خیسور: ’جس نے میرے پشتون اور پاکستانیوں کی تذلیل کی، اُس کو ہم مثال بنائیں گے‘

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیر کی شام جہاں سانحہ ساہیوال کی گونج اُٹھی، وہیں شمالی وزیرستان کے علاقے خیسور کا بھی ذکر ہوا اور اس واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ امور شہریار آفریدی نے خیسور واقعے میں مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ تین دن سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں مبینہ طور پر شمالی وزیرستان کے علاقے خیسور سے تعلق رکھنے والا ایک کمسن بچہ الزام لگاتا ہے کہ سکیورٹی اہلکار مبینہ طور پر اُس کے گھر بغیر اجازت داخل ہوئے ہیں۔
متحدہ مجلس عمل کے رکن اسمبلی مفتی عبدالشکور نے سب سے پہلے اس واقعے پر بات کی اور وہاں سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

مفتی عبدالشکور کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں رونما ہونے والا واقعہ ساہیوال میں پیش آنے والے واقعے سے بھی بڑا ہے اور یہ ریاست اور حکومت دونوں کے لیے چیلنج ہے۔

‘ہمارے بازار مسمار کردیے گئے، ہم مارے گئے، ہمیں آئی ڈی پیز بنایا گیا۔ کوئی بات نہیں، لیکن خیسور جیسے واقعات سے ہمارے دلوں کو دکھ ہوا جہاں لباس خضر میں رہزن آئے ہیں۔’

مفتی عبدالشکور کے بعد جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر اور شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور وزارت داخلہ سے واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔
وائرل ویڈیو

ویڈیو میں اس بچے نے اپنا نام حیات خان بتایا اور کہا کہ اُن کے والد اور بڑے بھائی کو چار ماہ قبل مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز اپنے ساتھ لے گئیں تھیں۔
‘وہ (سیکورٹی فورسز) ہمارے گھر آتے ہیں، چارپائی اور تکیے طلب کرتے ہیں اور پھر وہاں بیٹھ جاتے ہیں۔’

اس ویڈیو میں حیات خان نے ایک اہلکار کا نام دریا خان بتایا اور کہا کہ ‘وہ کہتے ہیں ان کا تعلق یونٹ اے کے سولہ سے ہے۔’

اس ویڈیو میں انٹرویو لینے والا حیات خان سے سوال کرتا ہے کہ اب آپ کیا چاہتے ہو؟

جواب میں حیات خان کہتے ہیں ‘میرے ابو اور بھائی کو بے شک نہ چھوڑیں، لیکن سکیورٹی فورسز کو چاھیے کہ وہ ہمارے گھر آنا بند کردیں۔’
اس بچے کی ویڈیو کے بعد ایک اور ویڈیو آئی ہے جس میں ایک شخص اپنا نام ملک ماتوڑکئی بتاتے ہیں اور کہا کہ سیکورٹی افسر جو حیات خان کے گھر گئے ہیں وہ اُن کی بہن کا گھر ہے اور بقول اُن کے سیکورٹی اہلکار نے اُن کے سامنے گھر میں خاتون کو گیس سیلنڈر کے ساتھ احتیاط کرنے کو کہا۔

’اُنھوں نے اسے یہ نہیں کہا کہ ہم یہاں بیٹھتے ہیں یا لیٹتے ہیں، بلکہ صرف نصیحت کی تھی کہ اس سلینڈر کو ہاتھ نہیں لگانا۔‘
پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ

تاہم سوشل میڈیا پر حیات خان کی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ نے اتوار کو شمالی وزیرستان کے علاقے خیسور میں بڑا جلسہ کیا اور مطالبہ کیا کہ مذکورہ بچے حیات خان کے والد اور بھائی کو رہا کیا جائے اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔

تنظیم کے سربراہ منظور پشتین نے خیسور سے واپسی پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ایک ہفتے میں اُن کے یہ مطالبات حل نہیں ہوئے تو سخت احتجاج کریں گے۔

‘جلسے میں ہزاروں لوگ آئے تھے، ہم نے اپنے مطالبات اُن کے سامنے رکھے۔ ایک ہفتے میں حل ہوئے تو ٹھیک ورنہ پھر سخت احتجاج کے لیے تیار رہیے۔
دوسری جانب پیر کو عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ویڈیو پیغام میں خیسور واقعے کو دردناک اور افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اُن کے والد اور بھائی پہلے ہی گرفتار ہیں تو سیکورٹی فورسز کیوں بار بار اُن کے گھر جاتے ہیں۔

‘پشتون تو مر مٹنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، لیکن عزت پر کوئی آنچ آئے یہ کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔’

سماجی کارکن گلالئی اسماعیل نے اسی واقعے کے خلاف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں واقعے میں ملوث اہلکاروں کی گرفتاری اور اُن کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی خط میں اُنہوں نے نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے چئیرپرسنز کو بھی مخاطب کیا۔

شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے 19 جنوری کو اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پر وزیراعظم عمران خان کو ٹیگ کر کے یہی ویڈیو شئیر کی اور ساتھ میں لکھا ‘شمالی وزیرستان خیسور کی ایک اور درد ناک کہانی۔’

بی بی سی نے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ امور شہریار آفریدی سے اس واقعے پر بات کرنے کے لئے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

تاہم قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی کے جواب میں شہریار آفریدی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ واقعے میں ملوث اہلکار کے خلاف کاروائی کریں گے۔

‘چاہے کتنا بڑا افسر ہی کیوں نہ ہو، جس نے میرے پشتون اور پاکستانیوں کی تذلیل کی، اُس کو ہم مثال بنائیں گے۔’

بشکریہ بی بی سی

اپنا تبصرہ بھیجیں