ذہنی دباؤ یا سماجی المیہ: ماں اپنی ہی بیٹی کو قتل کرنے کی انتہا تک کیسے آئی؟

تحریر: سحربلوچ

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کے ڈیفنس فیز 8 میں چند دن قبل ایک 28 سالہ ماں شکیلہ راشد شاہ نے اپنی دو سالہ بیٹی کو سمندر کے گہرے پانی میں ڈبو دیا۔

موقع پر پہنچنے والے لوگوں نے پانی میں ساکت کھڑی شکیلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ وہ خود بھی ڈوبنا چاہ رہی تھیں جو وہ وہاں موجود لوگوں کے روکنے کی وجہ سے نہیں کر پائی۔


سوشل میڈیا اور نیوز چینلز پر یہ تبصرے دیکھنے کو ملے کے ایک ماں اپنے ہی بچے کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش سے علم ہوا کہ شکیلہ ذہنی دباؤ کا شکار تھیں اور اس کی وجہ گھریلو ناچاقی تھی۔

پولیس نے شکیلہ کو اسی روز تحویل میں لے لیا۔ پولیس کئی گھنٹوں تک بچی کی لاش ڈھونڈنے میں ناکام رہی۔ واقعے کے دوسرے روز پانچ فروری کو بچی کی لاش دو دریا کے نزدیکی ساحل پر ملی۔

قتل بالسبب اور سمجھوتے کی کوشش

کراچی کے ساحل پر پیش آنے والے اس واقعے میں تعزیراتِ پاکستان کے تحت دفعہ نمبر 322 لگائی گئی ہے۔ یہ دفعہ اس صورت میں لگائی جاتی ہیں جب کوئی انجانے میں ایسی مجرمانہ حرکت کرے جس کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہوجائے۔ ایسی صورت میں اس شخص پر قتل بالسبب کی دفعہ لگتی ہے۔
یہ دفعہ دو سالہ بچی انعم کے قتل میں ان کی والدہ 28 سالہ شکیلہ پر پولیس کی ابتدائی تفتیش کی صورت میں لگائی گئی ہے۔

اسلام آباد میں مقیم ایڈووکیٹ نثار شاہ کہ مطابق جب کسی کیس میں انجانے میں قتل ہو جائے تو قتل بالسبب کی دفعہ لگتی ہے۔ ساتھ ہی دیعت کا قانون استعمال کرنے کی گنجائش بھی دی جاتی ہے۔

’اس میں شرعی قانون کے تحت دیعت کی رقم 30 ہزار چھ سو گرام چاندی کے وزن سے کم نہیں ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ریمانڈ کے بعد شکیلہ کو کرمنل جج کے سامنے پیش کیا جائے گا جہاں ان پر لگے الزام اور اس کے نتیجے میں فریقین کا آپس میں سمجھوتہ کرنے پر غور کیا جائے گا۔

اس وقت شکیلہ کے ساتھ ساتھ ان کے والد دلاور خان اور خاوند راشد شاہ کو دفعہ 109 کے تحت شاملِ تفتیش کیا گیا ہے اور ان کے خلاف باقاعدہ طور پر مقدمہ درج ہوگا یا نہیں یہ کرمنل جج کے سامنے جانے کہ بعد پتا چلے گا۔

شکیلہ تنہا ذمہ دار نہیں

شکیلہ راشد شاہ کا تعلق گلگت سے ہے اور وہ کراچی کے علاقے گولیمار کی رہائشی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کراچی کے ساحل پولیس سٹیشن کی ایس ایچ او، غزالہ مظہر نے بتایا کہ شکیلہ کی شادی راشد شاہ سے 2011 میں ہوئی جس کے بعد اگلے دو سالوں میں ان کے دو بچے دورانِ حمل ضائع ہوگئے۔

ایس ایچ او غزالہ نے کیس کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ دورانِ تفتیش شکیلہ نے پولیس کو بتایا کہ ان کی گھریلو ناچاقی کی بڑی وجہ ان کے دو بچوں کا ضائع ہونا اور بیٹی انعم کے پیدا ہونے کے باعث تھا۔

’ان کے شوہر رشید کو بیٹی نہیں چاہیے تھی جس کے باعث روز جھگڑا ہوتا تھا۔ ان کو روز طعنے ملتے تھے کہ لڑکی کیوں پیدا ہوئی ہے، جس کی وجہ سے شکیلہ ذہنی دباؤ کا شکار رہتی تھی۔‘

شکیلہ کے بیان کے بعد پولیس نے اس کے خاوند اور والد دلاور خان کو بھی تفتیش میں شامل کیا۔ تفتیش کے دوران شکیلہ کے والد دلاور خان نے پولیس کو 2016 میں ایک پرائیوٹ ہسپتال میں شکیلہ کے ذہنی مرض میں مبتلا ہونے کے باعث چلنے والے علاج کی طرف توجہ دلائی۔

دلاور خان نے بتایا کہ شکیلہ کا ذہنی علاج چلنے کے باعث ان کی نواسی انعم اپنے والد کے پاس رہتی تھی جبکہ شکیلہ ان کے ساتھ رہ رہی تھی۔

ایس ایچ او غزالہ مظہر کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ شکیلہ اس نہج تک کیسے پہنچی؟ساتھ میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بچی کی لاش ملنے کے بعد اس کے والد کے بجائے اس کے چچا پہنچے تھے۔ تھانے میں شکیلہ کے ساتھ اس کے خاوند کا رویہ دیکھ کر ہم اس کو اور شکیلہ کے والد کو آسانی سے نہیں جانے دے سکتے۔ کیونکہ شکیلہ کے اس عمل کی بہت ساری وجوہات ہیں جو گھوم پھر کر ان پر ہونے والے ذہنی دباؤ کی طرف توجہ لے جاتی ہے۔‘

’برسوں کے ذہنی و جسمانی بدسلوکی کا نتیجہ‘

اس بارے میں بات کرتے ہوئے لاہور میں ذہنی امراض کی معالج ڈاکٹر تانیہ آدم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کو ایک فرد سے منسوب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک بہت بڑے سماجی مسئلے کی نشاندہی کررہا ہے۔

’شکیلہ کے ساتھ ہونے والا واقعہ برسوں کے ذہنی و جسمانی بدسلوکی کا نتیجہ ہے۔ بیٹا پیدا نہ کر پانے کی وجہ سے ان کو روز باتیں سنائی جاتی رہیں اور جسمانی طور پر استعمال بھی کیا جاتا رہا۔‘

’جب ایک انسان کئی برسوں تک ذہنی و جسمانی تشدد برداشت کرتا ہے تو وہ ایک نہج پر پہنچ کر حقیقت سے دور ہوجاتا ہے۔ شکیلہ نے جو کیا وہ اسی ذہنی صورتحال میں رہتے ہوئے کیا۔‘

ڈاکٹر تانیہ آدم خان کا مزید کہنا تھا ’ہمیں پوچھنا یہ چاہیے کہ ذہنی امراض کا شکار لوگ جہاں ویسے ہی اس معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لیے ریاست کی طرف سے کیا سہولیات مہیا کی گئی ہیں؟`

بشکریہ بی بی سی

اپنا تبصرہ بھیجیں