دنیا بھر کے محنت کشو! اور محکوم عوام ایک ہوجاؤ

احسان علی ایڈووکیٹ

Ehsan Ali Advocate

یوم مئی محنت کشوں اور محکوم اقوام کیلئے تاریخی اھمیت رکھتا ھے یکم مئی 1886ء کو پہلی مرتبہ شکاگو کے محنت کشوں نے سرمایہ داری کے خلاف اپنی طبقاتی جنگ کو ایک نئے موڑ پہ پہنچایا۔ مزدوروں نے آٹھ گھنٹے کام اور باقی وقت آرام اور تفریع کیلئے مقرر کرنے کا مطالبہ کر ڈالا۔یہ مطالبہ دنیا بھر کے مزدوروں کیلئے اجتماعی مطالبہ تھا مگر سرمایہ داروں کے مفادات کی ترجمان حکومت کو یہ انقلابی مطالبہ منظور نہ تھا اسلئے مزدور تحریک کو کچلنے کا فیصلہ ھوا سلئے مزدوروں کی پرامن جلوس پہ فائرنگ کرکے متعدد مزدوروں کو شہید اور کئی کو زخمی کردیا مزدوروں کے چار رھنماوں کو پھانسی بھی دی گئی تاکہ مزدور تحریک کو کچلا جا سکے مگر مزدور پیچھے نہ ھٹے۔آخرکار سرمایہ داروں کو مزدور وں کے مطالبے کے آگےگھٹنے ٹیکنا پڑا۔
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم مئی ایک ایسے موقع پہ منایا جا رہاھے ھے جہاں مزدوروں پہ جبر و تشدد کے ذریعے 12 سے 16 گھنٹے جبری کام لیا جا رہا ھے مگر مزدور بھی عالمی سطح پہ زیادہ انقلابی شعور کے ساتھ جدوجہد کررھے ھیں وہ اکوپائے امریکہ اور اکوپائے یورپ کے ذریعے سرمایہ داری کو مکمل شکست دینے کیلئے ایک منظم عالمی جنگ لڑ رھےہیں اور سرمایہ داری بھی نام نہاد دھشت گردی کے خلاف جنگ اور میگا پراجیکٹس کی آڑ میں غریب ممالک کے وسائل دولت پہ قبضے کے لئے بدترین ظلم و بربریت پھیلا رہی ھے اسلئے ترقی پزیر ممالک میں مزدوروں اور محکوم اقوام کی قومی و طبقاتی تحریکوں کو بھی سرمایہ داری کے خلاف اس عالمی طبقاتی جنگ کا حصہ بنانے کی شدید ضرورت ھے تاکہ مزدوروں کسانوں محکوم اقوام اور کچلے ھوئے عوام کی الگ لڑائیوں کو آپس میں جوڑ کر سرمایے کے خلاف عالمی جنگ کو دنیا بھر میں پھیلا کر عالمی سرمایہ داری کو عبرت ناک شکست دی جا سکے۔ آج یوم مئی کا یہی پیغام دنیا بھر کے مزدوروں کچلے عوام اور محکوم اقوام کیلئے ھے۔دنیا بھر کے مزدور اور محکوم اقوام ایک ھو جاو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں