بھارت سمیت تمام ممالک سے تجارت چاہتے ہیں، وزیر خزانہ

پاکستان اپ ڈیٹ اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ گوادر میں ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اوراسپیشل اکنامک زون بنائے جا رہے ہیں، سی پیک کے اگلے مرحلے میں صنعت اور تجارت کوفروغ دیناہے،غربت کے خاتمے،کاروباری سرگرمیوں میں فروغ اور نوجوانوں کوروزگارفراہم کرنا اولین ترجیح ہے، پاک ایران تجارت کے فروغ کیلئے 30 دن میں رپورٹ تیار کرنیکی ہدایت کی ہے اورپاک افغان سرحد پرباڑکی تنصیب کے بعد سمگلنگ کا خاتمہ ہوجائے گاجبکہ حلال فوڈزکی عالمی مارکیٹ میں بلوچستان موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ بلوچستان چیمبرز آف کامرس کے عہدیداروں سے ملاقات اورتجارتی مشکلات کے حل کی تجاویزسے متعلق اجلاس سے خطاب کے دوران اسد عمرنے مزیدکہاکہ بلوچستان ملک کاسب سے بڑا صوبہ ہے جہاں زراعت کی ترقی کیلیے وفاق اورصوبائی حکومت مل کر کام کریں گی۔

بلوچستان کے برآمدکنندگان کی مشکلات کا جائزہ لے کرانکو حل اور تجارتی پالیسوں کی تشکیل میں نجی شعبے کی مشاورت کو شامل رکھیں گے۔ہماری کوشش ہے کہ ایران سمیت خطے کے تمام ممالک سے بہترتجارتی تعلقات استوارکریں،ہم نے تجارتی تعلقات کی بہتری کیلیے بھارت کی طرف خیرسگالی کاہاتھ بڑھایا تاہم اس کا مثبت جواب نہیں ملا، وزیر خزانہ نے کہاکہ ملک میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گھٹ کر ایک ارب رہ گیا اور بتدریج کمی کی جانب جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں