دہشتگردی کی نفسیات

تحریر: بشیر ایچ شاہ

عام غیر جنگجو پرامن لوگوں کے خلاف جان بوجھ کر تشدد کے ذرائع کا استعمال جس کا مقصد کسی نظریاتی مذہبی یا سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کی طرف بڑھنا ہو دہشتگردی کہلاتا ہے۔

ماہر نفسیات فریڈرک ہیکر نے 1976ء صلیبی جنگجو، جرائم پیشہ افراد اور دیوانے (Crusaders، Criminals &; Crazies) کے نام سے دہشتگردی کی نفسیات پر ایک کتاب لکھی. ان کے مطابق دہشتگرد یا صلیبی حملہ آور ایک جیسی ذہنیت رکھتے ہیں یعنی وہ اس لیے دہشتگردی کرتے ہیں کہ وہ نظریاتی طور پر ایسا کرنا درست سمجھتے ہیں اور اپنی دانست میں وہ دہشتگردی سے کوئی اعلی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ صلیبی ذہنیت کو جہادی ذہنیت بھی سمجھ سکتے ہیں.

جرائم پیشہ بھی دہشتگردانہ کاروائیاں کرتے ہیں لیکن اس سے ان کا مقصد ذاتی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح دیوانے بھی دہشتگردی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ ان کے غلط ناقص عقیدے اور تصورات ہوتے ہیں جن کی وجہ کوئی نہ کوئی ذہنی بیماری ہوتی ہے۔

اگر ماہر نفسیات فریڈرک ہیکر کے دہشتگردی کی نفسیات کے بارے  میں نظریہ کو عالمی دہشتگرد تنظیموں اور افراد پر لاگو کریں تو پہلے درجے میں صلیبی جہادی ذہنیت کی دہشتگرد تنظیموں میں القاعدہ، داعش، شیو سینا، تامل ٹائیگرز، آئرش ری پبلکن آرمی، ماؤسٹ مسلح تنظیمیں، 69 بدھسٹ تحریک اور دیگر افراد میں اسامہ بن لادن زرقاوی بال ٹھاکرے چندربھرم کی طرح کے لوگ آتے ہیں۔ اسی طرح وہ جرائم پیشہ جو دہشتگردی میں ملوث ہوتے ہیں ان میں مافیا ٹائپ تنظییں جنوبی امریکہ اور دیگر علاقوں کے ڈرگ کارٹیل چارلس سوبھراج اور مافیا ڈان ٹائپ لوگ آتے ہیں۔

تیسری قسم جو ان ذہنی مریضوں کی ہے جو دہشتگردی میں ملوث ہوتے ہیں مثالیں ڈیوڈ کاروش جیسوں کی دی جا سکتی ہے جس نے اپنے پیروکاروں کو گرفتاری سے بچنے کے لیے زہر پینے کا مشورہ دیا تھا۔ خود ہمارے ملک میں سرگودھا میں ایک پیر نے اپنے مریدوں کو دو گروپوں میں تقسیم کر کے ایک گروپ کو دوسرے کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا جس سے کافی لوگ ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

امریکی انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ بحثیت ماہر نفسیات کام کرنے والے سابق اہلکار جیرولڈ پوسٹ نے علم نفسیات میں اس نقطہ نظر کو واضع کرنے کے لیے کہ دہشتگردی کا تعلق نفسیاتی امراض اور شخصیت کی خامیوں میں ہوتا ہے دہشتگردانہ رویوں کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ دہشتگردانہ رویوں کی پہلی قسم کو پوسٹ نے انارکی نظریہ کا نام دیا ہے جس کے مطابق دہشتگردوں کا تعلق عام طور پر ایسے گھرانوں سے ہوتا ہے جو شدید نوعیت کے نفسیاتی عارضوں میں مبتلا ہوتے ہیں اوریہ افراد ایک دوسرے کے ظلم و جبر اور استحصال کا شکار رہے ہوتے ہیں۔ یعنی والدین اتنے سخت گیر ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کا نفسیاتی و جسمانی استحصال کرتے ہیں ان سے عدم توجہی Neglect برتتے ہیں اس سے ان گھرانوں کے بچوں میں والدین کے خلاف سخت جذبات اور متشددانہ رویے پیدا ہوتے ہیں۔ ان متشددانہ رویوں کا اظہار وہ اپنے انتہاپسند نظریات میں کرتے ہیں اور ریاستی حاکمیت State Authority کے خلاف ایسے ہی بغاوت کرتے جیسے بچے خاص طور پر نوعمری میں والدین کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔

ہمارے ملک میں سخت گیر نوعیت کی والدینیت Parenting رائج ہے جسے ہم حاکمانہ والدینیت Authoritarian Parenting بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس لیے اس کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے تشدد پسند رویے اختیار کر لینا ہمارے ماحول میں ایک آسان کام ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری قسم قوم پرست علیحدگی پسند Nationalist Secessionist کی ہے جو جارحیت پسند نہیں ہوتا بلکہ اپنے والدین کا وفادار ہوتا ہے اور اسکی انتہاپسندی یا متشددانہ رویے کی وجہ ریاست کا اس کے والدین کے ساتھ نامناسب رویہ اور استحصال ہوتا ہے الغرض وہ خارجی معاشرہ سے بغاوت کرتا ہے جسکی وجہ اس کی والدین سے انتہا درجے کی محبت ہوتی ہے۔

ماہر نفسیات ہارگن Horgan نے اپنی کتاب دہشتگرد کی شخصیت Terrorist Personality میں دہشتگردی کے تین محرکات Motives بیان کیے ہیں۔

1۔ناانصافی یا تصوراتی ناانصافی (Perceived Injustice) یعنی ایسی ناانصافی جو شاید حقیقت میں جس کا وجود نہ ہو، لیکن دہشتگرد کو اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے جا بجا نظر آتی ہو ہمیشہ دہشتگردی کا اہم محرک رہی ہے۔

ہٹلر کا نازی جرمنی اس کی ایک مثال ہے جہاں جرمن آریا قوم پر یہودیوں جو اقلیت تھے کی ناانصافی کو حقیقی سمجھا گیا جو زیادہ تر ادراکی Perceived تھی۔ دنیا بھر میں اکثریتی قومیں نسلیں مذاہب عام طور پر اسی طرح کی تصوراتی ناانصافی کا پروپیگنڈا کرتے ہیں جو اکثر اوقات دہشتگرد کاروائیوں کا محرک بنتا ہے۔

علاوہ ازیں ماہر نفسیات ہیکر کے مطابق ایسا انصاف جو کسی کے جذبہ انتقام کو تسکین دے وہ بھی دہشتگردی کا محرک بن سکتا ہے۔ اس انتقام کی نوعیت نا صرف ذاتی ہو سکتی ہے بلکہ دہشتگرد اپنی قوم، ملک، مذہب، فرقہ، رنگ، اور نسل کی طرف سے بھی انتقام میں دہشتگردانہ کاروائیاں کر سکتے ہیں۔ خیالی ناانصافی، بغص اور کینہ میں بھی بدل سکتا ہے۔ اس کی وجوہات معاشی، نسلی، لسانی، قانونی، سیاسی، مذہبی، یا/ اور سماجی بھی ہو سکتی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس کا شکار افراد، گروہ ،ادارے، یا مختلف شعبوں کے لوگ ہوں۔ جس کی مثال لاہور میں وکلاء اور ڈاکٹروں کے درمیان تشدد کا واقعہ ہے۔ اسی طرح مختلف ادارے، افراد، اور گروہ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

2-شناخت (Identity) فرد کی نفسیاتی شناخت ایک ترقی یافتہ مستحکم شعور بلذات یا اپنے ہونے کا احساس ہے جو اپنا تحفظ اپنی بنیادی اقدار, رویوں اور اعتقادات کے ذریعے کرتا ہے۔ یعنی فرد کی خودی (Self) ان اوصاف سے مزین ہوتی ہے۔ خودی کی نشوونما علم نفسیات کے مطابق نوعمری کے دوران ہوتی ہے جب ایک فرد معاشرے میں اپنی سماجی حیثیت متعین کرتا ہے. اس عمل میں وہ مذہبی، لسانی، نسلی، فرقہ وارانہ اور معاشی گروہی وابستگی کے جذبات شدت سے محسوس کرتا ہے۔

اسی طرح فرد معاشرہ سے تعصبات بھی سیکھتا ہے جو دیگر گروہوں کے خلاف اس کی دہشتگردی کا محرک بن سکتے ہیں اور ایسا وہ اپنے اندرونی گروہوں کے مفاد کے لیے کر سکتا ہے۔ اپنی شناخت کا عمل کہ ‘میں کون ہوں؟’  فرد کو کسی دہشتگرد گروہ، اور تنظیم کے قریب کر سکتا ہے۔

سائکالوجسٹ جم گارشیا کے مطابق فرد کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر گروہ اور تنظیم کے خیالات و نظریات اختیار کر سکتا ہے تا کہ باآسانی شناخت کے بحرانی عمل سے گذر سکے۔ یورپ میں رہنے والے نوعمر مسلمانوں کی داعش میں شمولیت کی بڑی وجہ اسی شناخت کے بحران کو قرار دیا جاتا ہے۔ ذاتی شناخت کی دریافت کے عمل میں فرد اپنی شناخت کی تعریف کسی گروہ کے ساتھ اپنی وابستگی کے ذریعے کرتا ہے۔ ایک دہشتگرد گروہ کا رکن بن کر فرد اپنی شناخت کا مخمصہ دور کر لیتا ہے اور اس طرح اس کی زندگی میں معنی و مطلب پیدا ہوتے جو دراصل دہشتگرد گروہ کے نظریات اور مقاصد ہوتے ہیں۔ اس طرح دہشتگرد گروہ کے ساتھ وابستگی اس کی نفسیاتی شناخت کا اہم جزو بن جاتا ہے۔ اسی طرح کا ایک عمل وہ ہے جس میں فرد زندگی کو بامعنی بامقصد بنانے کی سعی کرتا ہے جو اسے کسی دہشتگرد گروہ کا حصہ بننے پر مجبور کرتی ہے گروہ میں شامل ہونے سے اس کی زندگی کے مقاصد و معنی کا تعین ہو جاتا ہے۔ اس طرح فرد اپنی شناخت پا لیتا ہے اب وہ مجاہد آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والا ہیرو شہید و غازی بن سکتا ہے۔

نوعمری یا نوجوانی میں عام طور پر فرد اس کوشش میں ہوتا ہے کہ وہ زندگی میں معنی و مقاصد تلاش کریں سو یہی وہ عمر ہوتی ہے جب دہشتگرد تنظیموں کی طرف کشش بڑھتی ہے اور ان کے ساتھ شامل ہو کر فرد سمجھتا ہے کہ وہ زندگی کے اعلی مقاصد حاصل کرنے لگ گیا ہے اس طرح اسے روحانی و نفسیاتی تسکین بھی ملتی ہے۔– وابستگیت (Belongingness) — انتہاپسند گروہوں میں بہت سے دہشتگردی کا رحجان رکھنے والے افراد کو نہ صرف شناخت ملتی ہے بلکہ انہی گروہی وابستگی اور جڑت تعلق کا بھی احساس ہوتا ہے۔

لیوکاباخ Lukabaugh کا استدلال ہے کہ بہت سے افراد کا متوقع دہشتگرد گروہوں کو تلاش کرنے کی وجہ اور محرک اسی وابستگیت کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ وہ افراد جنہں سماج اور معاشرہ دھتکار دیتا ہے ان سے نفرت و تعصب برتتا ہے ان کے لیے ایک دہشتگرد گروہ میں شمولیت ان کی زندگی کا پہلا موقع ہوتا ہے۔ جب کوئی ان کو دھتکارتا نہیں ان سے نفرت نہیں کرتا اور انہیں دہشتگرد گروہ خاندان کی طرح لگنے لگتا ہے۔ یہی شدید جذباتی نفسیاتی وابستگی فرد کو دہشتگرد گروہ سے جوڑے رکھتی ہے اور مشکل حالات میں بھی وہ گروہ کو نہیں چھوڑتے۔ دہشتگردوں کو ان کا اپنا گروہ ایک غیریقینی دنیا میں چھتر چھایہ اور گوشہ سکون لگتا ہے جہاں سب اس کے اپنے ہیں اور اس جیسے ہیں۔ وہ اپنی انفرادیت کو گروہ کی اجتماعیت میں ضم کر دیتا ہے بلکہ بسااوقات تو ایسا لگتا ہے کہ فرد تعصب، نفرت، اور استحصال سے پاک اس گروہی زندگی کے لیے دہشتگرد گروہ کا حصہ بنتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد دہشتگردی کرنا نہیں ہوتا۔ (جاری ہے)


بشیر ایچ شاہ ماہر نفسیات اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں