روشن خیالی، ہنزہ کی عورت اور سیاست کامیدان

میمونہ عباس

ایک طرف تو آپ کی غیرت کو یہ تک گوارا نہیں کہ ہنزہ کی عورت کھیل کا میدان سجائے جبکہ دوسری طرف اسی عورت کی عملی سیاست میں غیر حاضری آپ کا دل جلائے جاتی ہے۔ بھئی میں تو مان گئی آپ کو!
یہاں کچھ ہو نہ ہو روشن خیالی تو ہے زوروں پر۔۔۔

مگر خیال رہے کہ اسی روشن خیالی سے آپ کی نام نہاد غیرت بھی جڑی ہوئی ہے۔ جس کے تحت عورت اگر مردوں کے اصولوں پر مروجہ معاشرے میں اپنے پورے قد سے ڈٹ کر کھڑی ہو تو اسے آپ قابلِ عزت نہیں بلکہ قابلِ نفرین گردانتے ہیں۔ کیونکہ آپ کو صرف وہی عورت قابلِ عزت معلوم ہوتی ہے جو آپ کے گھر رہتی ہے۔ باقی سب عوامی ملکیت کی وہ اشیاء جنہیں آپ جب، جہاں اور جیسے چاہے، رگیدیں! اسے ثابت کرنے ہمارے پاس مثالوں کی کوئی کمی ہے تو نہیں۔

باقی جو خواتین سیٹیں جیت کر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی ہیں، ڈوریاں تو ان کی بھی آپ ہی ہلاتے ہیں۔پھر جن کی نہیں ہلاتے، ان کی آپ کردار کشی کرتے ہیں۔ سو منبر پر بیٹھ کر بھی آزادانہ فیصلے کا اختیار اگر عورت کے ہاتھ میں نہیں تو اسے پتلی تماشہ کرنا نہیں چاہیے۔ تو کیا برا ہے اگر ہنزہ کی باشعور عورت ابھی آپ کے ہاتھ اپنی ذات کی ڈوریاں نہیں دے رہی!

ویسے بھی ایک ہنزہ ہی کیا پورا گلگت بلتستان کا معاشرہ عورت کی شخصی آزادی کے مفہوم سے نابلد ہے. کجا کہ سیاسی آزادی کو ہضم کرے۔ اور پھر عورت کو محکوم و محروم رکھنے کا یہ عمل آپ کے گھر سے ہی تو شروع ہوتا ہے جب آپ کی عورت، گھریلو سطح پر کسی معاملے میں اپنی رائے قائم کرے یا فیصلے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے اور آپ اسے روک لیتے ہیں۔ آپ کی پدرسری تربیت اور سوچ اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ عورت کو معاشرتی، معاشی یا پھر گھر کی دہلیز پر ہونے والے معمولی فیصلوں میں مکمل اختیار دیا جائے۔

سو آپ کے لیے مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ ننانوے فیصد خواندگی کا ڈھول پیٹتے رہنے سے بہتر ہے اپنی سوچ کو بدلیں اور عورت کو سیاست سمیت ہر شعبہ زندگی میں اعتماد سے قدم رکھنے اور کامیاب ہونے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ خود کو عورتوں کے حقوق کا حامی کہلوانے، روشن خیالی پر مذاکرے کرنے اور اس میں شریکِ کار کی حیثیت سے واہ واہ سمیٹنے سے اچھا ہے کہ اپنے اطراف جھانک کر دیکھیے اصل زندگی میں ہو کیا رہا ہے۔ اپنے گھروں میں پنپنتے رویوں پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالیں گے تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ آپ کی خواتین سیاست کی طرف کیوں نہیں آرہیں؟ اور انصاف قائم کرنے کی زیادہ ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں