جالب کو گانے والا پاکستان، انڈیا دونوں میں ’غدار‘

نازش ظفر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

‘کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو

میں نہیں مانتا۔۔میں نہیں جانتا‘

چند ماہ قبل دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے احاطے میں جالب کی یہ نظم پڑھتے ہوئے ایک طالب علم کی ویڈیو وائرل ہوئی۔

صاف لہجہ، آواز پاٹ دار اور شخصیت پر اعتماد۔۔۔ ویڈیو میں توجہ اس جانب جاتی ہی نہیں کہ ششی دیکھ نہیں سکتے۔ طالب علم ششی بھوشن کو اس نظم نے گھر گھر جانا پہچانا نام بنا دیا وہیں پاکستان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کا نام اور کلام پھر سے گونج اٹھا، اس بار پاکستان میں نہیں۔۔ انڈیا میں۔

پہلے پہل کی یہ ویڈیو یونیورسٹی میں ہی کسی مزاحمتی مہم کے دوران وائرل ہوئی اور اس کے بعد سے اب تک انڈیا میں حالیہ مزاحمتی مظاہروں میں جالب کو ہی گایا جا رہا ہے، فیض کو ہی سنا جا رہا ہے۔

آخر جالب ہی کیوں؟
پاکستان کے اس شاعر سے ششی بھوشن کی واقفیت اور محبت کیسے ہوئی۔ بی بی سی سے بات چیت کے دوران ششی نے بتایا کہ جالب انھیں ذاتی طور پر پسند ضرور ہیں لیکن انھیں ہر وہ شاعر پسند ہے جو انقلاب کی بات کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں پاکستان میں جالب اور فیض ہیں، تو انڈیا میں مجاز، گورکھ پانڈے، اور رام شنکر یادو ہیں جنہیں سب ’ودروہی‘ (غدار) کے نام سے جانتے ہیں۔

وہ ان سب کو گاتے آئے ہیں اور ’جب جب فسطائیت بڑھے گی ان شاعروں کی آواز اور بلند ہو گی‘۔

وہ کہتے ہیں ‘کوئی گانے گاتا ہوا جیل چلا جائے تو ہمیں اس کے گانے دہرانے ہوں گے۔ انقلابی ادب سے عام آدمی کو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔ مزاحمت میں مار پیٹ سے مقصد حاصل نہیں کر سکتے۔ آواز اٹھانی ہے۔ اور بہت سے طریقوں سے اٹھانی ہے۔ تخلیقی ہونا پڑے گا۔ اس میں شاعری ہی نہیں مصوری بھی ہے۔ ہر طرح کا آرٹ ہے۔’

ششی جیسے نوجوان تو ادب کے طالب علم ہیں لیکن کیا جامعہ ملیہ یا جے این یو کے باہر بھی عام نوجوان اردو شاعری سے ایسے ہی واقف ہے۔


Image caption
چنئی اور کیرالہ جیسی جنوبی ریاستوں میں بھی کوک سٹوڈیو نے اردو پہنچا دی ہے: سوشانت سنگھ
دی انڈین ایکسپریس اخبار کے ڈپٹی ایڈیٹر سوشانت سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دہلی جیسے شہر کو چھوڑیے، چنئی اور کیرالہ جیسی جنوبی ریاستوں میں بھی کوک سٹوڈیو نے اردو پہنچا دی ہے۔ اور جب فیض کو سٹوڈیو میں گایا گیا تو انڈیا میں عام آدمی تک پہنچ گیا۔‘

خود ششی سے یہی سوال کیا تو ہنستے ہوئے کہا ’ہم بھی اب ‘بھاشا’ نہیں بولتے ‘زبان’ بولتے ہیں‘۔

یعنی اردو انڈیا میں روزمرہ بات چیت میں شامل ہوچکی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’عالمگیریت اور انٹرنیٹ کے اس دور میں لوگ ٹی وی کم دیکھتے ہیں اور فون پر زیادہ مواد دیکھتے ہیں۔ تو انہیں صرف وہ ہی دکھائی نہیں دے رہا جو سرکار دکھا رہی ہے بلکہ وہ خود دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں کیا چل رہا ہے‘۔


بات پھر پاکستان کی چل نکلی تو ایک مماثلت اور نکلی۔ کہنے لگے ’وہاں جالب کے چاہنے والوں کو غدار کہا گیا اور یہاں انڈیا میں بھی ہمیں یہی نام دیا گیا‘۔

جے این یو میں اتوار کے دن ہونے والے حملوں میں ششی بھی بال بال بچے۔ شدت پسندی کی اس لہر اور انڈیا کے سیاسی مستقبل کی بات ہوئی تو تاسف اور تشویش کا اظہار یوں کیا۔

’آج اگر آر ایس ایس یا بی جے پی کو معلوم ہو کہ میں نے پاکستان کی ‘پترکار’ (صحافی) سے یہ گفتگو کی تو مجھے پاکستان ہی چلے جانے کو کہہ دیں گے۔’

میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک نہایت اہم وقت ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ کھل کر بات کرنے کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے (طلباء کے ساتھ) کھڑے ہو کر بہت سی چیزوں کو داؤ پر لگا دیا ہے: دیپیکا
صحافی سوشانت سنگھ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ فیض اور جالب پہلے بھی انڈیا میں معروف رہے ہیں لیکن حالیہ دور میں پاکستان کو سیاسی سطح پر بدنام کرنے کی باقاعدہ مہم کے نتیجے میں ایک مزاحمت پیدا ہوئی ہے۔

‘جالب اور فیض کی نظموں کی مخالفت کرنے والے اسے ہندو مسلمان تفریق کو گہرا کرنے کے لیے اس پر اعتراض کر رہے ہیں۔ لیکن اس کا الٹا ہی اثر ہوا ہے۔ فیض اب ہر طرف گائے جا رہے ہیں’۔

انڈیا میں یہ مزاحمتی نظم پڑھنے والے زیادہ تر افراد بیس بائیس برس کی عمر کے نوجوان ہیں۔

سوشانت سنگھ کے خیال میں اس عمر کے لوگ انٹرنیٹ کی مدد سے ترجمہ دیکھ سکتے ہیں جبکہ اس سے پچھلی نسل کے پاس یہ سہولت نہیں تھی۔ ’اس طرح پاکستانی شاعروں کی مقبولیت نوجوان نسل میں آسانی سے بڑھی ہے‘۔

خیال رہے کہ انڈیا میں اتوار کو جواہر لال یونیورسٹی میں نقاب پوش افراد کے حملے کے بعد سے اب تک طلبا احتجاج کر رہے ہیں جبکہ اس سے قبل انڈیا میں شہریت کے ترمیمی بل کے بعد سے کئی شہروں میں مظاہرے اور پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔

ان مظاہروں میں پاکستانی انقلابی شاعروں کی شاعری پڑھنے کے خلاف شکایات درج کی گئی ہیں۔ لیکن شاعرِ عوام کہلائے جانے والے حبیب جالب کے کلام نے ایک بار پھر جنم لیا ہے، پنجاب کی سڑکوں پر نہیں، دہلی کی مہرالی روڈ پر۔۔ اس بار ضیا الحق کے جبر کے خلاف نہیں بلکہ مودی سرکار کے دربار کے خلاف۔

بشکریہ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اپنا تبصرہ بھیجیں