سلطان نذیر کی کراچی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہرے

مظاہرین کا طالبعلم کے قاتلوں کی گرفتار ی کے بعد عبرتناک سزا اور مقتول کو انصاف مہیا کرنے کا مطالبہ

بام جہان رپورٹ

ہنزہ /گلگت/کراچی

منگل کے روز کراچی میں پولیس کے ہاتھوں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم کی ہلاکت کے خلاف ہنزہ، گلگت اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے اور ریلی منعقد کئے گئے۔ جس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کیں۔
مظاہرے کی کال عوامی ورکرز پارٹی ہنزہ ، خان آباد کے نوجوانوں اور دیگر طلبہ تنظیموں نے دی تھی۔

ہنزہ میں ایک بڑا ریلی عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماء بابا جان کی قیادت میں ناصر آباد سے شروع ہو کر 10 گاڑیوں کے قافلے کی شکل میں مرکزی تجارتی ٹاون علی آباد پہنچے جہاں دیگر تنظیموں کے رہنما اور کارکن اس میں شامل ہوئے اور ایک بڑی ریلی کی شکل اختیار کیں۔

ریلی کے شرکاء نےکالج چوک سے لے کر ہسپتال چوک تک مارچ کیا ۔ شرکاء ہاتھوں میں بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر سلطان نذیر، اسامہ ندیم ستی اور مچھ بلوچستان مین 11 ہزارہ کانکنوں کی ہلاکتوں کے خلاف نعرے درج تھے ۔ نوجوان دہشت گردوں اور پولیس اہلکاروں کی گرفتاری اور متوفیوں کے ورثاء کو انصاف اور معاوضہ فراہم کرنے کامطالبہ کر رہے تھے ۔
احتجاجی مظاہرہ کی کال عوامی ورکرز پارٹی ہنزہ نے دیا تھا جس میں اے ڈبلیو پی کے رہنماوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد کے علاوہ ، پی پی پی، مسلم لیگ ن، اور تحریک انصاف کے رہنماء اور کارکن، تاجر برادری اور دیگر سماجی تنظیموں کے کارکن بھی شریک ہوئے۔
ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سلطان نذیر کے والدین سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ نوجوان طالب علم جو اپنے والدین کے بڑھاپے کا واحد سہارا تھے ، کے قا تلوں کو فل فور گرفتار کیا جائے اور عبرت ناک سزا دی جائے ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزا نہین دیا گیا تو پورے گلگت بلتستان اور پاکستان کت دوسرے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کریں گے۔
انہوں نے ریاستی اداروں کو خبردار کیا کہ اگر گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے ساتھ ظلم و جبر کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو وہ بھرپور احتجاج شروع کریں گے۔

کامرید بابا جان دیگر سیاسی رہنماؤں کے ستاھ

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو ہر حکومت نے معاشی، سماجی، تعلیمی، اور دیگر شعبوں میں نظر انداز کیا گیا اور پسماندہ رکھا گیا ہے ۔ جس کے نتیجے میں علاقے میں بے تحاشا بے روزگاری اور غربت ہے۔ اور نوجوان تعلیم اور روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے حتیٰ کی ان کو جان کو تحفظ حاصیل نہیں ۔ ائے دن ہمارے نوجوان تشدد، اور دہشت گردی کے شکار ہوتے ہیں ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کی حکومت علاقے میں تعلیمی ادارے اور ہسپتال قائم کریں اور روزگار کے مواقع پیدا کریں تاکہ ہمارے نوجوان اپنے ابائی علاقوں سے شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور نہ ہوں۔

گلگت میں بھی ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو گلگت بلتستان اسمبلی سے شروع ہوا اور گلگت پریس کلب کت سامنے اختتام پزیر ہوا ۔ ریلی میں عوامی ایکشن کمیٹی ، عوامی ورکرز پارٹی، مسلم لیگ ن ، تحریک انصاف اور انجمن تاجران کمیٹی، شامل تھے۔ احتجاج کی کال خانہ آباد ہنزہ کے نوجوانوں نے دی تھی۔

مظاہرین کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران کمیٹی کے وائس چیئر مین مسعود کا کہنا تھا کہ یہ پہلا سانحہ نہیں اس سے قبل سینکڑوں نوجوانوں کو پاکستان کے مختلیف شہروں میں ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہے. انہوں نے کہا کہ اب وہ وقت دور نہیں کہ جب لوگوں کے ہاتھ ظالم حکمرانوں کے گریبان تک پہنچ جائیں۔ اسلئے پولیس کو ہوش کے ناخن لینا چاہئے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سعید یاسب الدین کا کہنا تھا کہ آج یہ ایک علامتی احتجاج ہے اگر مظلوموں کو انصاف نہیں ملا تو شاہراہ ریشم بند کرینگے۔

پی ٹی آئی کے نوجوان کارکن میر نواز میر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حکمران اور قانون کے محافظ گلگت بلتستان کےعوام اور نوجوانوں کے ساتھ ظلم کرنا بند کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ظلم سے ہی منظور پشتین جیسے مزاہمتی نوجوان پیدا ہوتے ہیں۔
عوامی ورکرز پارٹی کے نوجوان رہنماء نوید احمد کا کہنا تھا کہنوجوانوں کے لئے صحت، تعلیم اور روز گار کے ذرائع ان کی دھرتی میں ہی میسر ہونے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے حکمراں گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق اور بنیادی ضرورتیں نہیں دے سکتی تو یہ ظلم بھی نہ کرے۔
نوجوان سیاسی کارکن آفاق بالاور کا کہنا تھا کہ اس طرح کے سانحہ کے خلاف آواز بلند کرنے اور حقوق مانگنے پر غیر ملکی ایجنٹ اور غدار جیسے الزامات لگا کر ہراساں کیا جاتا ہے۔

مسلم لیگ ن کے نوجوان کارکن تتو کا کہنا تھا کہ اس مشکل گھڑی میں گلگت بلتستان کے عوام مرحوم کےخاندان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
کراچی میں بھی گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی بڑی نے تئسرے روز بھی پر امن احتجاج کیا اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ نامزد ملزمان کو فل فور گرفتار کریں اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردئ کی عدالت مین مقدمہ چلایا جائے۔

این ایس ایف گلگت بلتستان ، دیامر یوتھ آرگنائزیشن ، بالاورستان اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن اور دیگر تنظیموں کے رہنماء اور کارکن ہسپتال کے باہر جمع ہوئے تھے جہاں مرحوم سلطان نذیر کی میت پوسٹ مارٹم کے لئے رکھا گیا تھا اور میڈیکو لیگل لوازمات کو پورا کرنے کے بعد میت کو ان کے آبائی گاؤں خان آباد ہنزہ روانہ کیا گیا۔

ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان رہنماوں نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو ان کے شاندار اتحاد اور بھر پور طاقت کا مظاہرہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا جس کے نتیجے میں پولیس گردی اور گلگت بلتستان کے ایک بے گناہ نوجوان کو دہشت گرد ثابت کرنے کی ناپاک سازش کو بے نقاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اسی طرح مثالی اتحاد اور شعور کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ ریاستی جبر و استبداد اور علاقے پر مسلط نو آبادیاتی حکمرانی ، اور وسائل کی لوٹ مار اور استحصال کا خاتمہ کیا جاسکے ۔

این ایس ایف کے رہنماء عنائت بیگ نے کہا کہ وہ اپنا احتجاج اسی ظرح جاری رکھیں گے اور ہفتے میں ایک دن اور جس دن عدالت میں مقدمہ کی سماعت ہو اس دن عدالت کے سامنے علامتی احتجاج جاری رکھیں گے جب تک سلظان کو انصاف نہیں ملتا اور ملزموں کو سزا نہیں ہوتی۔

سانحہ کی تفصیل

کراچی پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں اتوار کو چار افراد کو مبینہ مقابلوں میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ تھا کہ یہ لوگ ڈاکو ہیں۔ان افراد میں گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ سلطان نذیر بھی شامل تھے ۔

ان کے چچا زاد بھائی سلیم اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پورے خاندان سمیت میٹروول کے علاقے میں اپنے کزن کے سوئم میں دعا کے لیے گئے ہوئے تھے، واپسی پر انھوں نے اپنے موبائل سے نذیر کے لیے ’بائیکیا‘ رائیڈ بک کروائی، کیونکہ اُنھیں گارڈن میں واقع اپنی رہائش گاہ جانا تھا۔

’اگلے ہی روز میں ڈیوٹی پر تھا تو گھر والوں نے بتایا کہ نذیر گھر نہیں آیا، میں نے بائیکیا سے کنفرم کیا کہ نذیر آپ کے ساتھ تھا وہ کہاں ہے۔ بائیکیا رائیڈر نے بتایا کہ حبیب بینک چورنگی پر بائیک کا پیٹرول ختم ہو گیا تھا، وہ دھکا دے کر آگے جا رہے تھے تو پولیس کی فائرنگ ہوئی وہ ایک طرف اور نذیر دوسری طرف چلا گیا، اس کے بعد کا اسے معلوم نہیں۔‘

سلیم اللہ بتاتے ہیں کہ وہ حبیب بینک چورنگی گئے جہاں اُنھوں نے پیٹرول پمپ پر جا کر معلوم کیا تو وہاں ایک ملازم نے بتایا کہ پولیس نے ایک بندے کو گذشتہ رات ہلاک کیا ہے۔

’سائٹ تھانے پر گئے تو وہاں پولیس اہلکاروں نے کوئی بات نہیں سنی، بالآخر ایس ایچ او آئے تو ان سے بات کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ڈکیت مارا ہے اور لاش چھیپا کے سرد خانے بھیج دی ہے۔ ایس ایچ او نے وہاں کھڑے کھڑے بھائی کو ڈکیت ڈکلیئر کر دیا۔ لگتا تھا کہ وہ وہاں ہی فائل بند کرنا چاہتے تھے۔‘

سلیم اللہ کی مدعیت میں دو پولیس اہلکاروں شبیر احمد اور جہانگیر کے خلاف قتل کا مقدمہ گذشتہ روز درج کر لیا گیا ہے۔ ان میں سے شبیر احمد کے بارے میں پولیس کا دعویٰ تھا کہ وہ اس مقابلے میں زخمی ہوئے ہیں۔

ضلع کیماڑی کے ایس ایس پی کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی کی سطح میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
سلیم اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سلطان نذیر کو ہنزہ سے آئے ہوئے دو ماہ ہوئے تھے، وہ یہاں کراچی میں صدر کے علاقے میں ایک کپڑوں کی دکان پر سیلز مین کا کام کرتے تھے اور بی کام کے پرائیوٹ پیپرز کی تیاری کر رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں