سی ایس ایس کا موسمی بخار اور فیس بکی ‘فلسفہ’

تحریر: رضوان قلندر

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سی ایس ایس ملک کی الیٹ بیوروکریسی کو جنم دیتی ہے اور ایک امتحان اور انٹریو سے کامیابی سے گزرتے ہی آپ اس ملک کے کم و بیش ٹاپ 25 فیصد میں شامل ہوجاتے ہیں- لیکن بات پھر انفرادی ترجیحات کی ہے- میرے اپنے تجربہ کی بنا پہ جب میں نے بھی ایک نہیں کئی دفعہ حامی بھری کہ اس سال امتحان میں بیٹھ جاؤں لیکن بیٹھ نہیں سکا، یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ امتحان کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے. البتہ بہت زیادہ محنت ,لگن اور یادادشت کی اشد ضرورت ہوتی ہے- اگر کوئی نوجوان اس شعبے میں جانا چاہتا ہو تو بیشک جائے اور یونیورسٹی شروع کرتے ہی اس بابت سوچنا شروع کردے –

لیکن معمہ یوں ہے کہ سال بھر حکومت اور افسر شاہی کو چور, غلام, نااہل، حرام خور اور دو نمبر جیسے الفاظ سے یاد کرنے والے سی.ایس.ایس کے موسم میں اپنے علاقے اور مسلک کے نوجوان نسل کو ناچنے گانے, انگریزی بولنے, سیاست کرنے اور فیس بکی فلاسیفی کا طعنہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں بیورکریسی اس علاقے کے مسائل کا واحد حل ہے اور یہاں عام آدمی کا سرکاری سطح پر مسلکی و علاقائی بنیادوں پر استحصال ہوتا ہے-

ہوسکتا ہے یہ خیال کسی حد تک صحیح ہو لیکن سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کسی بھی پیشے کا انتخاب کرنا ہر فرد کا انفرادی حق ہے اور کسی بھی شخص کو محض علاقائی مسائل کے حل کیلئے بلی کا بکرا نہیں بنایا جاسکتا-

دوسری بات یہ ہے کہ دنیا کے اندر کیرئیر یعنی روش اور روزگار کے روایتی انداز اب بدل گئے ہیں- مثلاً ہماری پچھلی نسل کو ایک ہی فن میں ایک حد تک تعلیم و ہنر حاصل کرکے اسی میدان میں نوکری مل جاتی تھی اور چونکہ حکومتیں سب سے منظم تنظیمی ڈھانچے ہوا کرتے تھے تو لوگ پکی نوکری کو ترجیح دیتے تھے جس میں بعد از سروس پینشن اور بعد از مرگ بھی خاندان کیلئے ایک آمدنی کا ذریعہ ہوتا تھا- ایسا آج بھی ہے لیکن لوگوں کے پاس سیکھنے کے مواقع بڑھ گئے ہیں اور لوگ ستر اسی سالہ زندگی میں کئی فنون سیکھتے ہیں اور مختلف شعبوں میں کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں –

تیسری بات جو کہ اتنا ہی اہم ہے وہ یہ ہے کہ جب تک گلگت بلتستان کا آئینی مسئلہ کسی طور حل نہیں ہوتا بیوروکریسی اور حکومت دونوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی سے ہی ہدایات ملتے رہینگے اور لاکھ مقامی بیوروکریٹس میدان میں آجائیں جبر و استحصال کے مسائل جوں کے توں رہینگے –

اس مسئلہ کا ایک مسلکی پہلو بھی یقیناً موجود ہے جس کی کڑیاں بہت پیچھے تک جاتیں ہیں. جب ایک پورے نسل کو مبینہ طور پر جعلی ہدایات کے بنا پر سیاست اور ریاست کے "شر” سے دور رہنے پر قائل کیا گیا اور تعلیم، صحت و دیگر ضروریات کے مسائل کا حل این جی اوز کی شکل میں پیش کیا گیا جو اب ان کے اگلی نسلوں کی لاشعور کا حصہ بن گیا ہے تو ایسے میں محض نوجوان نسل سے یہ توقع کرنا کہ وہ قومی اور ملکی سطح پر اپنی مستقبل کی منصوبہ بندی کریں شاید ناانصافی ہے-

آخری بات از راہ تفنن یہ بھی بتاتا چلوں کہ چند ایک کے علاوہ دوسروں کو سی. ایس. ایس نہ کرنے پر طعنے دینے والے بیشتر حضرات یا تو میری طرح خود اس امتحان کے پاس سے بھی نہیں گزرے ہیں اور اپنی خواہشات کو دوسرے پر تھوپنا چاہتے ہیں؛ یا پھر ان کو اپنے علاقے کے مسائل کی بنیادی وجوہات کا ادراک نہیں ہے- کچھ کو تو شاید سی.ایس.ایس کے فل فارم کا بھی پتہ نہ ہو لیکن تنقید برائے تنقید ضروری ہے. کیونکہ لاک ڈاؤن انٹرنیٹ اور کمبخت ذکربرگ کے اس جادوئی کتاب کو بھی ایندھن چاہئے اور اس کے ساتھ اگر خودخوشی بھی ہو کہ ملک و قوم و مسلک کے بھلا کا ایک جعلی احساس بھی ہو تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے!


رضوان کے قلندر پیشہ کے لحاظ سے محقیق ہیں. انہوں نے یونیورسٹی کالج لندن سے منصوبہ بندی، اور ڈویلپمینٹ میں گریجویشن کیا ہے. ان کو سیاسیات، ترقی اور سماجی تحریکوں سے دلچسپی ہے.

سی ایس ایس کا موسمی بخار اور فیس بکی ‘فلسفہ’” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں