شام سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے حکم نامے پر دستخط کردیے گئے

پاکستان اپ ڈیٹ : وزارت دفاع کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ شام سے فوج کے انخلاء کے حکم نامے پر دستخط کیے جاچکے ہیں جب کہ ذرائع کے حوالے سے بتانا ہے کہ حکم نامے پر مستعفی وزیر دفاع جیمس میٹس نے دستخط کیے۔ حکم نامے پر فوج کے شام سے انخلا کا شیڈول درج ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، البتہ بتایا جارہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں فوجیوں کی واپسی شروع ہوجائے گی اور اس مرحلے میں چند ہفتے لگیں گے۔20 دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں شام میں داعش کو شکست دینے اور فوج کی واپسی کا اعلان کیا تھا، ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم شام میں جنگ جیت چکے ہیں اور ہم نے دنیا کے لیے خطرہ بننے والی تنظیم داعش کو بری طرح مارا۔ امریکی صدر کے اعلان کے اگلے روز وزیر دفاع جیمس میٹس نے اپنا استعفیٰ صدر کو بھیجتے ہوئے ان کی کابینہ چھوڑنے کا اعلان کیا جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے ان کی خدمات کو سراہا۔ 2014 میں امریکی صدر باراک اوباما نے پہلی مرتبہ داعش کے خلاف شام میں فضائی آپریشن شروع کیا اور 2015 کے اواخر میں اپنے 50 فوجی بھیج کر شامی خانہ جنگی میں باضابطہ طور پر حصہ لیا۔ امریکی فوجی داعش کے خلاف لڑنے کے لیے شامی کردش ملیشیا اور جنگجوؤں کو تربیت دیتے اور آخری وقت تک داعش کے خلاف لڑنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 2000 تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں