‘تبدیلی سرکار کے دکھائے گئیے خواب چکناچور، معیشت تباہی کے دہانے پر’

پی.ٹی-آئی حکومت کو اہم ٍفیصلے لینے کا اختیار نہیں،؛ایک سال گزرنے کے باوجود نہ 50 لاکھ نوکریاں ملیں، نہ ایک کروڑ گھر تعمیر ہوے اور نہ ہی کشکول توڑا گیا. ڈاکٹرعاصم سجاد

تحریر: فرمان علی

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل اور معیشت کو استحکام دینے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے -معیشت اور سیاست ایک گھمبیرتا میں داخل ہو چکی ہے۔ جن قوتوں نے پی-ٹی-آئی کی "تبدیلی "کے جو خواب دکھائے تھے وہ ایک سال کے اندر چکنا چورہو چکی ہے۔
ان خیالات کا اظہار بایاں بازو کے ممتاز دانشور ، کالم نگار ، اور مصنف ڈاکٹر عاصم سجاد اختر ،نے آن لائین اخبار ‘نیا دور ‘کو انٹر ویو دیتے ہوے کیا۔
آنھوں نے کہا کہ جب تک ریاستی پالیسیوں کی بنیادی ترجیحات ، طاقت اور دولت کے توازن کو تبدیل نہیں کیا جاتا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بنایا جاتا تبدیلی محض ایک نعرہ ثابت ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں آنھوں نے کہا کہ "جب ہم بات کرتے ہیں پی ٹی آئی حکومت کی ناکامیوں یا سب سے بڑی ناکامی کا تو ان کے نعرے اپنی جگہ لیکن سوچنے سمجھنے والے لوگ یا جوپاکستان کی سیاسی تاریخ سے واقفیت رکھتے ہیں ان کو یہ ذہین میں رکھنا چاہیے کہ یہ کوئی با اختیار حکومت نہیں ہےکہ وہ اپنی مرضی سےپالیسی بنائے یا ریاستی پالیسیوں کو یا ان کا رخ تبدیل کر سکے اور بنیادی ترجیحات کو بدل سکے- اس سے ہماری کویئ توقعات بھی نہیں تھیں۔ وہ جنہوں نے تبدیلی کے نعرے سے متاثر ہو کر جو توقعات رکیں تھیں انکے لیئے یہ ایک سوال ہے۔ ”
ڈاکٹر ؑعاصم جو عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صدر بھی ہیں نے مزید کہا کہ "میرا خیال ہے کہ ہم پی ٹی آئی کے اپنے ہی نعروں کی روشنی میں ہی ان کے کامیابیوں اور ناکامیوں کا حساب کر سکتے ہیں کہ وہ کتنے کامیاب یا ناکام ہیں ۔ سب سے بڑا نعرہ ان کا یہ تھا کہ ہم 50 لاکھ گھر بنائیں گے اور ایک کروڑ نوکریاں دیں گے ایک سال گزرنے کے بعد اس کا کویئ ذکر تک نہیں ہوتا۔ ”
کرپشن کے حوالے سے بات کرتے ہوے انھوں نےکہا کہ، "پی-ٹی-آئی کا دوسرا بڑا نعرہ کرپشن ختم کرنے کا تھا ۔ مگر یہ نعرہ خود عجیب و غریب ہے کہ پاکستان کے موجودہ نظام میں کرپٹ صرف چند لوگ ہیں ۔ یہ سارا نظام ہی کرپشن اور سفارش پر چلتا ہے۔یہ نعرہ تو ناکام ہونا ہی تھا۔ کیونکہ جب تک آپ ظاقت ، دولت اور وسایئل کے غیر منصفانہ تقسیم پر بات نہیں کریں گے کرپشن ختم ہو ہی نہں سکتا۔کرپشن کے خلاف نعرہ صرف اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا گیا
معیشت کے حوالے سےائک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس حکومت کی بڑی ناکامی معیشت کی ابتری ہے۔ کی الیکشن سے پہلے پی- ٹی- آئی کےان گنت نعرے سننے کو ملتے تھے او ر سابق حکومت کی معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ اب گزشتہ ایک سال میں معیشت بہت خراب ہوئی ہے۔ خسارہ بہت بڑھ گیا ہے۔ اور اب سننے میں یہ آرہی ہے بڑے بڑے صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے قرضے معاف کیے جا رہے ہیں۔ ” الیکشن سے پہلے پی –ٹی-آئی والے کہا کرتے تھے کہ ‘ہم وہ کام نہیں کریں گے جو پاکستان مسلم لیگ ن کیا کرتی تھیں’۔ اس کا مطلب یہ سب فراڈ تھا۔ ”
دوسری بات ہمیں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہم ہمیشہ کے لیے کشکول توڑ یں گے ۔ہم کبھی بھی آیئ- ایم –ایف کے پاس قرضہ لینے نہیں جائینگے ۔ہم خود مختار اور خود کفیل ہو جایئنگے۔ہم نے دیکھا کویئ ملک نہیں چھورڑا گیا جہان سے قر ضے نہیں مانگے اس حکومت نے۔خواء وہ سعودی عرب ہو، امارات کے ریاستیں ہوں، چین ، آمریکہ ہو یا آئی-ایم -ایف۔ ہر ایک سے قرضہ مانگا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر عا صم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ” یہ جو سارے قرضہ ہم لے رہے ہیں اور جن شرائیط پر لے رہے ہیں یا ان سے منسلک جومعاشی پالیسیاں بنائی جا رہی ہے اس سے ناہمواری بھی بڑھے گی صنعت کاری کے انظام کا پٹہ بھی بیٹھ جایئگا ۔ ہم مزید گھمبیرتا کے اندر داخل ہو رہے ہیں۔ مہنگائی اور بےروزگاری کی کوئی بات ہی نہیں ہو رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے محنت کشوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے”۔
انھوں نے کہا کہ یہ صرف ایک یا دو شعبئہ زندگی کی بات نہیں پوری معیشت تباہی کی طرف گامزن ہے اور پی –ٹی-آئی کی تبدیلی کاپورا پروجیکٹ جنہوں نے بنایا تھا اس کو نا کام ہونا ہی تھا۔اب یہ واضح ہو گیا ہے کن قوتوں نے اسے کھڑا کیا تھا ،اصل کون حکومت کر رہا ہے اور کس کے کہنے پے کر رہا ہے۔
ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ جب تک ریاست کے بینادی ترجیحات پر بات نہیں ہوتی ان پر سوال نہیں آٹھایا جاتا تبدیلی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور ہر الیکشن میں یہی باتیں اور نعرے سننے کو ملیں گی۔

یہ بھی دیکھیے: https://youtu.be/-d1fs_8h-O8

اپنا تبصرہ بھیجیں