تعلیمی اداروں میں ”سرفروشی کی تمنا‘‘ کیوں؟

لاہور میں انقلابی نعرے لگانے والوں کو ناقدین "دیسی سرخے اور برگر بچے” کہہ کر رد کررہے ہیں۔ لیکن اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے یہ نوجوان کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟

فیض ادبی میلے کے موقع پر نوجوانوں کی طرف سے یونیورسٹی طلبہ کے حقوق کے لیے نعرے بازی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی ہے۔ اس ویڈیو میں کالی جیکٹ پہنےعروج اورنگزیب نامی خاتون بڑے جوش و جذبے سے یہ نعرہ لگواتی نظر آتی ہیں:
”سرفروشی کی تمنا اب میرے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے‘‘
عروج پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طالبہ ہیں اور ایک عرصے سے لاہور کے سنگت تھیٹر گروپ اور اسٹڈی سرکل سے وابستہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کے کئی کارکنوں اور مبصرین نے ان کے جذباتی انداز کی داد دی۔


لیکن ساتھ ہی بعض ناقدین نے مذاق بھی اڑایا۔ کچھ نے ان طلبہ کو ”لبرل اور لیفٹی‘‘ کہہ کر مسترد کیا تو بعض نےانہیں ”دیسی سُرخے، برگر بچے‘‘ اور کنفیوزڈ نسل قرار دیا۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئی عروج اورنگزیب نے کہا کہ انہیں اس قسم کی تنقید کی پرواہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ، ”نعرے تو ہمارے تنظیمی کام کا صرف ایک حصہ ہیں۔ ہمارا اصل کام تو سڑکوں اور محلوں میں ہوتا ہے جس کے ذریعے ہم لوگوں کو اس جدوجہد کا حصہ بناتے ہیں۔‘‘
عروج کے مطابق اس وقت تعلیمی اداروں میں بے چینی کی ایک لہر ہے اور طلبہ تحریک سے وابستہ تنظیمیں 29 نومبر کو ملک گیر احتجاج کے لیے اکھٹی ہو رہی ہیں۔ اس احتجاج کو ”طلبہ یکجہتی مارچ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

عروج کا کہنا ہے کہ اس مظاہرے کے لیے ”اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی‘‘ کے تحت چاروں صوبوں سے نوجوان اپنے جمہوری حقوق کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں۔
اس تحریک کے بنیادی مطالبات میں پاکستان میں طلبہ یونینوں پر پابندی کا خاتمہ اور قومی سطح پر ان کے انتخابات ہیں۔ یہ تحریک تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف اور مفت تعلیم کے حق میں ہے۔
بائیں بازو کی طلبہ تنظیم پروگریسیو اسٹوڈنٹ کلیکٹیو سے وابستہ نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں سکیورٹی فورسز کی مداخلت بند کی جائے اور یونیورسٹیوں اور کالجوں میں قوم، زبان، صنف یا مذہب کی بنیاد پر تعصب اور نوجوانوں کو ہراساں کرنا بند کیا جائے۔
DW.COM

اپنا تبصرہ بھیجیں