زرعی اصلاحات اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کا نعم البدل نہیں

تحریر: آصف ناجی ایڈووکیٹ 

دو اہم معاملات گذشتہ کچھ عرصہ سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہیں۔ بہت سے لوگ دونوں کے درمیاں فرق کو نہیں سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کا نعم البدل سمجھتے ہیں۔ زرعی اصلاحات اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کا نعم البدل نہیں ہے۔ دونوں کی اہمیت اور فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اؤل الذکر کا تعلق زمین کی ملکیت کی ایک حد مقرر کرکے زائد زمین اور غیر آباد زمینوں کو بے زمین لوگوں میں تقسیم کرنا ۔جب کہ اخر الذکر کا تعلق گلگت بلتستان میں غیر مقامی آباد کاروں کی زمین کی خرید وفروخت اور ملکیتی حق اور کاروبار پر پابندی سے متعلق ہے تاکہ مقا می پشتنی باشندوں کو ان کی زمینوں اور وسائل پر ملکیتی حق کا تحفظ ہو

اسٹیٹ سبجیکٹ رولزاور زرعی اصلاحات کو آپس میں گڑ مڑ نہیں کرنا چاہئے ۔ اسٹیٹ سبجیکٹ رولزکا اطلاق صرف حکومت اور ریاست پر نہیں عوام پر بھی ہوتا ہے جب کی لینڈ ریفارمز میں عوام میں زمین کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا مقصد ہوتا ہے اور دوسری طرف سرکار کی ملکیت میں پڑی زمین کو عوام کو منتقل کرنا ہے۔ اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کے بعد بھی لینڈ ریفارمز کی ضرورت رہے گی

دراصل خالصہ / ڈوگرہ بندوبست میں خالصہ زمین اجتماعی ملکیت کے طور پر ریاست کے پاس محفوظ رہتی تھی اور ریاست یا حکومت نوتوڑ بنجر شگافی کے ذریعےمسلسل متعلقہ دہیہ کے لوگوں کو ان کے ضروریات کے مطابق دو سال کے اندر قابل کاشت بنانے کی شرط پر پانی کے حقوق کا تعین کر کے منتقل کر کے دیتی رہتی تھی ۔ اس لحاظ سے ڈوگرہ سرکار نے گلگت بلتستان میں انقلابی اصلاحات کی تھی جس کی وجہ سے کمزور لوگوں کی زمینیں طاقت ور لوگوں کی قبضہ گیری سے محفوظ رہیں۔

گلگت بلتستان میں بندوبست کا آغاز ہی مہاراجہ ریاست جموں کشمیر و تبتہا ا (لداخ بلتستان و گلگت) نے غالباً کریس گانگچھے کے مقام پر ایک بوڑھی عورت کی شکایت پر کیا تھا۔ اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کی بحالی کی صورت میں بھی اداروں اور طاقت ور افراد کی قبضہ گیری پر حد لگانے کا کوئی طریقئہ کار وضع نہیں کیا گیا ہے ۔ جس کی واضح مثال سابق راجاؤں، ان کے وزیروں اور کچھ نمبر داروں کے پاس ہزاروں کنال زرعی و بنجر زمین ہیں اور اکثریتی عوام کے پاس چند مرلہ بھی نہیں ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکثریتی لوگوں کے پاس چند مرلہ بھی نہ ہو اور چند خاندانوں کے پاس ہزاروں کنال کیوں؟اور جن خاندانوں کے پاس خانگی تقسیم در تقسیم کے بعد رہائشی و زراعتی مقصد کیلئے زمین نہیں ہے ان کو زمین کون دے گا ؟

نو توڑ سے لے کر انتقال تک کیلئے بیرون لینڈ خالصہ زمین کلیکٹرز کی رحم و کرم پر ہوتا ہے ۔ کلیکٹرز یعنی اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ، چیف سیکریٹری وغیرہ ۔ ان عہدوں پر مقامی لوگ نہیں ہوتے اور کچھ نادیدہ قوتیں لاکھوں کنال اراضی خالصہ اراضی انہیں کلیکٹرز کے رحم و کرم پر رکھنا چاہتی ہیں تا کہ بوقت ضرورت عظیم تر قومی مفاد میں گمبہ سکردو ایئر پورٹ ایریا اور مقپون داس کی طرح ہڑپ لیں ۔

یہاں ایک بات بہت اہم ہے لینڈ ریفارمز کون کرے ؟ لینڈ ریفارمز بیروکریسی کے ایما پر نہیں ہونی چاہئے محلہ گاؤں موضع کی پنچائیت عوامی نمائندوں کے زریعہ اور ان کی سفارشات پر خالصہ / بیرون لینڈ زمین کی متعلقہ مواضعات محلہ جات گاؤں کے اسامیوں کے نام منصفانہ طور پر انتقال ہونا چاہئے۔ ورنہ کچھ داس تھنگ پر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی بحریہ ٹاؤن سمیت بڑی چھاؤنیوں کے قیام کیلئے نظریں لگی ہوئی ہیں اور اسٹیٹ سبجیکٹ رولز پر عمل ہو نہیں رہا. اس وقت خالصہ بیرون لینڈ زمین کا مالک چیف سیکریٹری بنا ہوا ہے۔

چڑیا کے كهیت چگنے سے پہلے حق پرست / قوم پرست تنظیمیں اور رہنما مل کر بیٹھیں سوچ بچار کریں کوئی لائحہ عمل طے کریں ہم دن بھر عدالتوں میں اندرون لینڈ اور بیرون لینڈ بندوبستی و چراگاہ زمینوں کے کیسوں میں الجھے رہتے ہیں اور بیرون لینڈ / خالصہ کے نام پر پڑی زمین کا کیا حشر ہوتا ہے بہتر جانتے ہیں ۔ مزید جاننے کیلئے مقپون داس چھومک اولڈینگ تھنگ گاہوری تھنگ ایئر پورٹ گمبہ سکردو کے متاثرین سے رابطہ کریں۔


ایڈووکیٹ آصف ناجی ینگ لائرس فورم بلتستان کے صدر، ترقی پسند قوم پرست سیاسی کارکن اور کالم نگار ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں