شیڈول فور کا پہلا شہید

انجنئر منظور پروانہ

فرزند گلگت بلتستان ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنر مشاق احمد گلگت میں طویل علالت کے بعد شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گئے ہیں.
مشتاق احمد کو شہید لکھنے پر ہو سکتا ہے کہ چند لوگوں کے جبینوں پر شکنیں پڑ جائیں اور چند افراد فرط حیرت سے اس کی وجہ جاننے کے لئے بے تاب ہوں- مشتاق احمد کو شہید گلگت بلتستان اس لئے لکھ رہا ہوں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری آیام گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے وقف کر دی تھی، جس کی وجہ سے حکومت نے انہیں شیڈول فور میں ڈال کر ان کی نقل و حمل پر پابندی لگا رکھی تھی۔
مشتاق احمد شیڈول فور میں ہونے کی وجہ سے اپنی بیماری کی علاج کے لئے کسی ہسپتال نہیں جا سکتے تھے، لہذا انہوں نے ڈاک کے ذریعے ادویات منگوانی شروع کیں، انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ ڈاک سے آنے والی دوائی بھی ایک بار کھلی ملی اس کے بعد ان کی طبیعت بگڑنا شروع ہو گئی، حالات کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے انہوں نے ڈاک سے دوائی منگوانے کو بھی خیر باد کہہ دیا-
مشتاق احمد نے بستر مرگ پر بھی حق ملکیت پشتگان گلگت اور حقوق گلگت بلتستان کی مشن کو جاری رکھا، وہ شیڈول فور میں ہونے کی وجہ سے اپنا علاج نہیں کروا سکے کیونکہ سر کار نے ان کا شناختی کارڈ بھی منسوخ کر دیا تھا۔
کسی کو قتل کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ اسے گولی ہی مارا جائے، مشتاق احمد کو زندگی بچانے والی گولی سے محروم رکھ کر قتل کیا گیا اور وہ 16 نومبر کو جام شہادت نوش کر گئے۔
مشتاق احمد کی شہادت گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک اور المناک سانحہ ہے، اس کو سمجھنے کے لئے احساس کی ضرورت ہے، شیڈول فور وہ زہر قاتل ہے جو گلگت بلتستان کے فرزندوں کو غیر محسوس طریقے سے موت کی وادی میں اتار رہا ہے۔ آج مشتاق احمد زہر قاتل کا شکار ہوا ہے تو کل باری کسی اور کی بھی آسکتی ہے، اپنی باری کا انتظار کرتے رہیں اور مشتاق احمد شہید کے روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ پڑھتے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں