‘طالب علم کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والوں کو عبرتناک سزا دی جائے’

علماء، سیاسیتداں اور سماجی کارکن بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے خلاف اواز بلند کریں، متاثرہ طالب علم کے والد اور وکیل کی اپیل

رپورٹ: اقبال سالک

اسکردو:

اسکردو میں مبینہ اجتماعی جنسی درندگی کا نشانہ بننے والے طالب علم کے والد نے کہا ہے کہ اس کے بیٹے کے ساتھ ظلم کی انتہا کی گئی ہے. انہوں نے متعلقہ اداروں، عدالتوں، انسانی حقوق اور سیاسی کارکنوں سے اپیل کیں کہ وہ ان کو انصاف کے حصول میں مدد دیں اور مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے اور معاشرے کو بچوں کے لئے محفوظ بنایا جائے.

اتوار کے روز اپنے والد اور وکیل کے ہمراہ مقامی نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے متاثرہ طالب علم نے کہا کہ ملزمان مظفر، تجمل اور مبارک نے مبینہ طور پران کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور ان کی ویڈیو بھی بنائی جس کے زریعے انیوں نے اسے بلیک میل کر کے چھے ماہ تک جنسی تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور ان سے رقوم بھی وصول کرتے رہے. وہ ان کی دوکان سے چیزیں بھی مفت میں لے جاتےرہے.

متاثرہ طالب علم نے بتایا کہ ملزمان نے ان کو شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بناتے رہے. "میرے انکار پر وہ مجھے دھمکیاں بھی دیتے تھے کہ اگر میں نے ان کا کہنا نہیں مانا تو وہ ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر شائع کریں گے”. انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان وحشیوں کو سخت ترین سزا دی جائے.

متاثرہ طالب علم کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ درندہ صفت ملزمان نے اُن کے بیٹے اور ان کے خاندان کی زندگی تباہ کر دی ہے، مجھے انصاف دلایا جائے.
انہوں نے میڈیا، سیاسی کارکنوں، اور حقوق انسانی کے کارکنوں سے اپیل کیا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے ان کا ساتھ دیں.

متاثرہ طالب علم کےوکیل عباس سفیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ طالب کے ساتھ درندگی کرنے والے مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانے میں بھرپور کردار ادا کریں گے اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے، کیونکہ انیوں نے حیوانیت اور سفاکیت کی انتہا کردی ہیں

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر علماء کی خاموشی معنی خیز ہے۔ بہت سے غیر ضروری معاملات پر آئے روز وہ گھنٹوں وعظ کرتے رہتے ہیں لیکن سماجی مسائل پر نہیں بولتے ہیں. انہوں نے کہا کہ علماء کو اس معاملے پر آواز بلند کر نا چاہئے اور متاثرہ خاندان کا ساتھ دینا چاہئے اور اس قسم کے سماجی مسائل پر مساجد میں لوگوں کو آگاہی اور شعور دینے کی ضرورت ہے.
ایڈووکیٹ سفیر نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو بھی چاہئے کی سماجی مسائل کو اپنے منشور اور سیاسی مہم کا حصہ بنائیں تاکہ لوگوں میں شعور پیدا ہو اور وہ اس قسم کے جرائم پر خاموش رہنے کی بجائے آواز بلند کریں.

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے مسائل کو خالصتآ سماجی مسئلہ کے طور پہ دیکھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے.

انہوں نے کہا پولیس نے متاثرہ طالب علم کی درخواست پر فوری کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا اور ان سےویڈیوز کے ثبوت قبضے میں لی ہیں.
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مظلوم کو انصاف ملے گی.

خیال رہے پاکستان میں بچیوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے. ایک رپورٹ کے مطابق ہر روز آٹھ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے.
گلگت بلتستان مین بھی اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے. پہلے لوگ اس کو عزت کا مسئلہ بنا کر دباتے تھے اور خاموش رہتے تھے لیکن اب تعلیم اورسماجی شعور میں اضافہ ہونے سے لوگ اس قسم کے جرائم کو رپورٹ کرتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں