سانحہ ہندرپ اور طالبان

تحریر: تنویر عباس

شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل شیخ (مفتی عام مملکت سعودی عرب) جس کا ترجمہ مولانا محمد ابراہیم عمری نے کی ہے کے مطابق "اپنے ناجائز مقاصد منوانے کے لیے مدمقابل پرسختی اور زبردستی کا نام دہشت گردی ہے۔”

اب اس تشریح کو لے کر چلیں تو ہندرپ واقعے میں ملوث آفرین یا بقول ناجی کے مرحبا کا اقدام دہشگردی کے ذمرے میں آتاہے۔
ہندرپ واقعے میں چار طرح کےکردار نظر آتے ہیں ان میں سرِ فہرست تو خود آفرین ہے جو کہ اس دہشتگردانہ واقعے کا زمہ دار ہے۔

اسی طرح دوسرا کردار ان وارثین ، اہلِ علاقہ اور ان لوگوں کو کا ہے جو نہ صرف اس واقعے کی مزمت کرتے ہیں بلکہ اس کی مزمت کرتے ہیں بلکہ اس کو دہشگردی سمجھتے ہیں اور طالبان جو کہ دہشتگردی کے لیے مشہور ہیں کی طرح کا اقدام سمجھتے ہیں۔

تیسرا کردار کچھ ایسے لوگوں کا ہے جو اس واقعے کی مصلحتً یا حقیقتً اس کی مزمت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ واقعے میں ملوث کرداروں کو دہشتگرد یا طالبان نہ سمجھا اور کہا جائیے۔ ان کرداروں سے یہ کہونگاکہ شرارتی بچے کو جس طرح شیطان کہا جاتا ہے اسی طرح دہشتگردی کرنے والے کو دہشتگرد اور طالبان ہی کہا جائیے گا اب ان کو فرشتہ کہنے سے تو رہے ہم۔ طالبان کہنے پر ایک اور اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ پورے کوہستان کو طالبان نہ کہا جائے ان کا یہ مطالبہ صد فی صد صحیح ہے کہ کچھ شرپسندوں کی وجہ سے پورے علاقے کو القابات سے نوازنا کہیں کی بھی دانائی نہیں۔ ہاں البتہ جو بھی اس واقعے کی میں ملوث کرداروں کی جانی ،مالی یا کسی بھی طرح کی مدد کرے یا اسے درست سمجھے اس واقعے میں ملوث سمجھا جائے گا اور وہ بھی دہشتگرد کہلائےگا۔
ان حضرات کا ایک اور اعتراض یہ بھی ہےکہ ماضی میں ہونے والے واقعات کا زکر نہ کیا جائے تو ان سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ہسٹری کو ڈلیٹ کر سکتا نہں تو جب بھی ایساکوئی رونما ہومحقق ماضی سے اس کی کڑیاں ضرور ملائے گا تاکہ مجرم کی ہسٹری جانچ سکے۔۔ اگر پھر بھی آپ کو اعتراض ہو تو تاریخ سے ایسے پننےمٹا دیں اگر مٹا سکیں۔
اب آتے ہیں آخری کردار جن کو اس سانحے نے ذرا بھی متاثر نہں کیا وہ اپنی نفسانفسی میں مصروف ہیں۔ ان کے نزدیک اس سانحے کی کوئی اہمیت ہی نہیں یا ان کے پاس ٹائم نہیں کہ وہ اس بارے میں کچھ سوچ سکیں۔۔ ان کرداروں میں سرِفہرست سیاسی لوگ ہیں جو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں۔ ان کےلیے یہی کہونگا

میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

نوٹ: ایک اہم کردار ان صحافی حضرات کا بھی ہے جو افواہیں پھیلاتے ہیں مگر وہ ان چاروں کرداروں میں دب جاتے ہیں.
سینیر صحافی فرمان علی کا کہنا ہے کہ غذر پولیس کے اعلی افسران کا مشکوک کردار اور دہشتگردوں کی پشت پناہی اور نرم گوشہ رکھنا اور کچھ صحافیوں کا کردار ان کو مغویوں کے تصاویر کی فراہمی، افواہوں کے زریعے عوام کو احتجاج سے باز رکھنے کی کوشش کئی سوالات کو جنم دیتی ہیں. جس کی تحقیقات ہونا چاہئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں