سٹیٹ سبجیکٹ رول کے بحالی کی جدوجہد اورجبرکی داستان

گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کے بحالی کا مطالبہ کرنے والے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ظلم و جبرکا ایک باب

تحریر: شاھد ندیم

گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کے بحالی کا مطالبہ آج کل زور پکڑ رہا ہے اوراس پرمیڈیا میں بھی بحث شروع ہو گیا ہے. لیکن اس حوالے سے جدوجہد کرنے والے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے قربانیوں اوران کےساتھ جو ظلم وجبرروا رکھا گیا اس کی ایک طویل تاریخ ہے، جس سے نیئ نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے. میں یہاں اس درخشان جدوجہد کی تاریخ پر لکھی گیئی ایک اشاعت ممنوعہ کتاب کا ایک باب پیش کرنا چا ہتا ہوں.
سرکار کے حکم پرمنظور پروانہ کو بغیر کسی ایف آئی آر کے سٹی تھانہ گلگت کے لاک اپ میں پہنچایا جا چکا تھا۔ تھانے میں اچھی خاصی گہما گہمی تھی، مختلف ایجنسیوں کے کارندے ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھے- سرکار کی تھانہ میں آمد سے پولیس سربراہاں کی دوڑیں لگی ہوئی تھی۔ ایس پی نے کافی سوچ بچار کے بعد کپکپاتے لبوں سے سرکارسےعرض کیا۔ سراب گرفتار رہنماء کے ساتھ کیا کرنا ہے؟۔ ایف آئی آر درج کرنا ہے یا ایسے ہی رکھنا ہے۔
سرکار نے کہا انتظار کرو۔ ابھی کچھ حل نکالتے ہیں۔
تھانہ دار باباجان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا سرہم ایف آئی آرکے بغیر بندے کو حوالات میں نہیں رکھ سکتے- احسان علی ایڈووکیٹ گرفتاری کی وجوہات جاننا چاہتا ہے اورغیرقانونی حراست کامیڈیا کو پتہ چلا توگڑبڑہوجائے گی۔

سرکار نے ڈنڈا ٹیبل پرمارتے ہوئے کہا "کس اخباروالے کی جرات ہے کہ ہماری مرضی کے بغیرخبرچلائے۔ تمام اخبار مالکان اورصحافیوں کوسنبھالنا میرا کا م ہے۔ تم لوگ ایک فرد کو نہیں سنبھال سکتے تو میں اپنے ساتھ لے جاتا ہوں”۔
تھانہ دار نے کہا سرہم غیرقانونی طور پرکسی بے گناہ کو قید کر کے نہیں رکھ سکتے اورنہ ہی آپ کو دے سکتے ہیں. کیونکہ یہ شخص اب پولیس کی تحویل میں ہے”۔
سرکار کا پسینہ چھوٹ رہا تھا۔ اس نے اوپر نیچے تین چارکالیں کیں اورایس پی کو لے کرتھانہ سے چل پڑے۔
رات کے دو بجے منظور پروانہ کو حوالات سے باہر نکالا گیا۔ تھانے سے باہر لے جا کرپولیس کی ایک وین میں ڈال دیا گیا- شہرمیں اندھیرا اورسناٹا چھایا ہوا تھا۔ تھانہ دار ڈرائیور کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھ گیا اورمنظورپروانہ کوہاتھوں میں ہتھکڑی لگا کرایک پولیس والے کے ساتھ وین کے پیچھے بٹھا دیا گیا اورگاڑی شہرکی سنسان شاہراہ پر دوڑنے لگی۔
پندرہ منٹ گزرا ہوگا کہ گاڑی کو جیل گھاٹ کے قریب روک دی گئی اورمنظور پروانہ کو دوسرے تھانے میں منتقل کردیا گیا۔ اس نئے تھانے کا تھانہ دارموجود نہیں تھا۔
تھانہ داربابا جان نے محررکومخاطب کرکے کہا کہ ایس پی صاحب نے کہا ہے کہ اسے یہاں رکھنا ہے اور حوالگی کی رسید لے کرچل پڑے- ۔
تھانہ داربابا جان انتہائی خوش وخرم دکھائی دے رہا تھا، انہوں نے محبوس شخص سے مخاطب ہو کر کہا میں فارغ ہو گیا ہوں- اب آپ اس تھانے کے حوالے ہیں، میں چلتا ہوں۔ آگے نیا تھانہ جانے، تھانہ دار جانے، ایس پی جانے یا سرکار جانے۔
تھانہ دار کے چہرے سے یہ تاثر عیاں تھا کہ اس نے ایک بے گناہ مغوی سے اپنی جاں چھڑا لی تھی۔
گرفتاری کے بارہ گھنٹے میں منظور پروانہ ایک تھانہ سے دوسری تھانہ اورایک حوالات سے دوسرے حوالات منتقل ہو چکا تھا۔ کئی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ذاتی نوعیت کے معلومات لے کر چل پڑے تھے-
اگلی صبح منظور پروانہ کو تھانہ دار نے اپنے آفس میں طلب کیا وہاں ایس پی اور ڈی ایس پی پہلے سے موجود تھے۔ گرفتاری کے 18 گھنٹے بعد منظور پروانہ کو بتایا گیا کہ آپ کو "گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی بحالی اورسکردو تا کارگل روڈ کھولنے کا "ریاست مخالف مطالبہ” کرنے کے الزام میں با قاعدہ گرفتار کیا جا تا ہے۔
منظور پروانہ اب مغوی سے ملزم بن چکا تھا۔ تھانہ دارتیارشدہ ایف آئی آراورملزم کی اپنے تھانہ میں منتقلی سے خوش نہیں تھا- انہوں نے ایس پی سے تکرار کی کہ یہ کیس اسی تھانہ کے حوالے ہونا چائیے جس تھانے نے ملزم کو جلسہ گاہ سے اٹھایاہے۔
تا ہم ایس پی نے تھانہ دار کو جبرا منوایا اوروضاحت کی کہ سرکار کی یہی خواہش ہے کہ آپ اس کیس کو دیکھیں۔
تھانہ دار نے نہ چاہتے ہوئے ایف آئی آر پرملزم سے دستخط لئے۔
جب منظورپروانہ کو مقامی عدالت میں پیش کرنے کے لئے لے جایا گیا توان کے وکلاء، ساتھی اورکامریڈ بابا جان صدردروازہ پراستقبال کے لئے موجود تھے۔ کامریڈ بابا جان نے پروانہ کو گلے سے لگا کرحوصلہ دیا کہ حق پرستوں کو ظلم کی تاریک راتوں سے گھبرانا نہیں چائیے۔ جو بابا جان ایک جھوٹے کیس میں گرفتار شخص کو حوصلہ دے رہا تھا۔ گیارہ دن بعد اسے بھی ایک جعلی مقدمے میں گرفتار کرکے سونیکوٹ جیل لایا گیا۔
آجکل کامریڈ بابا جان اپنے سولہ ساتھیوں کے ساتھ گاہکوچ جیل میں ناکردہ جرم کی پاداش میں عمرقید کی سزا کاٹ رہا ہے۔
ظلم کا کوئی ملک، سرحد، مذہب اورعقیدہ نہیں ہوتا۔ ظلم سر حد کے اس طرف ہو یا اس طرف ظلم ہوتا ہے۔
(اشاعت ممنوعہ کتاب: زندگی بندو ق تلے سے اقتباس)

اپنا تبصرہ بھیجیں