سچ کا علمبردار پرویز ہود بھائی

تحریر: عبدالستار

ہمارے سماج کی بنت میں ایک باشعور اور باخبر ذہن کو خوش دلی سے قبول نہیں کیا جاتا کیونکہ ایسا ذہن صدیوں سے قائم شدہ سسٹم میں خرابی کا موجب بنتا ہے۔ اس قسم کا ذہن صدیوں سے قائم شدہ تصورات و نظریات کے اوپر سوال اٹھانے کی علت کا شکار ہوتا ہے۔ یہ ذہن جوابات کے پیچھے بھاگنے کی بجائے سوالات کرنا سکھاتا ہے۔ اس قسم کے اذہان معاشروں کی امامت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہمارے سماج میں بھی ایک ایسا ذہن بستا ہے جس نے بوسیدہ اور گھسے پٹے نظریات کو تقدیسی مچانوں سے نیچے اتار کر ان پر بڑے بڑے سوالات کھڑے کیے ہیں۔

علم و شعور کے اس نقارچی کا نام ”پرویز ہود بھائی“ ہے۔ جس نے ہماری نوجوان نسل کو ایک الگ ڈھنگ سے سوچنا سکھایا ہے۔ انہوں نے تنقیدی فکر و شعور کے کلچر کو بڑی جرا ت اور بہادری کے ساتھ ہماری نوجوان نسل میں پروان چڑھایا ہے۔ ہود بھائی نے آج کی باصلاحیت نسل کو یہ شعور دیا ہے کہ آدھے سچ بہت خطرناک ہوتے ہیں اور پورے سچ تک رسائی اور جاننا ہر ایک کا حق ہے۔ اس پورے سچ تک رسائی کے لیے ہمیں ”یس مین“ کلچر کو دیس نکالا دینا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ جو علم ہمیں سوال کرنا نہیں سکھاتا یا سوال کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ علم و نصاب بالکل ہی فضول ہے۔ ہمیں اکیسویں صدی میں نصابی روبوٹ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ”ڈاؤٹنگ تھامس“ کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں مطمئن دماغوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بے چین دماغوں کی ضرورت ہے جو قائم شدہ حدود و قیود کو من و عن تسلیم کرنے کی بجائے سوالات کی صورت میں اپنے شک و شبہ کا اظہار واضح طور پر کر سکیں اور امکانات کی قوس قزح میں نت نئے رنگوں کا اضافہ کریں۔

کچھ دنوں پہلے ہود بھائی نے ایف۔ سی کالج سے استعفٰی دے دیا اور وہ استعفٰی سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہو چکا ہے۔ ایک ایسا شخص جو اپنے شاندار تعلیمی کیریر کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک Distinguished intellectual کے طور پر جانا جاتا ہو اور جو دنیا کے کسی بھی مستحکم ملک میں اپنی زندگی انجوائے کر سکتا تھا مگر سب کچھ ٹھکرا کر اپنے وطن عزیز کے نونہالوں میں شعور کا دیا جلانے کے لیے کمربند اس شخص کو ایف۔ سی کالج نے یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ آپ کا تعلیمی ریکارڈ کالج کی ٹرم اینڈ کنڈیشن پر پورا نہیں اترتا، اس لیے آپ کو مزید ایک سال کے لیے برداشت کیا جاسکتا ہے اس سے زیادہ ہم آپ کو توسیع نہیں دے سکتے۔ ظلم و زیادتی کے آگے ہار نہ ماننے والے اس شخص نے ایک سال کا کنٹریکٹ اپنے استعفٰی کے ساتھ ایف۔ سی کالج کو واپس کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر اپنے استعفٰی کے اندر ان وجوہات کی نشاندہی کی ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ یہ ہتک آمیز برتاؤ کیا گیا۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔

1۔ ڈسٹینس لرننگ کے نام پر طلبا کو تیس سال پرانے نوٹس تھما دیے گئے ہیں۔
2۔ ایف۔ سی کالج کے پروفیسر محنت سے بچنے کے لیے پرانے نظام پر ہی گزارا کرنا چاہتے ہیں۔
3۔ کچھ عرصہ پہلے کالج کے کچھ حصہ کو شادی ہال میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

ہود بھائی نے واضح طور پر نشاندہی کی اتنے قدیم نوٹس طلبا کو مہیا کرنا ان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایک علم دشمن مافیا سرگرم ہے جو کہ سسٹم کو ”جوں کا توں“ رکھنا چاہتا ہے اور ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان پر کوئی سوال یا تنقید نہ کی جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاؤن سائزنگ کے نام پر جو ہتک آمیز برتاؤ ہود بھائی کے ساتھ کیا گیا ہے وہ ایک شرمناک رویہ نہیں ہے؟ ایک ایسا استاد جسے پوری دنیا سے ان کی تعلیمی خدمات پر بڑے بڑے ایوارڈز ملے ہوں، بہت ساری یونیورسٹیوں میں اعزازی لیکچرز بھی دیتا ہو اور دنیا میں اس کی رائے کو موثر جانا جاتا ہو کیا ایسے شخص کے ساتھ ایسا شرمناک رویہ انصاف پر مبنی ہے؟ یہ مضمون پہلے ‘ہم سب’ میں چھپ چکا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں