جنگلی حیات کا تحفظ: نوجوانوں کے بغیر برفانی تیندوں کو محفوظ بنانے کا کام ناممکن

جنگلی حیات کو محفوظ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ ایشیا میں برفانی تیندوں کی نسل کو مقامی نوجوانوں کی مدد کے بغیر بچانا ایک نامکمن کام ہو گا۔

جنگلی حیات کے ان ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ برفانی تیندوں کی اصل تعداد معلوم کرنے کے لیے گنتی کا کام جاری ہے جس میں ان کے بقول مقامی نوجوان ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

برفانی تیندوں کی عالمی اور ایکو سسٹم پروٹیکشن پروگرام کے بین الاقوامی رابطہ کار کوشٹوب شرما کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے بغیر برفانی تیندوں پر تحقیق اور ان کو محفوظ بنانے کا کام کرنا تقریباً نامکمن ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایشیا کے پہاڑی سلسلوں میں انتہائی دشوار گزار علاقوں اور شدید موسمی حالات میں نگرانی اور بار بار جا کر سروے کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور ماہرین یہ کام نہیں کر سکتے جس کے لیے وہ مقامی نوجوانوں پر انحصار کرتے ہیں۔
بی بی بی نے پاکستان، روس، منگولیا اور نیپال میں جنگی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے نوجوانوں سے بات کی اور ان سے پوچھا کہ وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہنے والے ان جانوروں کو ڈھونڈنے اور بچانے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

پاکستان کے علاقے پاسو کے 23 سالہ غلام قادر

پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کے گاؤں پسو میں کچھ سال پہلے تک برفانی تیندوے اکثر خوارک اور پالتو جانوروں کے شکار کی تلاش میں نکل آتے تھے۔ مقامی لوگ جن کے پالتو جانور یہ برفانی تیندوے کھا جاتے تھے وہ ان تیندوں کو زہر دے کر ہلاک کر دیتے تھے۔

غلام قادر نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں برفانی تیندے بہت کم نظر آتے ہیں اور وہ پہاڑیوں پر ہی خوش رہتے ہیں آپ کو پتا ہے کیوں؟

خود ہی جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے پسندیدہ شکار ہمالیہ آیبیکس یا مارخور کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ برفانی تیندوں کے لیے اب پہاڑوں پر کافی مقدار میں خوراک میسر ہے اس لیے وہ گاؤں والوں کی بھیڑ اور بکریوں کا شکار کرنے پہاڑوں سے نیچے نہیں اترتے۔

قادر نے کہا کہ وہ ’ٹرافی ہنٹنگ‘ کھیل کے مداح کی حیثیت سے شکار بننے والے جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کر رہے جس سے برفانی چیتوں کو بھی محفوظ بنانے میں مدد ملی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کا کام صرف لائسنس یافتہ شکاریوں کے ہمراہ شکار پر جانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ صرف ان پہاڑی بکروں کا شکار کریں جن کے سینگ 38 انچ سے زیادہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے لائسنس یافتہ شکاری بہت کم پہاڑی بکروں کا شکار کر پاتے ہیں کیونکہ زیادہ عمر کے نر بکروں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ماضی میں شکاری کسی بھی عمر کے پہاڑی بکرے کا شکار کر لیتے تھے جس سے ان کی تعداد کم ہو گئی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اب بکریوں کا شکار ممنوع ہے اور ان بکروں کا شکار بھی منع ہے جن کے سینگ 38 انچ سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان پابندیوں کی وجہ سے پہاڑی بکروں کی آبادی بڑھ گئی ہے اور جس کا فائدہ برفانی تیندوے بھی اٹھا رہے ہیں۔

غلام قادر نے جنگلی حیات کے تحفظ کا کام اپنے والد سے سیکھا تھا جو خود بھی ایک ’گیم واچر‘ تھے۔

اپنی کم عمری میں انھوں نے پہاڑی بکروں کے تعداد میں اضافہ ہوتے دیکھا کیونکہ ان کے والد اور ان کے ساتھیوں نے شکار پر سرکاری پابندیوں پر عملدر آمد کو یقینی بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔

اپنے والد کے کام پر فخر کرنے والے غلام قادر اب برفانی تیندوں پر سروے اور تحقیق کے کام میں مدد کرنے کے بارے میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ اس شعبے کے ماہرین اور سائنسدان یہاں آ کر تحقیق کا یہ کٹھن کام کرنا نہیں چاہتے اور وہ خود سے یہ کام نہیں کر سکتے۔‘

انھیں اس کام سے اتنی لگن اور دلچسپی ہے کہ تین سال پہلے باتور کے علاقے میں برفانی تیندوں پر تحقیق اور سروے کرنے والی ٹیم میں سامان اٹھانے والے مزدور کے طور پر شامل ہو گئِے۔

انھوں نے کہا کہ وہ پہاڑی بکروں کے تحفظ کا کام کرتے رہیں گے تاکہ برفانی تیندوں کو پہاڑوں ہی میں اتنا شکار ملتا رہے کہ وہ پہاڑوں سے نیچے اتر کر انسانی آبادیوں میں نہ آئیں جہاں ان کے خود شکار ہو جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

منگولیہ کی 20 سالہ بیارما چولونبات

منگولیا کے شمال میں ڈھائی ہزار کلومیٹر دور صوبے خوود میں ایک ماہر ماحولیات بننے والی نوجوان خاتون بیارما ان پہاڑی علاقوں کا دورہ کرتی رہتی ہیں تاکہ وہ مقامی چرواہوں کو یہ سمجھا سکیں کہ آپ برفانی تیندوں کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔

یہ وہی خطہ تھا جہاں چند سال قبل، انھوں نے اپنے ساتھی نوجوان کارکنوں کی مدد سے 250 سے زیادہ ایسے پھندے ہٹائے تھے جو برفانی تیندوں کو پکڑنے کے لیے لگائے گئے تھے۔

اس 20 سالہ نوجوان کا کہنا ہے کہ ’خطے میں برفانی تیندوں کو اب بھی مقامی افراد اور شکاریوں ہی سے خطرہ ہے۔ ہمیں اب بھی مختلف مقامات پر چیتوں کو پکڑنے کے لیے جال یا پھندے دکھائی دیتے ہیں اور میں اس پر افسوس ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’میں شاید شکاریوں کے بارے میں کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوں، لیکن میں مقامی لوگوں کو آمادہ کرنے کی کوشش کرسکتی ہوں کہ اس نسل کو بچانا ان کے مفاد میں کیوں ہے۔‘

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے حالیہ تخمینے کے مطابق منگولیا میں تقریباً ایک ہزار برفانی چیتے ہیں، جو چین کے بعد ان کی دنیا میں دوسری بڑی تعداد ہے۔

جنگلی حیات کا تحفظ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران اس خطے میں مویشیوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ برفانی تیندوں کی آبادی کو زیادہ مسئلہ ہے۔

مویشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مطلب ہے کہ نشیبی چراگاہیں ختم ہو گئیں ہیں، لہذا ریوڑ کو بہتر چراگاہوں کی تلاش میں اونچائی پر جانا پڑتا ہے جو انھیں برفانی تیندوں کے قدرتی مسکن میں لے جا رہی ہے۔

اور جب مویشیوں کو ان اونچائی والی چراگاہوں میں چرنا پڑتا ہے، تو اس سے ہمالیائی ایبیکس جیسے جانوروں کی چراگاہیں کم پڑ جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں برفانی تیندوے پریشان ہوتے ہیں، لہذا وہ خوراک کے لیے مویشیوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔

جس کی وجہ سے بکروال غصے میں آکر ان تیندوں کو زہر دے کر یا پھندے لگا کر مار دیتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’مقامی افراد کو ایسا نہ کرنے پر آمادہ کرنا کل بھی مشکل تھا اور آج بھی مشکل ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں تک کہ جب میں انھیں برفانی تیندوں کو نہ مارنے کے لیے قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہوں، تو وہ تب بھی مارموٹس کو کھانے کے لیے پکڑنے کے لیے جال اور پھندے لگاتے رہتے ہیں اور برفانی تیندوے اسی جال میں پھنس جاتے ہیں۔‘

بیارما کم عمری سے ہی برفانی تیندوں کا تحفظ کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ ان کے تحفظ میں مدد دینے کے لیے ایک ایسی تصویر دیکھ کر راغب ہوئی تھی جس میں کسی برفانی چیتے کی ایک ٹانگ پھندے میں پھنس گئی تھی۔

وہ کہتی ہیں’ میں اس رات سو نہیں سکی تھی، وہ تصویر بار بار میری نظروں کے سامنے گھومتی رہی خاص کر برفانی چیتے کی پھندے میں پھنسی ہوئی ٹانگ کا منظر اور میں یہ سوچنا ختم نہیں کر سکی کہ وہ اس جانور کے لیے کتنا تکلیف دہ ہو گا۔‘

’میں بہت پریشان تھی کیونکہ جب میں چھوٹی تھی تو میرے والد مجھے پہاڑوں پر برفانی چیتے دکھاتے تھے۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ یہ چیتے امن کی علامت ہیں۔ وہ کہتے تھے اگر یہ محفوظ ہیں تو ہم سب محفوظ ہیں۔‘

بیارما نے کچھ کرنا کا تہیہ کر لیا تھا اور 15 برس کی عمر میں ہی انھوں نے اپنے سکول کے ایکو کلب یعنی جنگلی حیات کے تحفظ کے کلب میں اپنی دوستوں کے ساتھ مل کر پہاڑوں سے ان پھندوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اب وہ منگولیا یونیورسٹی میں ماحولیات کی تعلیم حاصل کررہی ہے لیکن وہ برفانی تیندوں کے تحفظ کے متعلق آگاہی پیغامات کو مختلف شہروں اور دیہات تک پھیلانے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کر رہی ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف منگولیا کے سیلینج گانٹمور کا کہنا ہے کہ ’ہم نے انھیں سکول کے بچوں سے اپنے جنگلی حیات کے تحفظ کے کام کے بارے میں بات کرنے کی دعوت دی ہے اور انھوں نے بہت سے نوجوانوں کو متاثر کیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں برفانی تیندوں کے تحفظ کے کام کو جاری رکھنے کے لیے بیامار جیسے مزید نوجوانوں کی ضرورت ہے۔‘

ارکن ٹیڈیرو، روس

پچھلے سال روس میں برفانی تیندوں کی آبادی کی ایک مردم شماری کے دوران، سخت موسمی حالات کا مطلب تھا کہ ان کے قدرتی مسکن کے زیادہ تر حصے تک رسائی ممکن نہیں تھی۔

جس کے نتیجے میں ماہرین صرف 51 تیندوں کی تعداد کا پتا لگا سکے تھے جو سنہ 2019 کے مقابلے میں 15 کم تھی۔

روس کی الٹائی جمہوریہ کے ضلع کوش اگاچ کا سیلیجیمسکی قومی پارک ایسی ہی ایک جگہ تھی کیونکہ گذشتہ موسم سرما میں پارک کے علاقے میں موجود دریا منجمد نہیں ہوئے تھے لہذا ان کو عبور نہیں کیا جا سکا تھا۔

فروری میں جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہرین ایک بار پھر کوشش کرنے کے خواہاں تھے، لیکن غیر متوقع طور پر بارش ہوئی جس کے نتیجے میں برف کی بجائے برف کی موٹی پرت پڑ گئی۔

لیکن یہ سرد اور شدید موسم وہاں موجود ایک 23 سالہ روسی نوجوان ارکن ٹیڈیرو کے حوصلے پست نہیں کر سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ’میں اس وقت بھی کام کر سکتا ہوں جب یہاں منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ ہو، کیونکہ میں اس جگہ سے تعلق رکھتا ہوں، میں یہاں کے ہر کونے کو جانتا ہوں۔‘

’سائنس دانوں نے مجھے درختوں اور چٹانوں پر برفانی چیتوں کے چھوڑے ہوئے نشانات دیکھنا اور کیمرہ کے جال کو کیسے لگانا ہے سیکھایا۔‘

ڈبلیو ڈبلیو ایف کا اندازہ ہے کہ روس میں 70 سے 90 برفانی تیندوے ہیں اور الٹائی جمہوریہ میں ان میں سے نصف کی آبادی موجود ہے۔

سییلیجیمسکی نیشنل پارک کے ڈائریکٹر ڈینس مکیلوف نے کہا کہ ’ہمارے خطے میں برفانی چیتوں کی نگرانی اور گنتی صرف ارکن جیسے مقامی نوجوانوں کی وجہ سے ممکن ہو سکی ہے ، جو اس جگہ اور جانوروں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔‘

اپنی ملازمت کی ایک ذمہ داری کے طور پر، ارکن پارک کے رینجرز کو کسی بھی مشتبہ غیر قانونی شکار سے بھی آگاہ کرتا ہے۔

جب وہ یہاں آئے تھے تو وہ ایک کم عمر لڑکے تھے جو ایک بکروال گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے والد ایک شکاری تھے۔

لیکن 2010 میں منگولیا، چین اور قازقستان سے متصل اس قدرتی تنوع سے مالا مال خطے کو قومی پارک قرار دے دیا گیا اور اس کے والد کو پارک کے دورہ کے مرکز میں ایک گارڈ کی نوکری مل گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے والد نے خطے میں برفانی تیندوے کے تحفظ کی کوششوں کے بارے میں سیکھا اور مجھے ان کے بارے میں سکھایا۔‘

سنہ 2015 میں اپنے والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد ارکن نے خود اس پارک میں ایک گائیڈ کے طور پر کام شروع کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اکثر پارک میں مقامی لوگوں اور شکاریوں کے لگائے ہوئے پھندے بھی دیکھتے ہیں۔ مقامی افراد انھیں عام طور پر بھیڑیوں کو پکڑنے اور اپنے مویشیوں کو مارنے سے روکتے ہیں لیکن برفانی تیندوے بھی ان میں پھنس سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں ان پھندوں کو دور کرنا چاہتا ہوں اور مقامی لوگوں اور ان کو لگانے والے شکاریوں کو روکنا چاہتا ہوں، لیکن اس کے لیے مجھے زیادہ اختیارات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ میں ایک رینجر بننا چاہتا ہوں لہذا میں برفانی چیتوں کو بچانے کے لیے بہتر پوزیشن میں آ جاؤں۔‘

یہ جاننا کیوں مشکل ہے کہ برفانی تیندوں کی دنیا میں کل تعداد کتنی ہے؟

عالمی برفانی چیتے اور ایکو سسٹم پروٹیکشن پروگرامز ہمالیہ کے خطے اور وسطی ایشیا کے 11 ایشیائی ممالک اور روس میں بھی کام کر رہے ہیں تاکہ دنیا میں برفانی تیندوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکے۔

یہ تحقیق سو سے زیادہ سائٹس پر ہو رہی ہے کیونکہ سائنس دان فی الحال اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ عالمی سطح پر کتنے برفانی تیندوے موجود ہیں۔

2018 میں، آئی یو سی این نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ دنیا بھر میں 7000 سے 8000 برفانی تیندوے موجود ہیں لیکن کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ تخمینہ بہت زیادہ ہے۔

برفانی تیندوں کے قدرتی مسکن کی حد 20 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے اور وہ ناقابل یقین حد تک سفر کر سکتے ہیں جس سے یہ محققین کے لیے بہت مشکل ہے۔

اس خاص نسل کو انسانی تجاوزات، موسمیاتی تبدیلی، غیر قانونی شکار، کسانوں کے ہاتھوں انتقامی قتل، ان کی خوراک کی قلت اور سکڑتے مسکن کے باعث معدومیت کے خطرات کا سامنا ہے۔ اور اگر ان کا تحفظ نہ کیا گیا تو چند ماہرین کے مطابق یہ بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔

ڈبلیوڈبلیو ایف انٹرنیشنل کے برفانی تیندوں کے تحفظ کے سربراہ رشی کمار شرما نے بی بی سی کو بتایا:

’ہمالیہ سمیت وہ پہاڑی سلسلے جو برفانی تیندوں کا قدرتی مسکن ہیں وہ زمین کی صحت کے اہم اشاروں میں سے ایک ہیں۔ لہذا برفانی تیندوں کا تحفظ کرنا دنیا کے اس اہم محولیاتی نظام کو بچانے اور توازن قائم رکھنے کا ایک جزو ہے۔‘

— بشکریہ: نوین سنگھ کھڈکا, بی بی سی ورلڈ سروس

اپنا تبصرہ بھیجیں