بالائی چترال میں ایک اور نوجوان لڑکی دریا برد

رپورٹ گل حماد فاروقی

چترال: بالائی چترال کے علاقے شاہ گرام میں ایک نوجوان لڑکی مبینہ طور پر دریا کے بپھرے لہروں کی نظر ہوگئی ہے۔

ایس ایچ او تھانہ اوویر کے مطابق 20 سالہ حلیمہ مبینہ طور پر دریائے چترال میں گر کر جاں بحق ہوئی۔ پولیس کے مطابق لڑکی پانی لے کر آ رہی تھی کہ اس کا پاؤں پھسل کر دریا برد ہوگئی۔ تاہم آزاد ذرائع اور سوشل میڈیا کے مطابق لڑکی نے خود دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی ہے۔

تھانہ اوویر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس اس سلسلے میں مزید تفتیش کررہی ہے اور جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچ جائے گی.۔

واضح رہے کہ چترال کے خواتین میں حاص کر نوجوان لڑکیوں میں خودکشی کا رحجان دوسرے ضلعوں کے نسبت زیاد ہ ہے مگر ابھی تک حکومتی سطح پر اس کی وجوہات جاننے اور اس کا تدارک کیلئے کوئی حاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا ہے. پورے چترال کے کسی بھی ہسپتال میں نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر (سائیکاٹرسٹ) بھی موجود نہیں ہے۔

چترال میں خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی رحجان سے سماجی حلقوں میں نہایت تشویش پائی جاتی ہے اور حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی اداروں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال میں خواتین کیلئے پناہ گاہ، ان کیلئے روزگار کا بندوبست اور چترال کے ہر ہسپتال میں ایک ماہر نفسیات کو تعینات کیا جائے تاکہ خواتین کے اندر خودکشیوں کی رحجان میں کمی لایا جاسکے۔

علاوہ ازین عزت کے نام پر خواتین کا قتل میں بھئ اضافہ دیکھنے میں آئا ہے.
دو دن پہلے ایک مرد اور عورت کا عزت کے نام پر قتل کرکے لاشیں جنگل میں پھنگ دیا گیا.
چترال میں ہر سال درجن سے زایئد لوگ جن میں زیادہ تر نوجوان عورتیں ہوتی ہیں سماجی پسماندہ روایات اور معاشی مسائل کی بینٹھ چرح جاتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں