جی بی کے طلباء کے لئے اضافی بسیں چلائی جائیں، حفیظ الرحمٰن

بام جہان رپورٹ

اسلام آباد: وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن نے نیٹکو کے حکام کو ھدایت کی ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے طلباء جو مختلیف شہروں سے واپس آرہے ہیں ان کے لئے اضا فی بسوں کا انتظام کریں تاکہ وہ جلد از جلد اپنے گھروں میں پہنچ جائیں۔

انہوں نے ابلاغ عامہ کے سماجی پلیٹ فارم پر شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کیں کہ راولپنڈی اور پاکستان کے دیگر شہروں میں پھنسے ہوئے طلباءکو سہولت فراہم کریں اور انہیں اپنے گھر پہنچنے کے لئے اضافی بسیں اور کوچز چلائیں۔

دریں اثناء گلگت بلتستان کےہوم سیکریٹری محمد علی رندھاوہ نے اپنے ٹویٹر پیج پر راولپنڈی کے کمشنر سے اپیل کی ہے کہ وہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو متحرک کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ راولپنڈی سے گلگت بلتستان کے لئے چلنے والے بسوں اور ویگنوں کے کرایہ ناموں کی چھان بین کریں اور طلباء سے معمولی کرایہ وصول کرنے کو یقینی بنائیں۔

گلگت بلتستان کے محکمہ ٹیکسیشن اور ایکسائز نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت ایسے ٹرانسپورٹ کپنیوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے گی جو سرکاری نرخ نامہ سے زیادہ کرایہ وصول کریں ہیں۔

حکومت پاکستان نے کرو نا وائرس کے وباء کے پھیلنے کے پش نظر تمام تعلیمی اداروں کودو ہفتوں کے لئے بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور تمام ہوسٹلوں کو بھی بند کرنے اور مکینوں سے خالی کرنے کو کہا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ملک کے مختللف شہروں میں زیر تعلیم سینکڑوں طلباء اپنے ابائی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ لیکن جیسا کہ اس قسم کے ہنگامی صورتحال میں دیکھنے میں آتا ہے، منافع کی لالچ میں نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور رینٹ اے کار والوں نے منافع خوری کرتے ہوئے کرایوں میں بے تحاشا اضافہ کیئے ہیں جس کی وجہ سے طلباء سخت پریشان ہیں۔
سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق پرئویٹ کار سروس والے ایک مسافر سے ہزار 6 تا 7 ہزار روپے کرایہ طلب کر رہے ہیں جو عام حالت میں ایک ہزار سات سو  (1700) بنبتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مسافر خاص طور پر طلباء شدید پرہشان ہیں اور بسوں کی کمی کی وجہ سے راولپنڈی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں