قرون وسطیٰ کی فارسی شاعرائیں رابعہ بلخی، مھستی گنجوی، جنھوں نے محبت کو ایک نئی زبان دی

بی بی سی

بی بی سی ریڈیو تھری کی خصوصی سیریز ‘سنہرا اسلامی دور’ کی اس قسط میں لندن یونیورسٹی کے سکول آف اورینٹل اینڈ ایفریکن سٹڈیز کی نرگس فرزاد فارسی زبان کی شاعراؤں رابعہ بلخی اور مھستی گنجوی کی زندگی پر روشنی ڈال رہی ہیں اور بتانے کی کوشش کی ہے ان کے زمانے کا بغداد کیسا تھا۔ بی بی سی ریڈیو تھری کی اس سیریز میں سنہ 750 سے سنہ 1258 تک کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس سیریز میں اس دور کے اہم واقعات اور شخصیات کے علاوہ فن تعمیر، طب کے شعبے میں کام، ایجادات اور فلسفے جیسے مضامین میں اہم پیشرفت کا ذکر ہو گا۔ بی بی سی اردو نے ریڈیو پر نشر ہونے والی اس سیریز کا ترجمہ کیا ہے۔

عرب مسلمانوں کے دو سو سالہ دورِ حکمرانی کے بعد پہلی نظر میں قرون وسطیٰ کے ایران میں شاعری کے منظرنامے پر صرف مرد چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چند نام لیے جائیں تو ان میں رودکی، فردوسی اور نظامی شامل ہیں۔ لیکن سنہرے اسلامی دور کے ادب میں دو اور نام بھی سامنے آتے ہیں جنھیں تاریخ نے یاد رکھا ہے اور شاہی دربار کے ہنگاموں میں زندہ رہ جانے والے یہ دونوں نام خواتین کے ہیں۔

ان میں سے پہلی خاتون شاعرہ رابعہ بلخی ہیں جو زین العرب کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں، یعنی ’عربوں کا حُسن‘۔ میں جان بوجھ کر ان کا ذکر کرتے ہوئے حال کا صیغہ استعمال کر رہی ہوں کیونکہ ان کی کہانی آج بھی زندہ ہے۔ افغانستان میں کئی نئے ہسپتال اور سکول ان کے نام سے منسوب ہیں اور والدین اکثر فخر سے اپنی بیٹیوں کا نام رابعہ رکھتے ہیں۔

ان کی درست تاریخ پیدائش کے بارے میں تو معلوم نھیں لیکن عام خیال ہے کہ وہ سنہ 940 میں آج کے افغانستان کے شہر بلخ میں پیدا ہوئی تھیں جو اس زمانے میں سامانیان سلطنت کا ایک پھلتا پھولتا دولت مند شہر تھا۔

ان کے والد کعب بلخ کے امیر تھے اور قوی امکان ہے کہ ان کے آباؤ اجداد عرب فوجی یا تارکین وطن تھے جو ان علاقوں کی فتوحات کے بعد سلطنت کے اس حصے میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔
ہمیں رابعہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں صرف سرسری معلومات ہیں۔ لیکن تمام شواہد بتاتے ہیں کہ وہ ادب اور آرٹ کے میدان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں اور اپنے والد کی بہت لاڈلی تھیں جو ان پر بہت توجہ دیتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ ان کے ہم عصر اور سامانیان سلطنت کے شاہی شاعر رودکی ان کے زبان پر عبور، فصاحت اور شاعرانہ تکنیک سے بہت متاثر تھے۔

خراسان کے علاقے میں لڑکیوں کا تعلیم یافتہ ہونا غیر معمولی بات نھیں تھی جہاں اسلام سے پہلے کے رسم رواج اسلام کے بعد بھی جاری تھے اور جہاں مخیر خاندانوں کی لڑکیاں بھی وہیں تعلیم حاصل کرتی تھیں جو لڑکوں کو دی جاتی تھی۔

رابعہ کی موت کے بعد صدیوں تک شاعر رابعہ کی خوبیوں اور حسن کے گن گاتے رہے خاص طور پر اس کی بڑی بڑی پلکوں والی سیاہ آنکھوں کے۔

رابعہ میں شاعری کا دیا غالباً اس کے بھائی کی فوج میں ایک ترک سپاہی کے لیے پہلی نظر میں محبت سے جلا تھا۔ اس کہانی کی شروعات رابعہ کے والد امیر کعب کے بیمار ہونے سے ہوتی ہے۔

امیر کعب نے اپنے بیٹے اور مستقبل میں ان کے وارث حارث سے اپنی بہن کا خیال رکپنے اور اس کی شادی خوبیوں اور حسب و نصب میں رابعہ کے برابر کے شخص سے کرنے کا وعدہ لیا۔

امیر کعب کی موت کے بعد حارث تخت نشین ہوا اور اسی سلسلے میں منعقد ہونے والی شانداد تقریبات میں سے ایک میں زنان خانے کی چھت پر بیٹھی رابعہ کی نظر اپنے بھائی کے قریب کھڑے اور شراب پیش کرنے والے ایک نوجوان پر پڑی۔ کا جاتا ہے کہ وہ اس کی خوبصورتی اور انداز سے بہت متاثر ہوئی۔

یہ بکتاش تھا۔ خزانے کی حفاظت پر مامور ایک نوجوان ترک سپاہی۔ شیکسپیئر کی رومانوی کہانیوں کی طرح اس سپاہی تک رابعہ کا پیغام پہنچانے کا کام اس کی آیا کے ذمے آیا۔ وہ رابعہ کے شاعری میں لکھے گئے محبت نامے بکتاش تک پہنچاتی رپیں۔

ایک خط میں وہ بکتاش سے ملاقات کے لیے التجا کرتی ہیں۔ ’تم جو ہر وقت سامنے ہو پر غائب ہو کدھر ہو، تم مجھے نظر انداز کر رہے ہو تم کدھر ہو، آؤ میری آنکھوں اور دل کو اپنے آپ سے سیر ہونے دو، اگر ایسا نھیں کر سکتے تو تلوار اٹھاؤ اور میری زندگی ختم کر دو۔‘

بکتاش کو نوجوان لڑکی کے سحر میں آنے میں زیادہ دیر نھیں لگی۔ پھر ایک روز محل کے سبزہزار میں ان کا آمنا سامنا ہو گیا۔ اس نے آگے بڑھ کر اس کی سکرٹ کے کنارے کو چھونے کی کوشش کی۔ انتہائی برہم اور مشتعل اور شاید خوفزدہ رابعہ نے کہ کسی نے انھیں دیکھ نہ لیا ہو اس کو پیچھے دھکیل دیا۔

بعد میں اس نے اسے غصے بھرا ایک پیغام بھی شاعری میں بھیجا۔ اس نظم میں اس نے بکتاش کو اس کی ’بدتمیزی‘ پر برا بھلا کہا اور حیرت کا اظہار کیا کہ اس نے اسے چھونے کی جرات کیسے کی؟ تم لومڑ ہو تم نے شیر بننے کی کوشش کیسے کی؟ تم میرے لباس کو چھونے والے کون ہوتے ہو؟ میرے لباس کو تو میرا سایہ بھی نھیں چھو سکتا۔

بعد میں آنے والے مبصرین کہتے ہیں اس سطروں سے واضح ہو جاتا ہے کہ رابعہ کی ترک فوجی میں جسمانی طور پر بالکل دلچسپی نھیں تھی بلکہ اس نے بکتاش سے محبت کے تصور کو روحانی محبت کے اظہار کے لیے استعمال کیا تھا۔ ایسا تھا یا نھیں، اس نے محبت نامے لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

ایک دن رابعہ کے بھائی نے اسے باغ میں اداس گھومتے ہوئے اور اپنی نظمیں پڑھتے ہوئے سن لیا۔ ’اے شام کی ہوا، جاؤ اور میری خبر اس ترک غلام تک پہنچا دو۔‘ ترک غلام کی شناخت کے بارے میں پوچھے جانے پر رابعہ نے اپنے بھائی کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے۔ لیکن شک کے بیج بوئے جا چکے تھے۔

اس کے کچھ عرصے بعد شہزادہ حارث بلخ کے امیر کے ساتھ موجود تھا اور وہاں ان کی بہن کی شاعری پڑھی جا رہی تھی۔ لیکن اس بار پڑھنے والے نشے میں ڈوبے ہوئے درباری تھے۔ اب انھیں کوئی شک نھیں تھا کہ ان کی بہن کی محبت کا مرکز بکتاش ہی تھا۔

بلخ پہنچتے ہی حارث نے بکتاش کی گرفتاری اور قید کا حکم دیا۔ رابعہ کو شاہی حمام میں بند کر دیا گیا اور اپنی کلائیاں کاٹنے کا حکم دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے مرتے ہوئے شاہی حمام کی دیواروں پر اپنی آخری نظمیں اپنے خون سے لکھیں۔ اس منظر اور رابعہ کی بچ جانے والی نظمیں شعراء کی آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی آ رہی ہیں اور اج بھی جہاں فارسی زبان بولی جاتی ہے وہاں ان کی نظمیں سنی جاتی ہیں۔

آج رابعہ کا نام خواتین کی جرات اور بہادری کی مثال بن چکا ہے۔ بلخ میں ان کا مزار جو طالبان کے دور میں بند ہو گیا تھا دوبارہ لوگوں کی حاضری کا مرکز ہے خاص طور پر نوجوانوں کی جو انھیں مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں۔

مھستی گنجوی: آذربائجان کی پہلی عظیم شاعرہ

رابعہ کی افسوسناک موت کے لگ بھگ 170 سال کے بعد بلخ سے تقریباً ایک ہزار میل مغرب میں گنج کے شہر میں ایک اور غیر معمولی خاتون شاعرہ مھستی کی پیدائش ہوئی۔ یہ شہر اب آذربائجان میں ہے۔ سلجوک بادشاہوں کی وسیع سلطنت جو سنہ 1037 سے 1194 سنہ تک قائم رہی اس میں یہ شہر فارسی فنون اور ادب کے کئی بڑے مراکز میں سے ایک تھا۔

اپنی پیشرو رابعہ کے برعکس مھستی شادی شدہ تھیں اور سلجوک دربار اور عام لوگوں دونوں میں انتہائی مقبول تھیں۔ تاہم دو بار انھیں بظاہر حکمرانوں کو ناراض کرنے کی وجہ سے جیل بھی جانا پڑا تھا۔

انھوں نے اپنی ایک نظم میں لکھا کہ ’میرے جیسے خوبصورت ہاتھ جو لطف سے جڑے ہیں انھیں چمڑے میں جکڑنے کی جائے سونے سے سجانا چاہیے۔‘ انھیں سلطان سنجار کے دربار میں شاہی شاعرہ کا درجہ حاصل تھا جن کا دور 1157 میں ختم ہوا تھا۔

ہمیں مھستی کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بھی بہت کم معلوم ہے۔ ان کے والد غالباً دربار میں ایک چھوٹے اہلکار تھے جنھوں نے اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی اور وہ 19 سال عمر میں زبردست موسیقار بن چکی تھیں اور انھیں ادب پر بھی دسترس حاصل تھی۔ موسیقی میں وہ ’لوٹ‘ اور ’ہارپ‘ کی ماہر تھیں۔

مھستی نے گنج کے ایک عالم کے بیٹے امیر احمد تاج الدین سے شادی کی اور کہا جاتا ہے کہ وہ بھی شاعر تھے۔ اسی لیے ان دونوں سے منصوب بہت سا کلام سیکس کے موضوع پر جس طرح کی گفتگو ہے جس کی میاں بیوی کے درمیان توقع کی جا سکتی ہے۔

ان کی زندگی کی زیادہ تر تفصیلات جن میں ان کے مبینہ عاشقوں، مذہبی اصولوں اور پدرشاہی معاشرے کے تقاضوں سے بغاوت کا ذکر ان کے ہم عصروں یا ان کے ایک صدی بعد میں آنے والے مؤرخوں سے سننے کو ملتا ہے۔

گھر کی چار دیواری میں محدود زندگی کے بارے میں وہ لکھتی ہیں ’آپ مجھے کسی بوڑھے آدمی کے ساتھ باندھ کر نھیں رکھ سکتے، ایک چھوٹے سے تاریک کمرے میں نھیں، وہ جس کے بال زنجیروں کی طرح لہراتے ہیں اسے گھر کے اندر زنجیروں کا پابند نھیں کیا جا سکتا۔ ‘

مھستی کی شاعری کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ اس میں آپ کا سامنا ہر شعبہ زندگی کے انسانوں سے ہوتا ہے۔ اس میں موچی، کپڑوں کے تاجر، کبوتر باز، قصائی، بیکر، جولاہے، ترخان، زیر تربیت طبیب سب ملتے ہیں۔ ان کی شاعری کا 12ویں صدی کے کسی بھی اسی صنف کے کلام سے موازنہ کیا جا سکتا ہے مثلاً رباعیات عمر خیام۔

مھستی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے شاعری میں اپنے دل کی سنی اور کسی کی پرواہ نھیں کی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سب نظمیں جو ان سے منسوب کی جاتی ہیں انھوں نے نہ لکھی ہوں۔ لیکن ان میں سے بہت سی نظموں میں ایک نسوانی احساس جو انھیں آپس میں ملاتا ہے۔

اس نظم میں وہ اپنے محبوب کو یاد کرتی ہیں جو انھیں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ ’وہ راتیں جب میں تمہاری آغوش میں سوتی تھی جا چکی ہیں۔ وہ موتی جو میں نے اپنی پلکوں سے چمکائے تھے جا چکے ہیں، تم میرے محبوب ساتھی اور روح کا مرہم تھے جا چکے ہو اور جو وقت میں نے تمہارے ساتھ گزارا تھا جا چکا ہے۔

مھستی کی شاعری میں اپنی ذات کے اظہار کے ساتھ ساتھ نہ دبنے والی طاقت پے۔ اس میں طنز اور مزاح ہے اور لذت پسندی کا پہلو ہے۔ یہی پہلو ان کی شہرت کا باعث بنے۔

آج گنجے میں ان کی یاد میں عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔ یونیسیف ان کی یاد میں 900 سالہ تقریبات بھی منا چکی ہے۔

رابعہ اور مھستی قرون وسطیٰ کے ایران کی صرف وہ دو خواتین شاعرائیں ہیں جنھیں یاد رکھا گیا ہے لیکن اس دور میں یقیناً اور خواتین بھی رہی ہوں گی جنھوں نے اس دور میں موسیقی اور ادب کے کلچر میں اپنا حصہ ڈالا ہو گا۔ لیکن ایسی خواتین کے کام کی کوئی نشانی موجود نھیں ہے۔

تاہم یہ واضح ہے کہ قرون وسطیٰ کی مسلم شاعراؤں کے لیے ورجینیا وولف کا ’منی اینڈ اے روم آف ہر اون‘ کا تصور درست عکاسی نھیں تھا۔ صدیوں تک مسلم شاعراؤں کی یا تو آواز تو خاموش تھی یا پھر ان کا کلام ریکارڈ نھیں کیا گیا۔

لیکن اس تمام عرصے میں رابعہ کے عشق کی افسوسناک کہانی اور مھستی کی شاعری 900 سال کی مردوں کی شاعری کی موجودگی میں توجہ حاصل کیے ہوئے ہے۔

یہ مضمون سب سے پہلے بی بی سی ریڈیو تھری کے پیج پہ شائع ہوا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں