چترال بالا ضلع کے قیام کی خوشی میں بونی میں ادبی و ثقافتی پروگرام کا انعقاد


تحریر: کریم اللہ

ضلع چترال بالا کےباقاعدہ فنکشنل ہونے کی خوشی میں ضلعی ہیڈکوارٹر بونی میں کہوار قلم قبیلہ نامی ادبی تنظیم نے تحصیل نائب ناظم فخر الدین کے تعاون سے ادبی و ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا۔ پروگرام کے پہلے حصے میں ضلع چترال بالا کے قیام کے بعد علاقے کو درپیش مشکلات اور ان کے حل کے موضوع پر مختلف مقالے پیش کئے گئے. جس کی صدارت ماہر تعلیم مکرم شاہ، جبکہ مہمان خصوصی پی ٹی آئی چترال کے سنئیر رہنما رحمت غازی کررہے تھے۔

پروگرام کے آغاز میں چترال کے قدیم ترین ثقافتی پروگرام پھاستیک اور نوہتیک پیش کیا گیا جو دراصل شادی بیاہ کے موقع پر دلہا دلہن کے گھر پہنچنے کی خوشی میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ثقافت اب دھیرے دھیرے ختم ہوتا جارہا ہے، اس قسم کے ثقافتی سرگرمیو ں کے انعقاد کے ذریعے معدومیت کے خطرے سے دوچار ثقافتی ورثہ اور تہواروں کو محفوظ بنانے کی کوشیش ہورہی ہیں۔

اس پروگرام کے فنکاروں میں سے اکثریت ضعیف العمری کا شکار ہیں، جبکہ نوجوان نسل اس فن کو آگے لے جانے کے لئے تیار نہیں۔
مقریرین کا کہنا تھا کہ اگر ایسے ثقافتی سرگرمیوں کی سرکاری سطح پر سرپرستی نہ ہوئی تو یہ قدیم الایام فن کے معدوم ہونے کا امکان ہے. آنھوں نے حکومت وقت اور غیر سرکاری اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس فن کے ماہر فنکاروں کی سرپرستی کی جائےاور نوجوانوں کو اس طرف راغب کرنے کے لٰیے کوشیشں کیں جاٰیئں تاکہ نئے لوگ بھی اس فن کو سیکھ لیں۔

پروگرام کے دوسرےحصے میں کہوار محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں کہوار زبان کے نوجوان اور سنئیر شعراء نے بڑھ چڑھ کے حصہ لیا اور حاضرین سے خوب داد سمیٹ لیں.
مشاعرہ کے اختتام پر محفل موسیقی سجائی گئی جس میں قدیم کہوار موسیقی کے استاد بابا فتح الدین، میر ولی اور نوجوان گلوکار انصار نعمانی نے اپنے فن سے حاضرین کے دل موہ لئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں