بی بی سی کے رپورٹر کا باباجان اور دیگر اسیران کے کیس میں حقائق کو مسخ کرنے کی کوشیش

تحریر : عنایت ابدالی

بابا جان و دیگر سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے علی آباد ہنزہ میں جاری دھرناکے حوالے سے بی بی سی اردو نے 7 اکتوبر کو ایک تفصیلی رپورٹ شائع کیں جس میں رپورٹر محمد زبیر نے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس کی تصحیح اور وضاحت ضروری ہے.

حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بی بی سی جیسے معتبر ادارے نے بغیر تصدیق کے غلط معلومات کی بنیاد پر رپورٹ شائع کر کے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

مثلا رپورٹر نے لکھا ہے کہ "بابا جان اور ان کے دیگر 18 ساتھیوں کو عدالت نے ’فرقہ وارانہ فسادات‘ کا مرتکب بھی قرار دیا تھا۔ ان مقدمات میں مجموعی طور پر 18 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ جس میں سے دو کے مقدمات ابھی بھی دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں جبکہ ایک مجرم عامر خان کو شدید بیمار ہونے کی وجہ سے دو سال قبل ضمانت دی گئی تھی اور آج (بدھ) وہ وفات پا گئے ہیں”۔.

یہ سچ نہیں ہے باباجان سمیت دیگر ساتھیوں کو "فرقہ وارنہ فسادات” میں مرتکب کسی عدالت نے قرار نہیں دی ہے جیل میں باباجان کے ساتھ چودہ سیاسی کارکنان شامل تھے جن میں سے اس وقت بارہ سزا کاٹ رہے ہیں۔

موصوف نے لکھا ہے کہ "مجرم” عامر شدید بیمار ہونے کی وجہ سے ضمانت پہ تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عامر خان کو باعزت بری کیا گیا تھا عدالت میں اس کے اوپر لگائے گئے تمام الزامات ثابت نہیں ہوسکے۔ اور وہ باعزت بری ہوئے تھے۔

رپورٹر نے مزید لکھا ہے کہ "حکومت کی جانب سے مطالبے پر توجہ نہ دینے کے باعث متاثرین نے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کی آمد پر شاہراہ قراقرم کو بلاک کیا تھا۔”.
یہاں بھی حقائق کو مسخ کرکے بیان کیا گیا ہے متاثرین نے اس وقت روڑ بلاک نہیں کیا تھا بلکہ وہ سابق وزیر اعلی مہدی شاہ سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات پیش کرنا چاہتے تھے مگر طاقت کے نشت میں چور مہدی شاہ متاثرین سے ملنے کے بجائے روڈ خالی کرنے پہ بضد تھے.

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ: "اس وقت ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق سنہ 2011 میں ہونے والے اس عوامی احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیاں تصادم ہوا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کی اپنی فائرنگ سے احتجاج میں شریک ایک باپ اور بیٹا ہلاک ہوئے تاہم مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔””.

اس عبارت میں بھی حقائق کو مسخ کیا گیا ہے پولیس کے فائرنگ کی وجہ سے باپ بیٹے شہید ہوگئے تھے اس کے مقدمے بھی بنے تھے مگر بعد میں ان کو باعزت بری کیا گیا۔ پولیس کا یہ دعویٰ تھا تو وہ مقدمہ پولیس کے خلاف کس بنیاد پہ بنایا گیا تھا؟؟

رپورٹر مزید لکھتے ہیں کہ "سرکاری رپورٹس کے مطابق باپ بیٹا کی ہلاکت کے بعد وادی ہنزہ میں بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور اس دوران عوامی املاک کو نذرِ آتش کیا گیا۔ ان مظاہروں کا اہتمام عوامی ورکر پارٹی کی اپیل پر کیا گیا جبکہ اس ’پرتشدد‘ احتجاج کی قیادت بابا جان اور ان کے 14 ساتھیوں نے کی تھی۔”.

حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ 11 اگست 2011 کو ہوا تھا جبکہ عوامی ورکرز پارٹی 2012 میں تین پارٹیوں کے انضمام کے نتیجے میں بنی تھی ۔جلاؤ گھیراؤ کے دوران باباجان موقع پر موجود ہی نہیں تھے بلکہ ہنزہ کے عمائدین کے ایک وفد کے ساتھ نگر میں ایک تنازعہ کے سلسلے میں موجود تھے۔ باپ بیٹے کی موت کے بعد اگلے دن باباجان علی آباد پہنچ گئے۔ جب باباجان وہاں پہنچ گئے تواس وقت کوئی پرتشدد احتجاج نہیں ہوا بلکہ بوگوں نے باپ بیٹے کے نعش سڑک پہ رکھ کے پرامن دھرنا دیا تھا۔

Posted by Awami Workers Party Gojal on Friday, October 9, 2020

موصوف لکھتا ہے کہ "مظاہروں کے بعد ہنزہ پولیس نے بابا جان اور اُن کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی سمیت دیگر سنگین جرائم کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے”. حقیقت یہ ہے کہ باباجان نےازخود گرفتاری دی تھی تاکہ دوسرے 400 لوگوں کو تشدد سے بچایا جائے۔

محمد زبیر لکھتے ہیں کہ "سنہ 2016 میں بابا جان اور ان کے ساتھی رہا ہوئے اور ہنزہ سے بعض وجوہات کی بنا پر نشست خالی ہوئی تو بابا جان نے ایک بار پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جو کہ الیکشن کمیشن نے قبول کر لیے۔تاہم اپیلیٹ کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سوموٹو ایکشن لینے کے علاوہ حکومت کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی اپیلوں کو قبول کیا اور تمام کے تمام پندرہ افراد کو مجرم قرار دے دیا”۔

اس عبارت میں بھی رپورٹر نے حقائق کو مسخ کیاہے بابا جان نے 2015 میں الیکشن بھی جیل سے لڑا تھا اور 4700 ووت لے کر دوسرے نمبر پہ آیا تھا ۔ بعد میں جیتنے والے میر غضنفر کو گورنر بنانے کہ وجہ سے اپنی نشست خالی کرنا پڑا ۔ تب بابا جان نے دوبارہ کاغذات جمع کیا تھا۔ ریٹرننگ آفیسر نے پیپلز پارٹی کےمقامی رہنما ظفر اقبال کے اعتراض پر باباجان کے کاغذات مسترد کیا۔ پی پی پی کے ظفر اقبال درخواست لیکر سپریم اپلیٹ کورٹ چلا گیا جہاں اس انتخابی عزر داری کو سپریم اپلیٹ کورٹ کے جج رانا شمیم نے سوموٹو ایکشن میں بدل دیا اورہنزہ کے ضمنی الیکشن غیر معینہ مدت تک روک دیا گیا۔ باباجان کے خلاف الیکشن میں اہلیت اور نا اہلی کیس سننے کے بجائے کریمنل کیس کو پہلے سنا گیا جو ایک سال سے التوا میں پڑا ہوا تھا۔ اس کیس کو جلد بازی میں سنا گیا اور بہت کم عرصے میں بابا جان کے وکلا ءکو سننے بغیر سزائیں سنائی گئی۔سابق چیف جج رانا شمیم اور جسٹس جاوید اقبال نے باباجان کے خلاف جبکہ مرحوم جسٹس شہباز خان نے باباجان کے حق میں فیصلہ دیا۔

آج ہی ریٹرننگ آفیسر ہنزہ حلقہ چھ نے باباجان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے ہیں جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کے نوجوان امیدوار آصف سعید سخی کے کاغذات نامزدگی صحیح قرار دئیے گئے ہیں۔

قارئین کرام
مقامی میڈیا میں اگر اس قسم کے معلومات شائع کیے جاتے تو ہم بھرپور کوشش کرتے کہ دوبارہ تصحیح کی جائے مگر بی بی سی جیسے ادارے میں شائع شدہ غلط مواد کی تصحیح ہمارے لیے کافی مشکل کام ہے اس تحریر کا مقصد حقائق عوام اور میڈیا کے سامنے لانا ہے یہ تحریر اگر کسی بھی ذرائع سے بی بی سی تک پہنچ جائے تو ہم امید رکھیں گے کہ وہ درستگی کریں گے۔
اصل رپورٹ کا لنک بھی دیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس کو بھی پڑھ سکیں۔
https://www.bbc.com/urdu/pakistan-54444930.amp

اپنا تبصرہ بھیجیں