلام بنانا آہیں نوآبادیاتی نظام کے پرزے کے طورپراستعمال کرنا تھا-
اس منصوبے کا دوسرا پہلو گلگت کوطاقت کے ذریعے کشمیر کا حصہ بنانا اورآزادی کے نام پرمتنازعہ حیثیت سے نوازنا، جس کی بنیاد 81-1877 میں گلگت کو ایجنسی بنا کے ڈالا گیا- برطانوئ سامراج کے جانے کے بعد مقامی سامراجی وظیفہ خواروں نے لوگوں کو بد ترین غلامی کی زنجیر میں 70 سالوں سے جھکڑ رکھا ہے اور وقتاّ فوقتاّ اصلاحات کے نام پر بہلاتے رہتے ہیں. اور خطے میں وقتا فوقتا بنیادی، جمہوری وانسانی حقوق کے لیے آٹھنے والی آوازوں کوبری طرح کچلا گیا.
جدید نو آبادیاتی نظام کے آلہ کارحکمراںوں اور مقتدرقوتوں نے بھی سامراجی ہتھکنڈوں کواستعمال کرتے ہوے ہنزہ کےاسیروں کے خاندانوں کومختلیف ترغیبیں اورملازمتوں کی پیشکشیں کرچکے ہیں- مگروہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ 1891 میں انگریز سامراج کی نلت نگر پر چڑھائی کا مقابلہ کرنے والوں کے اولادوں کو21ویں صدی میں قابو کرنا اتنا آسان نہیں-جس طرح اس وقت کے سامراجی فوجیوں نے وقتی طور پرنلت قلعہ پرقبضہ کیا تھا آج ریاستی ادارے بھرپورطاقت اورمشینری کا استعمال کرکے بروشال کووقتی طوریرغمال بنایے ہویے ہیں، بابا جان اوران کے دیگربہادرساتھیوں کو جسمانی طور پر پابند سلاسل تو کیا گیا ہے لیکن ان کے انقلابی سوچ اورنظریات کو پابند نہں کیا جا سکتا-

اسلیے آج تمام گلگت بلتستان کے باشعور نوجوان سامراجی سازشوں کو سمجھ چکے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ بابا جان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کیس سیاسی بینادوں اور آن کے نظریہ کی وجہ سے قایمّ کیا گیا ہے- اگر وہ یہ نظریہ نہیں اپناتے تووہ یا تو جیل میں نہیں ہوتے یا وہ بابا جان نہیں ہوتے- یہی وجہ ہے کہ بابا جان کی سوچ اور جدوجہد کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے- سامراج کے غلام ملک کے حکمراں طبقہ اپنے زیرتسلط خطہ کے وسایل اوران کے مکینوں پراپنی اجارہ کو قایمّ رکھنے میں مصروف ہے-

اس مابعد نوآبادیاتی ماحول نے مقامی لوگوں کو اس قدرذہنی طور پرغلام اور ماوّف بنایا ہے کہ وہ لاشعوری طور پراپنے آپ کو کمتر محسوس کرتے ہیں. اس احساس کمتری نے مقامی لوگوں کوانتنا بے بس بنا دیا ہے کہ وہ باہرسے آنے والوں اورحکمرانوں کے چند تعارفی کلمات کے سحرمیں کھو جاتے ہیں اور آپنی خود داری کو بھول جاتے ہیں اوراپنی کھوئی ہوئی شناخت کو ڈھونڈنا ضروری نہیں سمجھےہیں- جس دن نوجوان نوآبادیاتی نفسیاتی حربوں اور تاریخی حقایق کو سمجھیں گے اور بابا جان کے فلسفے یعنی مظلوم کا ساتھ دینا اورظالم کے سامنےڈٹ جانا، کوسمجھیں گے تو وہ نو آبادیاتی غلامی کو آتار پھینکیں گے- اس کے لیے ضرورئ ہے کہ نوجوان ساینسی علم، سیاسی و سماجی شعورسے لیس ہوں اورمنظم طریقے اور حکمت عملی سے جدید نوآبادیاتی اوراستحصالی نظام اورانسان دشمن طاقتوں کا مقابلہ کریں اور آن کے بیانیے کودلایل سے رد کریں-

کامران کریم سماجیات کے طالب علم ہیں اور گلگت بلتستان پر تحقیق کرنے مین دلچسپی رکھتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں