دہلی اور ممبئی میں ہندوستانی کسانوں اور مزدوروں کا لال سمندر

تحریر: پرویز فتح

برصغیر کے ایک ارب پچھتر کروڑ سے زائد انسان آزادی کے 73 برس بعد بھی بنیادی انسانی حقوق کے لیے دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ان ملکوں کی 90 فیصد سے زائد عوام اکیسویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں بھی بنیادی انسانی ضرورتوں اور انسانی حقوق سے محروم ہے۔ برصغیر، بالخصوص ہندوستان اور پاکستان کے بالادست طبقات اور افسر شاھی آزادی کے وقت سے ہی اقتدار پر قابض ہیں اور انہوں نے عوام کے آزادی کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے۔ پاکستان تو آزادی کے چند برس بعد ہی اسٹیبلشمینٹ کے کنٹرول میں چلا گیا تھا جو تقریباً اڑھائی صدیوں سے انگریز سامراج کا تربیت یافتہ اور آلئہ کار تھی، اور ‘لڑاؤ اورحکومت کرو’ کا تجربا رکھتی تھی۔ اب تو ہندوستان کی حکمران اشرافیہ بھی عوام کو تقسیم کرنے اور ان کے استحصال کو بڑھانے کے لیے ذات پات، مذہب اور لسانی تفریق کو ہوا دیتی ہے۔ انہوں نے گزشتہ ایک دھائی میں مذہبی کارڈ اس قدر بے دردی سے استعمال کیا کہ وہاں کی جمہوری اور سیکولر تاریخ اور اقدار کو ملیا میٹ کردیا۔ اس عمل نے نہ صرف ہندوستان کی جمہوری قوتوں کو نقصان پہنچایا بلکہ ترقی پسند تحریک کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان اور پاکستان میں ترقی پسند قوتوں کو یکجا کرنے اور ایک نئی تحریک پیدا کرنے کی بڑی حوصلہ افزا کوششیں ہو رہی ہیں۔ ترقی پسند قوتوں نے اتحاد اور ادغام کے ذریعے اپنے وسائل اور قوت کو یکجا کرنے اور اپنی عوامی طاقت کو دوبارہ بحال کرنے کی حوصلہ افزا کوششیں کی ہیں اور اسں کے اثرات بھی ہمیں واضع نظر آ رہے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے گلگت بلتستان میں عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی رہنما بابا جان سمیت 14 سیاسی اسیران کی رہائی کے لیے عظیم الشان دھرنا نے ہمارے ٹس سے مس نہ ہونے والی اسٹیبلشمینٹ کو مجبور کر دیا کہ جن اسیران کو انہوں نے دھشت گردی اور غداری کے جھوٹے مقدمات کے تحت 40 سے 90 برس تک سزائیں دلوائی تھیں، انہیں کسی عدالت میں پیش کیے بغیر مذاکرات اور معاہدہ کے تحت رہا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ادھر ہندوستان میں گزشتہ چند برسوں میں ترقی پسند سیاست اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں زبردست ابھار آیا۔ گزشتہ تین چار برسوں میں مزدوروں اور کسانوں کی اتنی بڑی بڑی ریلیاں ہوئی جو تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے کو نہ ملیں۔ حالیہ کسانوں کی تحریک اورممبئی میں 50,000 سے زیادہ کسانوں کے اکٹھ کو 13 روز ہو چکے ہیں۔ اب تو کسانوں نے مطالبات منظور نہ ہونے پر ممبئی کے تمام ٹول پلازوں کا کنٹرول سمبھالنے اور ملک کے دوسرے شہروں میں بھی ایسے ہی دھرنے دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ آئے ذرہ کسانوں کے مطالبات پر نظر ڈالیں:
1.احتجاج کرنے والے کسان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بےجا ٹیکسوں کی بدولت ان پر بڑھتے ھوئےقرضوں اور بجلی کے بلوں کی مکمل اور غیر مشروط چھوٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آل انڈیا کسان سبھا نے دعوایٰ کیا ہے کہ اس کی بدولت جون 2017 سے اب تک قرضوں میں جھکڑے 1،753 کسانوں نے خود کشی کی ہے۔
2. کسانوں نے کھیتوں کی پیداوار کے معاوضہ کے لئے کاشت پر آنے والی لاگت کا کم سے کم 1.5 گنا اجناس کی قیمتں مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
3. کسانوں کے مطالبات کا جائزہ لینے کے لیے بنائے گیے سوامیاتھن کمیشن کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ کمیشن کی سفارشات میں کسانوں کے مطالبات کو جائز قرار دیا گیا ہے اور رپورٹ کسی حد تک کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔
4. انہوں نے فروری میں غیر موسمی بارشوں، ژالہ باری اور گلابی بولیورم کے حملے کی وجہ سے فصلوں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
.5 ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ریاستی حکومتیں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر زرعی زمینوں پر زبردستی قبضہ بند کرے۔ کاشتکاروں کا مطالبہ ہے کہ فارسٹ رائٹس ایکٹ کو نافذ کیا جائے ، جس سے قبائلی آبادی جو کہ بہت ہی غریب اور پسماندہ ہے اس کو تحفظ فراہم ہوگا۔
ہندوستان کے مزدوروں کی 27 ٹریڈ یونینوں کے مشترکہ پلیٹ فارم نے بھی کسانوں کی جدوجہد کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے جس میں ہر سطح پر ان کے احتجاجی اقدامات میں عملی شرکت شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں متحدہ ٹریڈ یونین موومنٹ کی جانب سے 26 نومبر کو دی جانے والی اس ملک گیر عام ہڑتال اور دہلی چلو تحریک اور ملک گیر احتجاجی اقدامات کے مطالبے کے بعد مزدوروں اور کسانوں کی تاریخی جدوجہد گذشتہ چند دنوں کے دوران بھر پور انداز میں منظر عام پر آئی ہے۔
اسی طرح مشترکہ کسان تحریک نے بھی صنعتی مزدوروں کی عام ہڑتال کی حمایت اور یکجہتی کی ہے۔ انتہائی اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان میں یہ یکجہتی محض بیانات تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ یہ عملی طور پر نظر آ رہی ہے۔ دونوں مشترکہ پلیٹ فارموں کے ذریعہ یکجہتی اور حمایت کے مطالبے سے مزدوروں اور کسانوں کی تحریکوں میں وسیع پیمانے پر ہم آہنگی پیدا ہوئی اور انہیں عملی جامعہ پہنایا گیا۔ ہڑتال کی ابتدا کے روز سے ہزاروں کسانوں اور زرعی کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ ہزاروں مزدوروں اور کسانوں کے احتجاج سے اظہار یکجہتی کے لئے آج عام عوام بھی سڑکوں پر ہیں۔ بی جے پی حکومت نے مظاہرین کو قومی دارالحکومت تک پہنچنے سے روکنے کے لئے ہر قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے۔

ہندوستان کا مزدور طبقہ کسانوں کی حمایت کے لئے پوری طرح سے یکجہتی کی کاروائیوں میں مصروف ہے۔ ٹریڈ یونینوں کے مشترکہ پلیٹ فارم نے اپنے کارکنوں سے یکم دسمبر سے مقامی سطح پر مظاہروں کے لئے آل انڈیا کسان جدوجہد کوآرڈینیشن کمیٹی کے مطالبے کی مکمل حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔ مزدوروں اور کسانوں کے مابین ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کے لئے ‘ مزدور مخالف اور ملک مخالف نیو لیبرل پالیسیوں اور مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت کی تقسیم اور پولرائزنگ سازشوں کے خلاف جدوجہد کو تیز کرنے کا متحدہ راستہ اپنایا ہے۔
انتخابات سے تقریباً سال پہلے کسانوں کے اس فقیدالمثال خاموش ‘لانگ مارچ’ سے حکومت زبردست دباؤ میں ہے۔ این ڈی اے کے ایک واضح حلقہ اور شیو سینا سمیت دیگر حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتیں کسانوں کی بھرپور حمایت میں کھل کر سامنے آ گئیں ہیں۔ مقامی لوگوں کے ذریعہ سرخ پرچم لیے مارچ کرنے والے ‘لال سمندر’ نے لوگوں کے تصور کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ سیاسی کارکن اور عام شہری تاریخ میں پہلی مرتبہ کسانوں سے بات کرتے اور ان کے ساتھ سیلفیاں بناتے ہوئے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ ذات پات، رنگ، نسل اور مذہب سے بالا تر ہندوستانی محنت کشوں، کسانوں، مزدوروں اور مظلوم ومحکوم طبقات کی یہ تحرک خطے میں رواداری اور بھائی چارے کی نئی بنیادیں رکھے گی۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ اس تحریک سے خطے کی سیاست پر دوُررس اثرات پڑیں گے اور یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کی جدوجہد کو تقویت بخشے گی اور دونوں ملکوں کی عوام دشمن حکمران اشرافیہ کی نفرت اور جنگی جنونیت اور اپنے عوام کا پیٹ کاٹ کر عوامی بجٹ اسلحہ کے انبار لگانے پر خرچ کرنے سے باز آئیں گے۔
ہم ہندستان کے کسانوں کی حقوق کے حصول کے لیے جاری جدوجہد کی بھرپور حمائیت کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد کی کامیابی کی امید کرتے ھیں۔

پرویز فتح لیڈز میں مقیم ہیں اور عوامی ورکرز پارٹی برطانیہ کے رہنماء اور ساؤتھ ایشیا پپلز سالیڈرٹی ایسو سی ایشن کے کارکن ہیں ۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایروناٹیکل انجینئر ہیں اور برطانیہ کے مختلیف اخبارات میں مضامین لکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں