‘طلباء یونین کی بحالی: گلگت بلتستان کے وزیر اعلی کا اعلان خوش آئند ہے، شرائط قبول نہیں’

Representatives of different student organisations under Student Organising Committee after a meeting in Gilgit on December 20.

یونین کے عہدیداروں کے چناو، اور دیگر اہم مسائل پر فیصلہ سازی طلبہ کا حق ہے: طلباء آرگنائزنگ کمیٹیکے رہنمائوں کا اعلان۔

رپورٹ: نمائندہ بام جہان

گلگت: گلگت بلتستان کے طلباء تنظیموں کی آرگنائزنگ کمیٹی نے وزیر اعلی حفیظ الرحمن کی طرف سے طلباء یونین کی بحالی کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور اسے خوش آیئند قرار دیا.
کمیٹی نے تاہم وزیر آعلی کی جانب سے تین رکنی کمیٹی کے قیام اور شرائط پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا.
طلباء تنظیموں کے نمائندوں نے یہ بات ایک میٹنگ کے بعد کیں.
اجلاس میں میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، جی بی ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن اور دیگر طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کیں .
طلباء تنظیموں کی آرگنائزنگ کمیٹی کے میڈیا کوآرڈینیٹر کے ایک پریس ریلز کے مطابق میٹنگ کے شرکاء نے وزیر اعلی کی طرف سے گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں یونین کی بحالی کے اعلان کو خوش آئند قدم قرار دیا.۔
طلباء آرگنائزنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وہ یونین کی ساخت کے حوالے سے اپنی تجاوہز گلگت بلتستان کی حکومت کےسامنے رکھے گی۔
"ہم یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ چار دہائیوں کے بعد اقتدار کے اعلی ایوانوں سے طلباء کے حقوق کے بارے قانون سازی ہونے کے سہرا تمام طلبہ و طالبات کی جدوجہد کو جاتا ہے”۔ شرکاء نے طلبہ وطالبات کو اپنی جدوجہد باہمی اتحاد کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آرگنائزنگ کمیٹی کے رہنماوں نے تاہم یہ واضح کیا کہ وزیر اعلی نے یونین کی بحالی کے حوالے سے اپنی تقریر میں جو شرائظ پیش کئے ہیں، ان پر طلبہ کو تحفظات ہیں. انھوں نے کہا کی ان تحفظات کے جواب میں وہ اپنی تجاویز عنقریب وزیر اعلی کو پیش کریں گے۔
"ہمارے پاس یونین کی سٹرکچر کا ایک جامع تجاویز اور منصوبہ موجود ہے جس کے اطلاق کے لئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔
طلبہ آرگنائزنگ کمیٹی اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے اس ضمن میں مشترکہ اجلاس میں تفصیلی گفتگو کی۔ آرگنائزنگ کمیٹی کے اپنے تجاویز اور خدشات سے ایم ایس ایف گلگت بلتستان کے ترجمان اسلم پرویز اور گلگت ڈویژن کے صدر نوید اکبر کو آگاہ کیا۔ ایم ایس ایف کی قیادت نے وزیر اعلی کی جانب سے یہ بات رکھی کہ آرگنائزنگ کمیٹی اپنی سفارشات و تجاویز تحریری شکل میں وزیر اعلی کو پیش کریں۔ اجلاس میں جی بی ڈی ایس ایف کے رہنما ذوالفقار حسین، پی ایس ایف کے رہنما شہزاد الہامی اور این ایس ایف جی بی کے رہنماوں نوید حسین، عنایت ابدالی، رحیم خان، واجد جمعہ اور پیار علی نے شرکت کیں۔
یہ بات یاد رہے کہ 29 نومبر کو پاکستان کے دو درجن شہروں سمیت گلگت و بلتستان میں طلبہ یونین کی بحالی کے لئے طلباء یکجہتی مارچ اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے جس کے بعد سب سے پہلے سندھ حکومت نےصوبہ بھر کی تمام تعلیمی اداروں میں یونین کی بحالی کا اعلان کیا تھا اور صوبائی امبلی نے ایک بل بھی پاس کیا-
اس کے بعد دسمبر کے پہلے ہفتے کو گلگت بلتستان کے واحد اعلی تعلیی ادارہ قراقرم ینٹرنیشنل یونیورسٹی میں فیسوں میں اضافے کے خلاف، سستی اور معیاری تعلیم کی فراہمی اور 2011ء کے وزیر اعظم فیس ریفنڈ پرہگرام کے خاتمے کے خلاف احتجاج کئے اور گلگت شہر کے مظافات دنیور کے مقام پر قراقرم ہائی وے کو بند کردیا.

موجودہ حکومت نے 2011ء کے وزیر اعظم فیس معاوضہ اسکیم کو ختم کیا. جس کے نتیجے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے فیسوں میں اضافہ کیا. اس فیصلےسے گلگت بلتستان میں ماسٹرز ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے 950 سے زیادہ طلباء و طالبات متاثر ہوئے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں