کورونا اسپتال محمد آباد کی حالت ایک ڈسپنسری کی سی ہے؛ بستر بہت خستہ اور ناقابل استعمال ہیں، مریضوں، پیرامیڈکس اور ڈاکٹروں کں شکائیت

.


رپورٹ : مہتاب الرحمٰن


گلگت: ایک طرف گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن اور ان کی میڈیا ٹیم پاکستانی چینلز پر گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور مریضوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے ان کی کامیابیوں کی تشہر میں مصروف ہے ، تو دوسری ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس جو اس عالمی وباء کے خلاف صف اول پر خدمات انجام دے رہے ہیں کی شکایت محکمہ صحت اور گلگت بلتستان کی حکومت کے ان دعوں کو جھٹلاتی ہیں ۔
ڈاکٹروں، پیرا میڈکس اور مریضوں نے دنیور محمد آباد میں کورونا کے مریضوں کے لئے بنائے گئے اسپتال اور قرنطینہ مراکز میں سہولیات کے فقدان اور حکام کی بے حسی اور عدم توجیہی کے بارے میں شکائیت کیں ہیں۔
https://www.facebook.com/HighAsiaTv/videos/315667416100870/

ایک ویڈیو کلپ جس میں ایک ہیلتھ ورکر منظور احمد جو محمد آباد کورونا اسپتال میں داخل ہیں، نے کہا کہ اسپتال میں کوئی جدید سہولت نہیں ۔
منظور احمد اپنے ویڈیو پیغام میں کہہ رہے ہیں کہ یہ ہسپتال نہیں ایک ڈسپنسری ہے جہاں زمانہ قدیم کے بیڈ پڑے ہیں جو ایک کورونا کے مریض کے لئے ناقابل استعمال ہیں انہوں محکمئہ صحت اور دیگر اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر ا س صورتحال کا نوٹس لیں اور بہتر سہولیات فراہم کریں۔
پیرامیڈیکس منظور احمد شروع دن سے مریضوں کے لئے بنائے گئےقرنطینہ سینٹرز پر ڈاکٹر اسامہ ریاض شہید کے ساتھ خدمات انجام دئے رہے تھے۔
گزشتہ دنوں منظور احمد ایک قرنطینہ سینٹر میں بے ہوش پا ئےگئے جہاں سے انہیں سٹی ہسپتال کشروٹ منتقل کیا گیا جہاں انہیں ابتدائیی طبعی امداد کے بعد قرنطیینہ سینٹر منتقل کیا گیا۔ وہاں ان کی حالت غیر ہونے پر کرونا ہسپتال محمد آباد دنیور منتقل کیا گیا ، جہاں پر ان کی حالت پہلے سے قدر بہتر ہے۔
ان کے اس شکائیت کی تصدیق کورونا ہسپتال میں گذشتہ تین مہنوں سے خدمات انجام دینے والے ایک ڈاکٹر نے بھی کی۔
ڈاکٹر سہیل نے ‘ہائی ایشیاء ہرالڈ’ اور ‘ہائی ایشیاء ٹی وی’ کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ہسپتال میں ڈاکٹرز گزشتہ تین ماہ سے مسلسل ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ بھی بیمار پڑگئے ۔
ڈاکٹر سہیل کے بقول ہسپتال میں جدید سہولیات نہیں ہیں جس کی وجہ کورونا کے مریض جسمانی بیماری کے ساتھ ذہنی بیماری کا بھی شکار ہیں ۔
انہوں کہا کہ گزشتہ تین مہینوں سے محکمہ صحت کے اعلی حکام کی طرف سے کوئی خبر گیری بھی نہیں لی گئی ہے ۔
اس سلسلے میں وزیر اطلاعات شمس میر اور ھکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق سے ان کے واٹس ایپ نمبروں پر حکومتہ موقوف جاننے کے لئے رابطہ کیا گیا تو ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا.
گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تک کل تعداد 550 سے اوپر ہو گئی ہے ۔
ہنزہ میں بھی دو مریضوں کی تصدیق ہو گئی ہے اور سات کے قریب لوگوں کو قرنطینہ میں رکھے گئے ہیں۔ کراچی سے بڑی تعداد میں لوگوں کے گلگت بلتستان آنے سے کورونا وائرس کے پھیلنے کی خدشات بڑھ گئے ہیں. ان مین سے زیادہ تر سیدھا گھروں کو جاتے ہیں اور ان کو قرنطینہ میں رکھنے کا کوئی کاطر خواء انتظام نہیں کیا گیا ہے.
غذر غالباً واحد ضلع ہے جو اب تک اس وباء سے محفوظ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں