شیخ محمد حسن جوہری ضمانت پر رہا،یادگار شہید سکردو پر والہانہ استقبال،کمشنر کی تبادلے کا مطالبہ۔

سکردو(ٹی این این) ممتاز عالم دین اور بلتستان یوتھ لائنس کے چیرمین شیخ محمد حسن جوہری گرفتاری کے چار روز بعد عدالت سے ضمانت سے رہا ہوگئے۔ اُن کی گرفتاری کے خلاف بلتستان کے عوام نے مسلسل پانچ دنوں تک سکردو میں دھرنا دیا اور بلتستان بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال کی۔آج عدالت سے اُنہیں ضمانت پر رہائی ملنے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اُنہیں قافلے کی شکل میں یاد گار شہدا لیکر آیا جہاں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا اور مظاہرین نے سکردو انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
استقبالہ جلسے سے بلتستان کے علمائے کرام،انجمن تاجران بلتستان کے رہنماوں، وکلاء برداری،گلگت بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن،پیپلزپارٹی،تحریک انصاف ،بلتستان یوتھ الائنس، عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان ،سول سوسائٹی بلتستان سمیت دیگر سماجی اور مذہبی شخصیات نے خطاب کیا اور شیخ حسن جوہری کی گرفتاری کو بلتستان کے امن خراب کرنے کی گہری سازش قراردے دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کمشنر بلتستان کو خصوصی مشن پر بلتستان لایا ہے اور وہ اپنے عزائم کیلئے بلتستان میں مذہبی اور لسانی فسادات پھیلانا چاہتا ہے جسے بلتستان کے عوام نے برُی طرح ناکام بنا دیا۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کمشنر بلتستان حمزہ سالک کو فلفور بلتستان سے تبادلہ کرایا جائے،مقررین کا کہنا تھا کہ یہ شخص جب سے کمشنر بن کر آیا ہے بلتستان کے عوام کیلئے فورتھ شیڈول اور مسلسل گرفتاریوں اور عوامی حقوق کیلئے پُرامن جہدوجہد کرنے والوں کیلئے عذاب بناہواہے جو بلتستان کے امن کیلئے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ بلتستان کے عوام سے مزید امتحان نہ لیا جائے اور کمشنر بلتستان کو بلتستان بدر کیا جائے بصورت دیگر مستقبل میں کسی بھی قسم کے صورت حال کا ذمہ دار مسلم لیگ ن کی حکومت پر عائد ہوگی۔
اس موقع پر شیخ حسن جوہری نے کہاکہ مجھے فخر ہے کہ میں قومی جدوجہد کرتے ہوئے جیل گیا جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ مجھے یادگار شہداء سے گرفتار کیا گیا کرپشن میں ملوث ، منشیات فروشوں اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد کو گھروں اور دفتروں سے چھاپے مار کر گرفتار کیا جاتا ہے لیکن مجھے اسی یادگار سے گرفتار کیا گیا جہاں میں ہمیشہ حقوق کیلئے آواز بلند کرتا رہاہوں میں نے جتنی باتیں کی ہیں شرعی قوانین کے اندر رہتے ہوئے کی ہیں شریعت میں سود حرام ہے تو میں نے کہاکہ سود حرام ہے شریعت شراب سے منع کرتی ہے تو میں نے بھی شراب نوشی کے خلاف بات کی شروعی قوانین جن جن سرگرمیوں سے روکتے ہیں میں ان سرگرمیوں پر تنقید کرتا رہوں گا میں کوئی جرائم پیشہ نہیں ہوں ورنہ گرفتار ی کے وقت میری جیب سے پستول یا چرس برآمد ہوتی میں نے کوئی سرخ لائن کراس نہیں کی حقوق کیلئے کٹ سکتا ہوں مگر جھک نہیں سکتا انہوں نے کہاکہ کرپشن مافیاز کمیشن مافیاز اور سود خوروں کیخلاف جہاد جاری رہے گا میں نے کبھی کوئی غلط بات نہیں کی ریاستی اداروں کو گالیاں دینے کی باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں ۔
مقررین نے عوام سے عہد لیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کے حوالے سے دو ٹوک فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کو متنازعہ بنیاد پر حقوق دینے میں تاخیر کرنے کی صورت میں بلتستان میں دھرنا جائے گا پہلے کی طرح لانگ مارچ کرنے سے بھی کسی قسم کی دریغ نہیں کرِیں گے۔
بشکریہ ٹی ٹی این

اپنا تبصرہ بھیجیں