طلباء تحریک کو نقصان مت پہنچائیں

تحریر: عامر حسینی

انگریزی روزنامہ ڈان میں طلباء میکجیتی مارچ کے فورا بعد ایک خبر شایع ہوئی ہے جس میں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ طالب علموں کی مشترکہ کوششوں سے لاہور میں بننے والی پروگریسو اسٹوڈنٹس کولیکٹو اور طلباء ایکشن کمیٹی کے کئی اراکین نے اس طلباء پلیٹ فارم کو باقاعدہ ترقی پسند سیاسی جماعت میں بدلنے کا فیصلہ کیا ہے-

اس خبر کا لنک لاہور سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے سرگرم رُکن فاروق طارق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک اور ٹوئٹر پر بھی شئیر کیا ہے-

جبکہ بعض ذرایع کا کہنا ہے بائیں بازو کی ترقی پسند سیاسی جماعت بنانے کے اس خیال کے پیچھے طبقاتی جدوجہد کے رہنماء ڈاکٹر لال خان اور غنوی بھٹو کے ساتھ کھڑے فرخ سہیل گوئیندی وغیرہ بھی ہیں-

نئی سیاسی پارٹی بنانا یا نہ بنانا ہر شخص اور گروہ کا بنیادی حق ہے اور اس حق کو چھینا نہیں جاسکتا تو ایسے ہی اس سے اختلاف کا حق بھی ہے-

مجھے تشویش اس بات پر ہے کہ جو طالب علم اور سابق طالب علم تعلیمی اداروں میں طلباء سیاست کے احیاء اور طلباء حقوق کے جدوجہد کی تحریک کے لیے سرگرم ہوئے تھے اور جنھوں نے نومبر میں لاہور کے اندر ایک نمائندہ اجلاس میں پروگریسیو اسٹوڈنٹس کولیکٹو بنائی تھی اور اگلے اجلاس میں جو اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں ایسی ترقی پسند طلباء تنظیمیں بھی شامل تھیں جو پہلے سے قائم سیاسی جماعتوں کا فرنٹ یا ذیلی ونگ تھیں تو اس وقت کسی ایک موقعہ پر بھی ہلکا سا اشارہ بھی اس امر کا نہیں دیا گیا تھا کہ پروگریسیو استوڈنٹس کولیکٹو یا ایس اے سی کے قیام کا مقصد طلباء تحریک کے چارٹر آف ڈیمانڈ سے ہٹ کر کسی سیاسی جماعت کا قیام بھی ہے-

طلباء ایکشن کمیٹی ترقی پسند اور قوم پرست طالب علموں کا چارٹر آف ڈیمانڈ کے گرد بننے والی ایک رابطہ کمیٹی ہے اور اس کا مقصد طلباء کے مطالبات کے گرد تحریک کی تعمیر ہے- اس سے ہٹ کر کسی اور طرف طلباء ایکشن کمیٹی یا طلباء ترقی پسند محاذ کو لیکر جانا شاگرد تحریک کو تعمیر کے پہلے مرحلے میں ہی اختلاف کا شکار کردینا ہے-

طلباء یونین کی بحالی طلباء ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا ایک جزو ہے- جبکہ اس چارٹر آف ڈیمانڈ میں دیگر اور نکات بھی شامل ہیں جن پر سرے سے بات ہی نہیں ہورہی-

میرے خیال میں سب سے پہلے تو طلباء ایکشن کمیٹی کی ملک گیر کوآرڈینیشن کمیٹی کا اعلان ہونا چاہیے اور ساتھ ہی اس کی صوبائی اور ریجنل کمیٹیوں کا بھی اور پھر ساتھ ہی ضلعی سطح کی ایکشن کمیٹی کا اعلان بھی کیا جائے اور پھر چارٹر آف ڈیمانڈ کو سامنے رکھ کر طلباء تحریک کو آگے لیکر جایا جائے-

ابھی تک طلباء ایکشن کمیٹی میں لاہور کا غلبہ ہے اس میں دیگر تین صوبوں اور سرائیکی علاقوں ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان سے بھی نمائندگی رکھنے کے ساتھ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کی نمائندگی بھی رکھی جائے اور اس کے لیے بہتر ہوگا کہ پہلے صوبائی طلباء ایکشن کمیٹی تشکیل پائیں اور وہ اپنا ایک ایک نمائندہ مرکزی طلباء ایکشن کمیٹی میں بھیج دیں-

طلبا ایکشن کمیٹی یا پروگریسیو اسٹوڈنٹس کولیکٹو کے نام پر بائیں بازو کی ایک نئی سیاسی جماعت کا ایڈونچر مت کریں، اس سے طلباء کاز کو سخت نقصان پہنچے گا-

اپنا تبصرہ بھیجیں