داریل اسٹوڈینٹس فیڈریشن اور کے-ایس-او بھئ آج مارچ کر ینگے

بام دنیاء رپورٹ

داریل اسٹوڈینٹس فیڈریشن اور قرارقرم اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن نے بھی طلباء یکجہتی مارچ کی حمایت کا اعلان کیا ہے.
اپنے علا حدہ علاحدہ پریس ریلزز میں گلگت بلتستان کے دونوں طلبائ تنظیموں نے اپنے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ بھر پور انداز میں طلباء مارچ میں شریک ہو کر اپنے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے آواز بلند کریں.
داریل اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے رہنماوں ممتاز داریلی(کراچی) جاوید داریلی (لاہور)، سیفاللہ داریلی (فیصل آباد)، ناصر داریلی (چیلاس)، بشیر اللہ عثمانی (ایبٹ آباد)، عزیزایللہ عثمانی (یسلام اباد)، محمد صالح (گلگت سٹی)، نے اپنے کارکنوں سے اپہل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے شہروں میں جیاں جہاں بھی طلباء یکجہتی مارچ ہو رہے ہیں اس میں شامل ہوجائیں.
وتقراقرم اسٹو ڈینٹس آرگنائزیشن نے بھی طلباء مارچ میں بھر پور شرکت کا ٍفیصلہ کیا ہے.
اس سلسلے میں قراقرم نیشنل مومنٹ کے مرکزی جنرل سیکریٹری تعارف عباس ایڈوکیٹ نے 29دسمبر کو طلبہ یکجہتی مارچ کی حمایت کرتے ہوے صحافیوں سے گفتگو کرتے کہا کہ طلبہ یونین پر پابندیوں کی وجہ سے نوجوان نسل خصوصا یونیورسٹیوں کے طلباء سیاسی عمل سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں اور جمہوری رویے فروغ نہ پانے کی وجہ سے نوجوان انتہاپسندوں کے ہاتھوں چڑھ کر معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قراقرم یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی میں فیسوں میں کمی کہ جاے تاکہ غریب طلباء بھی اعلی تعلیم حاصل کرسکیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعلیم بنیادی حق ہے کسی کو بھی علم کے حصول سے محروم رکھنا جرم ہے۔
انھوں نے قراقرم اسٹوڈنٹس آرگنایزیشن کے کارکنوں کو ہدایت کیں ہے کہ وہ پورے پاکستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں طلبہ یکجہتی مارچ میں بھرپور شرکت کریں اور طلبہ حقوق کیلیے آواز اٹھایئں-
دریں اثناء طلبا یکجہتی مارچ کے آرگنائزرکی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں طلبا تنظیموں کے ذمہ داران اور طلبا کے ساتھ ایک نشت جمعرات کو بھی ہوئی. جس میں طلبا یکجہتی مارچ کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دیا گیا.
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار حسین نے کہا کہ طلبا یونین پہ عائد پابندی کی وجہ سے طلبا مختلف گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے طلبا کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ طلبا اپنے حقوق کے لیے باہر نکلیں اور طلبا یونین کی بحالی اور دیگر مسائل کے لیے جدوجہد کریں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عنایت ابدالی نے کہا کہ طلبا باشعور طبقہ ہوتا ہے لیکن گلگت بلتستان میں طلبا کو لسانی، فرقہ ورانہ اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا ہے۔ طلباء اپنے مشترکہ مسائل کے حل کے بجائے علاقائی اور لسانی بینادوں پرتقسیم ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ طلباء ایک ہوجائیں اور اپنے مسائل کے حل کےلیے مشترکہ جدوجہد کاآغاز کریں۔
نوجوان سماجی کارکن ارشد جگنو نے کہا کہ معیاری تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نوجوان صحافی ارسلان علی نے کہا کہ طلبا یونین نوجوانوں کی ذہین سازی میں اہم کردارکرتا ہے لیکن بدقسمتی سے طلبا یونین پہ عائد پابندی سے تعلیمی اداروں میں طلبا تقسیم ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے پڑھے لکھے لیڈرشب کا شدید فقدان ہے۔
نوجوان سیاسی راہنما عابد طاشی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں مسائل کا انبار لگا ہوا ہے۔ مسائل کا حل صرف طلبا یونین کی بحالی میں پنہاں ہے۔
قراقرم یوتھ فورم کے صدر نے کہا کہ طلبا یکجہتی مارچ کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرینگے۔انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کےلیے طلبا متحد ہیں۔
این ایس ایف قراقرم یونیورسٹی کے راہنما واجد علی نے کہا کہ قراقرام انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلبا اس مارچ میں بھرپور شرکت کرینگے اور طلبا یونین، وزیراعظم سکیم ۲۰۱۱ کی بحالی کےلیے کردار ادا کرینگے۔
نوجوان سماجی کارکن و شاعرعمران نذیر نے کہا کہ طلبا یونین کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے اس کے لیے جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہ

۲۹ نومبر کو طلبا یکجہتی مارچ گلگت پریس میں ۲بجکر تین منٹ پہ شروع کیا جائے گا تمام طلبا و طالبات کو اس مارچ میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں