شہر زاد: دانشور عورت کی علامت اور مرد مصنفین

تحریر: ناصر عباس نئیر


فکشن میں حدوں کو پہچاننے اور پھران کی شکست کرنےکا ملکہ پایا جاتا ہے۔ سب سے بڑی حد ہمارا مجروح تجربہ ہے۔ اس وضع کے تجربے کی اسیری آدمی کوخود نگر و خود پرست ہی نہیں، متشدد بھی بناتی ہے۔ اسےحتمی سچ سمجھ کر دنیا سے معاملہ کرنا حقیقی تشدد اوراسے دنیا کے سامنا لاناعلمیاتی تشدد ہے۔ “میرا تجربہ یہ ہے” ایک پر تشدد جملہ ہے اوران لوگوں سے ڈرنا چاہیے جو اپنے تجربے کو قانون بنانے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ ایک خاص وقت، خاص مقام اور خاص صورتِ حال میں وقوع پذیر ہونے والا تجربہ جب کسی شخص، قوم یا کسی زمانے کا واحد سچ بنتا ہے تو پامالی و غارت گری کو راہ دیتا ہے۔ ویسے تو ہر طرح کے تجربے کی اسیری، آدمی کی روح میں جاری اضطراب کا خاتمہ (Closure)ہے۔ اس اضطراب کے بغیر آدمی مٹی کا ڈھیر ہے۔ دوسروں کے راستے کی رکاوٹ اور ان کی ٹھوکروں کا نشانہ۔

آٹھویں صدی کے بغداد میں گم نام مصنفوں کے ذریعےتصنیف ہونے والی عربی داستان”الف لیلہ ولیلہ” مجروح تجربے کی اسیری اور روح میں جاری اضطراب کی داستان ہے۔ ایک کی نمائندگی شہریار اور دوسرے کی شہرزاد کرتی ہے۔ یہ داستان آج بھی ہماری یادداشت میں ابدیت کی علامت بن کر موجود ہے۔ اور یہاں “ہم ” سے مراد دنیا بھر میں ادب سے وابستہ اور کہانیوں کا شوق رکھنے والے لوگ ہیں۔ اس کی مقبولیت کے اسباب کئی ہیں۔ کہانی کو اس طور بیان کرنا کہ سننے (یا پڑھنے) والا ایک تخیلی سفر پر چلنے سے خود کو روک نہ پائے اور سفر بھی ایسا کہ اس میں حیرت، طلسم، لالچ، بے وفائی، وفا، مہم جوئی، تشدد، انوکھی سرزمینیں، ناقابل یقین کردار اور ان کے محیر العقول کارنامے۔ غرض انسان کو اس کی اپنی دنیاکے سب ظلمت ونور سے اس طور آگا ہ کرے کہ سننے والا اپنے اندر رفتہ رفتہ اس دنیا کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کرے۔ لیکن بڑ ا سبب یہ ہے کہ شہر زاد نے شہر یار کے مجروح تجربے کی حد کو پہچانا اور ایک ہزار ایک راتوں کی صبر آزمائی کے بعد اس حد کو شکست کیا۔ شہر یار یقین کرنے پر مجبور ہوا کہ اس کے تجربے کی حد سے باہر بھی دنیائیں ہیں۔ وہ مطلق العنان بادشاہ ہونے کے اس دعوے پر نظر ثانی پر مجبور ہواجواسے اپنی مملکت کے ہر شہری کی جان کو اپنی ملکیت سمجھنے کی ترغیب دیتا تھا۔ اس کی مطلق العنانیت نے اسے ایک بدترین جہالت کا بھی شکار کیا تھا؛ وہ انسانی رشتے کے علم سے یکسر بے خبر تھا۔ تکبر اور جہالت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

ferdinand keller – scheherazade_und sultan schariar 1880

ذرا غور کیجیے۔ شہر یا ر کے دل کو بیوی کی بے وفائی نے مجروح کیا ہے۔ فاطمہ مرنیسی کے خیال میں اس کی بیوی کا یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ مسلمان بادشاہوں کےحرم کی حدیں کمزور اور قابل شکست تھیں؛ حرم ہی کی حد میں بادشاہ بیگم ایک حبشی غلام سے دن کے وقت، اپنی کنیزوں کی موجودگی میں اختلاط کر سکتی تھی۔ کیا حبشی غلام کا کردارکہانی میں یہ بتانے کے لیے لایا گیا ہے کہ حرم میں محصوری کی زندگی بسر کرنےو الی عورتیں، جنس کے ذریعے ایک ایسا سیاسی پیغام دیا کرتی تھیں جسے سننے کی تاب مردوں میں نہیں تھی؟ کیا حرم کی ان عورتوں کو صرف جنسی لذت نہیں، اپنے بادشاہ شوہر کی طاقت اور نگرانی کے نظام کو ایک کالے غلام (جو طاقت کی سیڑھی پر سب سے نچلے قدم پر موجود تھا) سےتہ وبالا کرنا مقصود تھا؟ شہر زاد کی شہرت کی چمک میں وہ غریب بھلا دی گئی۔ کیا سب بے وفا عورتوں کی یہی تقدیر ہے؟ قتل اور فراموشی۔

بادشاہ بیگم یہ سلسلہ جاری رکھتیں اگر شہریا ر کا بھائی شاہ زمان اسے نہ دیکھ لیتا۔ خود شاہ زمان نے یہی زخم کھایا تھا اور بھائی کے پاس یہی زخم بھلانے کے لیے آیا ہوا تھا۔ شہر یار نے شاہ زمان کی سنائی گئی “کہانی” پر اعتبار کیا۔ جتنی بڑی انا، اتنا ہی بڑا زخم۔ اپنے ہی حرم میں ایک طاقت ور ترین بادشاہ کی عملداری کا نہ ہونا، بہ یک وقت سیاسی شکست اور جذباتی صدمہ تھا۔ صرف مردانہ انا کو چوٹ نہیں لگی، شاہانہ اختیار اور وقار بھی مجروح ہوا۔ زخم گہرا تھا اور مسلسل گہرا ہونے کا احتمال رکھتا تھا۔ مہاتما بدھ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ہمیں زمانہ ایک زخم دیتا ہے، ہم اسی جگہ اپنی جہالت سے خود ایک نیا تیر پیوست کرتے ہیں اورزخم اور درد کو بڑھاتے جاتے ہیں۔ شہر یار نے ایک زخم میں روز ایک تیر پیوست کرنے کا غیر شعوری فیصلہ کیا۔ وہ بادشاہ بیگم سے ملنےو الے تجربے کا اسیر ہوا۔ دن کو شادی، رات بھر کی دلہن، صبح قتل۔ مسلسل شادیاں اور لگاتار اپنے مجروح دل میں انتقام کا ایک نیا تیر۔ یہاں تک کہ وزیر پریشان ہوا کہ اتنی دلھنیں کہاں سے آئیں؟

Hermann Emil Sprengel -Scheherazade

اس کی بیٹی شہر زاد آگے بڑھی۔ کم وبیش سب داستانوں میں بیٹیاں، مشکل وقت میں با پ کا ساتھ دیتی ہیں۔ باغ و بہار میں پہلے بصرہ کی شہزادی اورپھر آزادبخت کے قصے میں وزیر زادی۔ ( شیکسپیئر کے کنگ لئیر کی کارڈیلیا، بصرہ کی شہزادی کی مانند باپ کی خوشامد سے انکار کرتی مگر آخر میں وہی سہارا بنتی ہے) کم ازکم داستانوں نے بیٹیوں کی بہادری، علم اور خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو پہچانا ہے۔ شہرزاد کو اس کے باپ نے کئی کہانیاں سنائیں کہ وہ اپنے ارادے سے باز آ جائے مگر اس پر باپ کی کسی کہانی، کسی فہمائش، کسی التجا کا اثر نہیں ہوا۔ اس نے لائبریری چاٹی ہوئی تھی۔ متدوال علوم کی کتب پڑھ رکھی تھیں۔ اشراف خاندان سے تعلق تھا۔ خود شہر زاد کا لفظی مطلب اشراف نسل سے ہونا ہے (چہر، عربی ہے جس سے فارسی شہر بنا ہے۔ لفظی مطلب پیدا ہونا ہے؛ زاد کے معنی اعلیٰ نسل سے ہونا۔ بہ حوالہ فاطمہ مرنیسی)۔ اسے اپنی بات منوانا آتا تھا اور اپنی بات اور ارادے پر قائم رہنا بھی۔

وہ شہریار کے حرم میں پہنچ گئی۔ اسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ شہر یا ر کا مسئلہ جنس نہیں ہے۔ “شہر زاد، مغرب میں” کی مصنفہ فاطمہ مرنیسی کے خیال میں شہریار اپنے وجود سے کراہت میں مبتلا تھا۔ ایک بے وفا بیوی کے شوہر ہونے کی حقیقت اسے خود سے کراہت میں مبتلا کرتی تھی۔ لیکن شہر یار کے کردار میں کچھ اور باتیں بھی توجہ چاہتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ ایک بادشاہ اس دنیا کے بارے میں کتنا جانتا ہے جس پر وہ حکمران ہے؟ کیا اتنا ہی جتنا وہ اپنے حرم کے اندر ہونےو الے واقعات کے بارے میں؟ وہ براہ راست کچھ نہیں جانتا۔ وہ اپنی زیر نگیں دنیا کے علم کے سلسلے میں اپنے ان ماتحت لوگوں کا محتاج ہے جنھیں ہر وقت اپنی زندگی کا خوف لاحق ہوتا ہے یا عہدوں کا لالچ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی زندگی سے نہ صرف اس کا تعلق باقی نہیں رہا تھا بلکہ ناگزیر حقیقتوں کو سمجھنے سے بھی محروم ہوگیا تھا۔ وہ ایک رات کی دلہنوں سے کوئی جذباتی وابستگی قائم نہیں کرتا تھا۔ نہ ان سے وصال کی خوشی تھی نہ ان کے قتل کا غم تھا۔ زندگی کی ناگزیر حقیقتوں میں سے ایک بے وفائی بھی ہے؛ مرد اور عورتوں کی ایک دوسرے سے بے وفائی تکلیف دہ سہی، پر حقیقت ہے۔ دنیا میں چند مرد اور عورتیں گزرے ہیں جنھوں نے ایک دوسرے کی بے وفائی کو حقیقت سمجھ کر قبول کیا۔ ان میں ایک جوڑا سارتر اور سیموں دی بوا تھا۔

jean paul sartre and simone de beauvoir

شہر زاد نے سمجھا کہ شہر یار کو جنس کی نہیں، اس علاج کی ضرورت ہے جو اسے ناگزیر سچائیوں کو قبول کرنے کے قابل بنائے۔ اس نے شہر یارسے اس کی بیوی کی بے وفائی اور اس کے عورتوں کے مسلسل قتل پر کچھ نہیں کہا۔ کیا شہر زاد مغرب کے ماہرین تحلیل نفسی سے بہتر علم رکھتی تھی جو راست کسی تجربے کی جڑ تک پہنچنے کی سعی کرتے ہیں؟ (امید ہے خالد سعید یا اختر علی سید اس پر روشنی ڈالیں گے۔ )شہر زاد نے شہریار کی خواب گاہ میں موجود ہونے کے باوجود جنسی وصال کو مسلسل معرض التوا میں رکھنے کی تیکنیک اپنائی۔ اسے ایک ہزار ایک راتوں تک کہانیوں کے ذریعے خود ا س کے محدود تجربے سے باہر لے گئی۔ غالباً یہ انسانی تاریخ کا سب سے دل چسپ، انوکھا اور طویل نفسیاتی علاج تھا۔

شہر زاد کی کہانیاں دیکھیں تو ان میں قسم قسم کی کہانیاں ہیں۔ قدیم ہندوستان، یونان و چین وعرب و وسط ایشیا کی۔ محض ان کا دل چسپ ہونا اہم نہیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے شہر زاد نے شہر یار کو رفتہ رفتہ باور کرایا کہ ایک تجربے کی اسیر ی ان سب دنیائوں کو دیکھنے کے قابل نہیں رہنے دیتی جو ہمارے اندر اور باہر ہیں۔ ہمیں ان دنیائوں کاخالی علم نہیں چاہیے؛ انھیں دیکھنا بھی ہے۔ کہانیاں انھیں دکھاتی ہیں۔ کہانیوں کے پاس حقیقی دنیا کی نقل یا ا س کی مانند یا اس سے مختلف مگر زیادہ پر اثردنیاخلق کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ہم کہانیوں میں ان سب چیزوں کو زیادہ قریب سے، زیادہ وضاحت سے دیکھ لیتے ہیں، جن کے بارے میں ہمارے خیالات مبہم ہوتے ہیں۔ شاعری کا ابہام، اسے معانی سے لبریز بناتا ہے مگر آدمی کے خیالات کا ابہام خطرناک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر کہانی کا تعلق ہم سے ہے۔ قوم، نسل، مذہب، صنف، زبان انسانوں کے مابین دیواریں اٹھاتے ہیں ؛ صرف کہانیاں ہیں جو ہر دیوار عبور کرجاتی ہیں۔

خود الف لیلہ ولیلہ میں دنیا بھر کی کہانیاں جمع ہوگئی ہیں۔ کیسا عجیب واقعہ ہے کہ باغ وبہار” میں بصرہ کی کہانی اور کنگ لیئر کی کہانی ایک جیسی ہے۔ کیسے وہ مشرق سے مغرب پہنچی؟ ایسپ کی کتنی کہانیاں ہندوستان سے گئیں۔ پانچ ہزار سال پہلے کی گل گامش میں مذکور سیلاب کی کہانی کہاں کہاں نہیں پہنچی۔ شہرزاد نے شہر یا ر کو یہ سب دنیائیں (جن کا اوپر ذکر ہوا) دکھائیں اور اس کی خواب گاہ میں، فرصتِ شب کے عالم میں دکھائیں۔ اسے ایک تجربے کی اسیری سے آزادی دلائی۔ اس میں ایک اہم کردار اس کی کہانی کی تیکنیک کا بھی ہے۔ کہانی در کہانی۔

Fatima Mernisi

غور کریں تو جمالیات اور سیاست کہیں کہیں مل جاتے ہیں۔ مثلاً کہانی در کہانی کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ مطلق العنان بادشاہ مرکز پسند ہوتا ہے؛ وہ خود اپنی ذات کو سب سے بڑا مرکز بناتا ہے اور باقی سب کو مرکز سے بعید رکھتا (periphery) ہے۔ مغربی افسانے کی وحدتِ تاثر کی شرط، مطلق العنان بادشاہ کی مرکزیت پسندی کےمماثل ہے۔ شہر زاد نے اس مرکزیت کی نفی کی ہے۔ ایک کہانی کےکرداروں کی آگے طویل کہانیاں لکھی ہیں۔ نہ صرف مرکز کا خاصا ڈھیلا ڈھالاتصور پیش کیا ہے بلکہ سب کہانیوں کو پھر ملا بھی دیا ہے۔ الف لیلہ ولیلہ کی کہانیاںتنوع، تکثیریت اور کثیر آوازیت کی حامل ہیں۔

الف لیلہ ولیلہ کی داستان کا ایک ضمنی سبق دنیا بھر کے مردوں کے لیے ہے۔ یہ کہ مرد کی تباہی اور نجات کے مراکز ان کی خواب گاہیں ہیں۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ کیا سدھارتھ کی خواب گاہ میں بھی کوئی خاص واقعہ ہوا تھا؟ کیوں کہ وہ خواب گاہ ہی سے جنگل کی طرف نکلا تھا۔

شہر زاد صرف اپنے ملک کی عورتوں کی نجات دہندہ نہیں۔ وہ صرف شہر یار کی مملکت کی باقی ماندہ لڑکیوں کی جان، اپنی جا ن پر کھیل کر نہیں بچاتی بلکہ آگے کئی صدیوں تک وہ دانشور عورت کی سب سے طاقت ور علامت بنتی ہے۔ ایک طرف شہرزاد فکشن کی طلسمی طاقت کی نمائندہ ہے، دوسری طرف اس نے دنیا بھر کی تانیثی تحریکوں کودانشورانہ قیادت فراہم کی ہے۔ ادب کے ذریعے کٹھور، قاتل پدر شاہی نظام کو بدلنے کا استعارہ شہر زاد کے سوا کوئی نہیں۔

جدید مغربی فکشن پر اس کے اثرات غیر معمولی ہیں۔ Richard Van Leeuwen نے 2018 میں شایع ہونے والی اپنی کتاب The Thousand and One Nights and Twentieth-Century Fiction: Intertextual Readings میں مارسل پرائوسٹ، ولادی میر ناباکوف، ولیم فاکنر اور ٹونی موریسن کے یہاں اس داستان کے اثرات تلاش کیے ہیں۔ مغرب کی مصوری، فلم، اوپیرا پر بھی بہت اثرہے۔ لیکن یہ اثرات الف لیلہ ولیلہ کی کہانیوں کے ہیں یا اس کی تیکنیک کے۔ جیسے ناباکوف کے ناول Invitation to Beheading میں ایک قیدی کہانی سنانا شروع کرتا ہے اور اس کی زندگی کی بقا کا انحصار کہانی جاری رکھنے پر ہے۔ اس کی تیکنیک جو کہانی در کہانی کی ہے، اس سے جدید مغربی فکشن نے بہت کچھ سیکھا ہے۔

لیکن عجیب بات یہ ہے کہ شہر زاد کا کردار کئی مرد لکھنے والوں کے لیے پریشان کن رہا ہے۔ وہ شہر زاد کے نجات دہندہ ہونے کے تصور کو قبول کرنے میں دقت محسوس کرتے رہے ہیں۔ بعض کے لیے تو شہر زاد آسیب ثابت ہوئی ہے۔ ان میں سب سے اہم ایڈ گر ایلن پو ہے۔ اس نے اپنی کہانی”شہرزاد کی ایک ہزاردوسری رات کی کہانی “میں شہریار کے ہاتھوں اسے مروا دیا ہے۔ پو دکھاتے ہیں کہ شہر یار کو اس کی کہانیاں جھوٹ، بکواس اور خرافات لگتی ہیں۔ شہر یارکو پہلے کی مانند مطلق العنان، متکبر اور سنگدل دکھایا گیا ہے۔ وہ شہر زاد کو حکم دیتا ہے کہ بولنا بند کرے۔ اس کا سر جھوٹ سن سن کر درد کر رہا ہے۔ پو، شہریار کو یہ کہتے بھی دکھاتے ہیں کہ کیا شہرزاد اسے بے وقوف سمجھتی ہے کہ وہ شہرزاد کی جان بچانے کی چال کو نہیں سمجھ سکا۔

Intezar Husain

شہر زاد کے ساتھ پو، بس اتنی ہمدردی دکھاتا ہے کہ شہر زاد اگلی صبح اپنی موت کو وقار کے ساتھ قبول کرتی ہے اور یہ سوچتی ہے کہ بدقسمت شہریار ہے جو کتنے ہی اور ناقابل ِ قیاس مہموں کو جاننے سے محروم رہا۔ یعنی پو مانتا ہے کہ شہر زاد کے پاس، شہریارسے بڑھ کر کچھ تھا۔ ہم کہانیاں پڑھتے ہوئے کرداروں میں خود کو دیکھتے ہیں؛ کچھ کی کامیابی اور کچھ کی تباہی کی آرزو کرتے ہیں۔ پو، شہریار کے ساتھ ہے، شہرزاد کے ساتھ نہیں۔ اس کے لیے یہ قبول کرنا مشکل ہے کہ ایک عورت، اس بصیرت کی حامل ہوسکتی ہے جو مرد کے دل ودماغ کو بدل سکے۔ دانشور عورتوں کے لیے آج بھی ایڈ گر ایلن پو موجود ہیں۔

انیسویں صدی ہی کے ایک فرانسیسی ادیب Theophile Gautierنے ایڈ گر ایلن پو والا کام ہی کیا۔ شہرزاد کو اپنے ایک ناولٹ میں مار ڈالا کیوں کے اس کے پاس اب کوئی کہانی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ ایک کو شہرزاد کا بولنا اچھا نہیں لگا، دوسرے کو خاموشی۔ انتظار حسین، ان دونوں مغربی مصنفین کی مانند ظالم ثابت نہیں ہوئے، لیکن شہر زاد کا اطمینان سے جینا انھیں بھی پسند نہیں آیا۔ انھوں نے شہر زاد کی موت کو اس کی کہانیوں کی موت سے جوڑ کر دکھا دیا۔ افسانے “شہر زاد کی موت” میں دکھایا ہے کہ جب وہ شہریار کی بیوی بن کر نارمل زندگی بسر کرتی ہے تو کہانیاں بھول جاتی ہے۔ اس کی بھول کا مداوا اس کی بہن دنیا زاد کرتی ہے۔

شہر یار اس کی چپ اور اداسی کا سبب پوچھتا ہےتو وہ بتاتی ہے کہ “تو میری جان تو بخش دی مگر مجھ سے میری کہانیاں چھین لیں۔ وہ کہانیاں ختم ہوئیں تو سمجھو میری کہانی بھی ختم ہوگئی”۔ کیا انتظار صاحب کہانی اور جان کو لاحق خطرے میں کسی تعلق کو واضح کرنا چاہ رہے ہیں؟ کیا واقعی بڑا ادب لازماً کسی بڑے بحران کے وقت جنم لیتا ہے اور امن کا زمانہ ادب کے لیے سازگار نہیں؟ یا انتظار صاحب خود اپنی کہانی بیان کر رہے ہیں؟ “شہر زاد کی موت” ان کا آخری افسانوی مجموعہ تھا جو 2002میں چھپا تھا۔ خیر، شہر زاد تو نہیں مری مگر ایک عمومی اور ایک خصوصی سوال، مرد ادیبوں کی طرف سے شہرزاد کی موت کی آرزوسے ضرور پیدا ہوتا ہے۔ عمومی سوال:تاریخ کی بڑی علامتوں کی موت کی آرزو کب اور کیوں کی جاتی ہے؟ خصوصی سوال: عورت کے نجات دہندہ ہونے کا تصور بڑے بڑے تخلیق کاروں کی کس نفسی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے؟

بشکریہ: یہ مضمون پہلے ‘ہم سب’ میں چھپ چکا ہے


ناصر عباس نیئر اردو زبان کے نامور مصنف، نقاد، کالم نگار اور مضمون نگار ہیں۔ انہوں نے شاعری، ادبی نظریہ اور اردو ادب کے نوآبادیاتی مطالعہ, ساختیات اور مابعد جدیدیت اور اردو ادب پر ان کے اثر و رسوخ سے متعلق اہم کتابیں لکھیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں