حسن بن صباح اور ڈاکٹر فرحان کامرانی کی روایتی تحقیق

تحریر: عافیت نظر

یوں تو قرآن پاک اوراحادیث نیوی ﷺ میں باربار عقل کے استعمال، غوروفکر،علم، سوال اورتحقیق سے متعلق بہت سی ایسی ہدایات ہیں، جن پر اہل علم اور اہل تحقیق تواتر کے ساتھ لکھتے آئے ہیں اورلکھتے رہیں گے۔اور تحقیق ایک ایسا کام ہے، جس میں بہت ہی زیادہ عرق ریزی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قرآن پاک اور احادیث کی مذکورہ ہدایات کا نچوڑ تحقیق ہے۔ کیونکہ تحقیق اچھی طرح سے غور و فکر کرنے، سوالات پو چھنے اور عقل کے استعمال کے بغیر ناممکن ہے۔ لیکن بدقسمتی سے مسلم معاشروں میں تحقیق کرنے والوں کا فقدان ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تحقیق ہوتی ہی نہیں اوراگردوچند حقیقی محقیقین ہیں تو ان کے کاموں کو پڑھنے والوں کا قحط الرِّجال ونساء ہیں۔ اس کی وجہ بھی سیدھا سادہ ہے کہ ایسے ادارے بہت کم ہیں جہاں صحیح معنوں میں تحقیقات پر توجہ دی جاتی ہوں اور پھر ان تحقیقات کے نشرو اشاعت کا اہتمام کیا جاتا ہو۔

تحقیق سے وابستہ لوگوں کی یہ خوبی ہے کہ ایک دفعہ ان کے کسی کام میں کسی نقص کی نشاندہی کی جائے تو وہ نہ صرف اسے قبول کرتے ہیں بلکہ اپنی تحقیقات کی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس قسم کی تحقیق کے لیے انسان کے اندرانکساری، حلیمی، حوصلہ اور ہمت چاہیے کہ وہ نئے حقائق یا شواہد کے سامنے آنے کے بعد اپنے تحقیقات کا از سرِنو جائزہ لیں۔ لیکن ایسے جائزے ان معاشروں کی روایات ہیں جہاں معیّاری تعلیم پر توجہ ہوں اورتحقیقات ان کی روایات کا حصّہ ہو۔ مسلم معاشروں کا المیہ یہ ہے کہ تحقیق تو دور کی باتیں ہیں، ان میں عام تعلیم پر بھی توجہ نہیں۔ مثلاً پاکستان میں اب بھی ناقابل یقین حد تک بچوں کو سکولوں میں جانے کے مواقع دستیاب نہیں ہیں۔ اس سے متعلق مختلف اعداد و شمارمختلف رپورٹس کی صورت میںانٹرنٹ پر دستیاب ہیں۔

A fanciful imagined depiction of the headquarters of Assassins, Aamut, Iran. Photo TFT

نتیجتاً تحقیقاتی کام کا انحصار شواہد اورمنابع پر کم اورافسانےپر زیادہ ہیں۔ اس کی ایک مثال حسن صباح سے متعلق معلومات سے لے سکتے ہیں، جن سے متعلقاِنھیں افسانوں کی تواتر کے ساتھ مختلف تحقیقات کے نام پر اشاعت کے ساتھ دشنام طرازی کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اوریہ سلسلہ عوام الناس کی طرف سے ہو تو قابل فہم ہے، کیونکہ ہرایک کی تعلیم کا معیّار اور لیول ایک جیسا نہیں اور تحقیق سے متعلق اکثر کی سمجھ بوجھ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لیکن یہ بات کچھ فہم سے پرے ہیں کہ خواص یا اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی انھیں افسانوں پر انحصارجاری ہے۔ مثلاً پاکستان کے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے۱۸ دسمبر۲۰۱۹ اپنے الوداعی تقریر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کےایک فیصلہ کے کچھ اقتباس پڑھے جس میں انھوں نے دہشت گردی کی تاریخ اور وجوہات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:

یہ سیاسی، نظریاتی اوراکثر مذہبی وجوہات کی بنا پر رونما ہوتے ہیں۔اور اس کی تاریخ۲۰۰ سال قبل مسیح سے ملتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایران اور شام سے تعلق رکھنے والےاسماعیلی مسلمانوں کے گروہ اساسین تک پہنچ جاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ کیونکہ انھیں حشیش دیا جاتا تھا اس لیے انھیں اساسین کہا جاتا ہے۔جو اپنے مخالفین پر حملہ کرتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے انھوں نے اپنے تقریر کے آغاز میں تحقیق کے حوالے سے کافی باتیں کیں۔ اور اس کی افادیت پر اپنے زرّین خیالات سے سامعین اور حاضریں کو نوازے۔لیکن حیّرت اس بات پر ہے کہ مذکورہ فیصلے میں اساسیں سے متعلق وہی قصّے دھرائے گئے ہیں، جسےجدید تحقیقات نے بے بنیاد قرار دیے ہیں۔

چونکہ تحقیق ایک مشقت طلب کام ہے اوراس کے کچھ اُصول و ضوابط طے شدہ ہیں۔ یہ اپنے طرف سے کسی ٹھوس شواہد کے بغیر کہانی بنانے کا نام نہیں۔ بالفاظ دیگر اس کے معین اُصول اور معیّار کو بروئے کار لائے بغیر کسی کام کو تحقیق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے چند بنیادی شرائط کو ذیل میں ریسرچ کے طور طریقے سے نا بلد قاریین کے لیے پیش کیا جاتا۔

پہلی شرط: سب سے پہلے تحقیق کیا ہے؟ کس بات کو ہم ریسرچ کہیں گے اور کونسی باتیں ریسرچ نہیں؟ اس کےکتنے اقسام ہیں؟ اس کے ڈیٹا یا شواہد کو جمع کرنے کے طور طریقے اور آلات کون کونسے ہیں؟ مقالہ کس طرح لکھا جاتا ہے؟ ریسرچ کا اخلاقی ٖضابطہ کیا ہے؟ جیسے اہم سوالات کے بارے میں جامعات میں مکمل کوسسز ماہرین کے زیر نگرانی جنھوں نے خود کئی تحقیق کیے ہوں، سےسیکھنے ہوتےہیں۔ لیکن اس کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ایک ماہر محقق کے زیر نگرانی جامعہ میں داخلہ کے بغیرمطلوبہ قابلیبت کے حامل کوئی شخص کام کرتے کرتے سیکھ سکتا ہے۔

دوسری شرط:ریسرچر کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس موضوع پرریسرچ کرنا چاہتا ہے اس موضوع پر دنیا بھر میں محقیقین کےتحقیقات کا بطور خاص جائزہ لینا ہوتا ہے کہ ان کے تحقیقات میں کیا مشترکات ہیں اور کیا چیزیں مختلف اور ان محقیقین سے کوئی پہلوان کے ریسرچز کے حدود یا لمٹیشنز کی وجہ سے رہ نہ گئے ہوں۔ اس دوران شواہد اور دلائل کا تجزیہ و تحلیل کیا جاتا ہے۔ اور اگر اس میں کوئی گیپ یا شگاف رہ گیا ہو تو اُس کو پُر کرنے کی کوشش اپنے نئے تحقیق کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس عمل کو لٹریچرریویو، یا لائبریری ریسرچ بھی کہا جاتاہے۔

تیسری شرط:لٹریچر ریویو کے ذریعے اس بات کو ثابت کرنا کہ ریسرچ کے لیے جس ایریا کا انتخاب کیا گیا ہے، یہ واقعی ایک الگ پہلو یا جہت کا کام ہے اور اس کام سے متعلقہ سابق محقیقین کے کاموں کے مختلف پہلووں کی تسلیمات کے ساتھ اپنے تحقیق کے لیے ایک مسئلہ یا بڑے سوال کا انتخاب کرتے ہیں۔اگرکسی نے پہلے ہی اس موضوع کے اس پہلوپر تحقیق کیا ہو، جس پر آپ دوبارہ کرنا چاہیتے ہیں تو اس کو ریسرچ ہی شمار نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے انگریزی میں ایک جملہ استعمال کیا جاتا ہے، جسے ری اِنونٹنگ دا وِھیل یعنی ٹائریا وِھیل کو دوبارہ ایجاد کرنا کہتے ہیں۔

چوتھی شرط: ریسرچ اِتھیکس یا تحقیق کے اخلاقیات،تحقیق سے متعلق، شرکاء،معلومات اورمنابع یا ماخذات کے استعمال سے متعلق حدود و قیود متعین کرتی ہے کہ شرکائے تحقیق (ریسرچ پارٹیسپنٹ)یا دوسرے حوالے سے محقیقین کس طرح پابند ہیں۔اس کے بعد اہم معلومات اور شواہد کی چھان بین، تجزیہ وتحلیل اور نتیجہ اخذ کرنا ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ اس باتکو یقینی بنانا کہ شواہد کو غلط انداز میں پیش نہ کیا جائے۔ جان بوجھ کر شواہد کو نظرانداز کرنا، تاکہ ایک مخصوص زاویہ کا نکالنا ممکن ہو، جیسے باریکیوں سے آگاہ ہونا اور ایسے بددیانتی سے بچنا بنیادی ریسرچ کے اصول کے اہم پہلو ہیں۔

پانچواں اورآخری نکتہ تاریخی تحقیقات سے متعلق یہ ہے کہ شواہد کے منبع یا زریعہ کیا ہیں؟ کیا یہ بنیادی منا بع (یعنی کسی وقوعہ میں شریک یا عینی شاہد یا شاہدین کی لکھی یا دیکھی ہوئی باتیں) ہیں؟یا سیکینڈری یا ثانوی (ایسے سورس جس نے کوئی واقعہ براہ راست خود نہیں دیکھا مگراُس شخص سے استفادہ کیا ہوجس نے اس واقعہ کے بارے میں بنیادی منابع یا ماخذ کودیکھا ہو، جواب ہماری پہنچ میں نہیں)؟یا کوئی اور منابع یعنی کسی تحقیق سے متعلقہ ایسی معلومات جودوسرے محققین کے تجزیہ و تحلیل وغیرہیا دوسرے شواہد جیسے پرانے عمارتوں کے آثار، نوادرات، سکّے اور دوسرے اشیا کے مطالعات سے اخذ شدہ ماہرین کی وضاحت اور معلومات پر مشتمل ہوں۔

معلومات یا شواہد کی زیادہ موزونیت اور قابل قبول ہونے کا انحصاراس بات پر ہے کہ محقق نے کسطرح کے شواہد پر انحصار کیا ہے۔ شواہد جتنا زیادہ بنیادی منابع پر مشتمل ہونگے تو اس حساب سے اس تحقیق یا نکتہ کا وزن ثانوی یا دوسرے منابع کے مقابلے میں زیادہ ہوگا۔اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ محقق کی سمجھ بوجھ کس درجہ کی ہے،جو ان مختلف منابع کا استعمال کرتے ہیں۔ (یہ بات ذہن میں رہے کہ ایک تحقیق میں تینوں طریقوں کے شواہد بیک وقت استعمال ہو سکتے ہیں)۔

بالآخر تکمیل کے بعد ایسے تحقیقات کی اشاعت کے بعد جب ان پر کوئی تنقید ہوتی ہے تو محقیق اپنے تحقیق کی دفاع یا اس کی وضاحت کرتے ہیں، اور اگر اس میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو اس کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے تحقیق میں شامل کرلیتے ہیں۔ اور نقادین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ریسرچ میں اگر کوئی شگاف یا سقم کی نشاندہی ہوجائے تودوسرا مروجہ اور مہذب طریقہ یہی ہے کہ نئے تحقیق کے ذریعے اُس شگاف یا کمی کو پُر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ تحقیق کی بنیاد شواہد، تجزیہ و تحلیل اور دلائل پر ہوتی ہیں۔ اوردلائل سے کسی نکتے کی وضاحت وتوضیع کی جاتی ہے اور انھیں سےکسی بھی تحریر یا تحقیق کی وزن بڑھتی ہے، نہ کہ گالم گلوچ اور شورمچانے کے ذریعے سے، جیساکہ حسن بن صباح سے متعلق بعض تحریروں سے عیّان ہے۔

تحقیق سے متعلق مذکورہ چند باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب ہم حسن صباح سے متعلق تحاریر(جنھیں عام لکھاریوں اور قاریین کے علاوہ ایسے لوگوں نے جن کی تحقیق سے متعلق سمجھ بوجھ مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں) کا جائزہ لیا جائے تواس بات پر حیّرت نہیں ہونی چا ہے، کیونکہ حسن سے متعلق پرائمری سورسز(بنیادی منابع اور ماخذات) میں موجود شواہد کی چھان بین پر غیریورپی خصوصاً پاکستان اور کچھ مسلم ممالک کے لکھاریوں نے توجہ نہیں دیے۔ جب کہ مغربی ممالک کے جدید تحقیقات نے ان سے منصوب افسانوں کو بے بنیاد قرار دیے ہیں۔

اس حوالے سے ایک فاضل پی ایچ ڈی فرحان کامرانی نے”حسن بن الصباح سے الطاف حسین تک” کے عنوان سے جب وہی افسانوی باتوں کی کہانی مرتب کرکے دہشت گردوں سے تانے بانے ملانے والے قصے تحقیق کے نام سے ‘ہم سب’ میں ۲۱جون ۲۰۲۰ کو اشاعت کروایا تو اس کی نشاندہی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کیونکہ پی ایچ ڈی کی ڈگری تحقیق کی بنیاد پر دی جاتی ہیں، اور کسی بھی پی ایچ ڈی سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر لکھنے سے پہلے نئے تحقیق کرکے یا اس موضوع پرجدید تحقیقات کے مطالعات سے تجزیہ و تحلیل کے ذریعے اُسے اپنے تحریر کا حصّہ بنالیں۔ مگرکامرانی صاحب کے لیے شاید لٹریچر ریویوکرنا ممکن نہ ہوسکا، شاید انھوں نے آسانی کی خاطر ایک ایسا مضمون لکھا جس کی ایک تحقیق سے وابستہ سکالر سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ مگر ان کے بقول عبدل حلیم شرر کا ناول فردوس برین اور مارکو پولو کے کہانیاں حقائق پر مبنی ہیں۔ واضع رہے کہ مارکوپولو نے اُس دور میں بہت سے مسلم ریاستوں بشمول الموت کے قلعوں کو روندھنے والے منگول دربار میں مختلف حیثیتوں میں کام کیے، اور انھوں نے مذکورہ کہانی کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ لوگوں سے سنی ہوئی باتوں پر مبنی ہے۔ اس سے یہ بات طے ہوتی ہے کہ انھوں نے الموت کے قلعوں کو ذاتی طور پر دیکھا نہیں تھا۔ کیونکہ الموت کا انہدام ۱۲۵۶ میں ہوا تھا اور مارکو پولو کا گزر ایران کے علاقے سے ۱۲۷۳ میں ہوا تھا۔مزید برآن انتہائی اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ اپنے سفر کے احوال میں انھوں نے نہ ہی حسن صباح کا نام لیا ہے اور نہ ہی ان کی طرف کوئی اشارہ ہے،جن کا انتقال ۱۱۲۴ میں ہوا تھا۔ پھر بھی کوئی اگر اس کہانی کا تعلق حسن سے جوڑنے کے خواہشمند ہیں توانھیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ مارکو پولو نےحسن صباح کے وفات کے پونے دو سو سال بعد۱۲۹۸تا ۱۲۹۹ میں، اور سقوط الموت کے چوالیس(۴۴) سال بعد قید کے دوران ایک رومان نویس رسچلو کے ذریعے لکھوایا تھا۔

حسن صباح ایک اہم تاریخی شخصیت ہے، جن کے شخصیت کےمختلف پہلو کےحوالے ہم عصر مسلم منابع میں بہت سے شواہد ہیں۔ اور قابل غور بات یہ ہے کہ اُ س دور کے مسلمان مورخین اور لکھاریوں نے باوجود اس کے کہ انھوں نے اسماعیلیوں کے حوالے سے بہت سے متنازعہ اور اختلافی باتیں لکھیں ہیں، لیکن انھوں نے کہیں بھی حشیشن ( یورپی اصطلاح اساسین کے بظاہر ماخذ) کے الفاظ ان کے لیے استعمال نہیں کیے۔ اس طرح تاریخ کے بنیادی منابع میں بہت سےشواہد ہونے کے باوجود، ان کی شخصیت کے حقیقی پہلو دب گئے اور اس کے بدلے میں یورپی صلیبی اور خصوصاً مارکو پولو کے تحاریر سے مختلف افسانوں کا جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا، کی نہ صرف اشاعت جاری رہی بلکہ فردوس برین کے افسا نہ جومارکوپولو کی تحریر سے اخذ شدہ ہے، نے ان افسانوں کوبرصغیر میں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اورتحقیق سے نابلد لوگوں نے اسے تحقیق کے طور پر قبول کیے۔

مثلاً حسن صباح اور الموت سے متعلق کچھ شواہد ہمیں ایک اہم پرائمری سورس اہلسنت سے تعلق رکھنے والے مورخ عطاملک جوینی کی کتاب تاریخ جہان گُشای سے ملتے ہیں۔ جوینی نہ صرف الموت کے انہدام کے وقت ہلاکو خان کے ہمراہ الموت میں موجود تھے، بلکہ ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان کے بقول اس نے وہاں کے ایک ایسے لائبریری کوآگ لگا دی جس کی شہرت دنیا کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ وہ حسن صباح اور ان کے ساتھیوں کے سخت مخالف تھے۔ انھوں نے اسماعیلیوں سے متعلق بہت سی باتوں کا تذکرہ بھی کیا ہے اور ان پر لعن طعن بھی۔ مگرانھوں نے کسی جنت یا حشیش کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ روایتی محقیقین کے لیے جوینی کی مندرجہ بالا باتیں تعجب کا باعث نہ ہوں، البتہ ان کے لیے درج ذیل اقتباس یقیناً ضرور قابل حیّرت ہوگی:

حسن صباح نے اپنے عمل اور آئین کی بنیاد زہد و تقویٰ، امر بالمعروف (نیکیوں کا حکم) دینے اور نہی عن المنکر (برائیوں سے روکنے) پر رکھی تھی۔ الموت میں ۳۵ سال تک ان کے قیام کے دوران کسی نے بھی ان کی ریاست میں اعلانیہ طور پر شراب نہیں پی اور نہ کسی نے شراب تیار کی۔۔۔جو ینی کی کتاب تاریخ جہان گشای کی جلد ۳ صفحہ ۲۱۰
ایسے دوسرے تاریخی شواہد موجود ہیں جنھیں یورپی اور دوسرے محققین نے اپنے تحقیقات کے ذریعے سامنے لائے ہیں، جس کی وجہ سے انھوں نے حسن، الموت، حشیش اور جنت سے متعلق افسانہ کا پردہ چاک کیے ہیں۔ لیکن طوالت کی وجہ سے انھیں یہاں پیش نہیں کیا جاتا۔ البتہ قاریین کی دلچسپی کے لیے کچھ تحقیقی کتابوں یا مقالہ جات فہرست ذیل میں دی جاتی ہے:

کتابیات
حسن صباح : حقیقت اور افسانہ از ڈاکٹر عزیراللہ نجیب، طبعہ سوم ۲۰۱۶
The Assassin Legends: Myths of the Isma’ilis by FarhadDaftary
The Eagle’s Nest: Ismaili Castles in Iran and Syria by Peter Willey

تحقیقی مقالہ جات:
Crusaders and the Construction of Assassins Mythby Aziz Ali Dad
Order of Assassins: Myth & Memory of the Nizari in Medieval Iran and Syria
Published by Marissa Rhodes
Ismaili Studies Antecedents and Modern Developments by FarhadDaftary
حسن بن صباح کی جنت، فسانہ یا حقیقت؟ از ظفر سید

یہ مضمون ہم سب میں پہلے شائع ہوا ہے

عافیت نظر ایک نوجوان محقیق، اور لکھاری ہیں.وہ انگریزی اخبار ڈان اور دیگر اردو اخبارات میں مضامین لکھتے رہتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں